Tuesday, April 16, 2024
پہلا صفحہ تبصرے فصیح باری خان کی شارٹ فلم 'ایک ڈیٹ' آپ کو چونکا سکتی...

فصیح باری خان کی شارٹ فلم ‘ایک ڈیٹ’ آپ کو چونکا سکتی ہے

فصیح باری خان کی لکھی ہوئی کوئی بھی چیز نہ تو روایتی ہوتی ہے نہ ہی سیدھی اور نہ ہی سماج کے مروجہ قوانین کے عین مطابق، کسی بھی فن پارے کے ماتھے پر فصیح باری کا نام لکھا ہو تو اس مصرعے کا یاد آنا عین فطری ہے۔ فصیح کی تحریر میں ٹیڑھ ہے ایسی ہی ٹیڑھ جیسی اس کائنات اور دنیا کی تعمیر میں دکھائی دیتی ہے ۔ کوئی ماہر سے ماہر سائنسداں یا دنیائے رنگ بو کی پرتیں اتارنے والا فلسفی اور مفکر اور دانشور یہ کہہ سکتا ہے کہ دنیا سیدھی اور سپاٹ ہے جہاں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے؟
اب اگر فطرت کا یہ حال ہے تو ایک فطری رائٹر کا یہ حال کیوں نہ ہو

سوچا تھا کہ اس شارٹ مووی کے بارے میں لکھنا وہاں سے شروع کروں جہاں سے ایک کیوٹ سا نوجوان لڑکا جس کے چہرے پر معصومیت کی مناسب مقدار موجود ہے جیسے اس قسم کے کرداروں کے لئے ضروری ہوتی ہے۔اور وہ غریب ایک برقع پوش لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا ہے اس محبت کا عرصہ حیات چند دنوں پر محیط ہے۔ انھی دنوں میں دونوں نے ملنے اور ڈیٹ مارنے ( ڈیٹ کو مارنے جیسے الفاظ عام سماجی بول جال کی پہچان ہیں) کا منصوبہ بنایا۔ لڑکا معصوم ہے اور اس بھاری غلط فہمی کا شکار ہے کہ برقع میں موجود لڑکی تو لازمی شرافت کی پوٹلی ہوگی، برقع اور داڑھیوں نے بڑے دھوکے کشید کئے ہیں معصومیت کو کیا پتا کہ ان لبادوں اور گیٹ اپ کے پیچھے اصل بھیڑئے چھپے ہوتے ہیں جو معصومیت کے ازلی دشمن ہیں۔ مجھے تو اس ویران اور ہرے بھرے درختوں سے اٹی سڑک کے منظر نے محصور و مخمور کرکے رکھا جہاں سے نہایت بے ڈھب سا یہ جوڑا گزر رہا ہے۔ ایسی ویران سڑکیں جن پر چاروں طرف سے فطرت فیاضی سے برس رہی ہو میری تو سمجھوروح میں اترجاتی ہیں۔ ممکن تھامیں اس سے آگے نہ بڑھتا اور ڈائریکٹر کے اس جمالیاتی ذوق کی تعریف میں رطب اللسان ۔وہیں رہ جاتا لیکن لڑکے کی معصومیت اور چال ڈھال نے میری بصیرت کو ان کے ساتھ چلنے کا اذن دیا اور میں چلا ان کے ساتھ۔ پارک کی ایک بینچ پر بیٹھے انھوں نے نہایت غیر رسمی گفتگو کا آغاز کیا۔ لڑکا اب بھی بالکل جلدی میں نہیں ہے اور لڑکی کو لڑکے کے ایسے ٹھنڈے جیسچر اندر سے مشتعل کررہے ہیں۔ وہ گالیوں سے اس کا سواگت کرتی ہے۔ تب لڑکا بہت ہی حماقت سے کہتا ہے لڑکیوں کے منھ پر گالیاں اچھی نہیں لگتیں۔ جبکہ لڑکی کا نام بھی امت الصبور ہو۔ کسی مڈل کلاس گھرکی پھپھوند زدہ کہانی کے کردار کی طرح۔ (یہ لڑکے نے نہیں کہا) تب لڑکے کی حیرت اس وقت دیدنی ہوجاتی ہے جب لڑکی اسے مذید ایسی کراری گالیوں سے متعارف کراتی ہے جو اس غریب عنقریب کنوارے لڑکے نے شاید خواب میں بھی نہ سنی ہوں۔ لڑکا اس بد مزگی کو زائل کرنے کے لئے لڑکی کے نام کے تعریف اس پیرائے میں کرتا ہے کہ” امت الصبور مولانا طارق جمیل کی کسی افسانوی حور کا نام لگتا ہے” میرے جیسے دیکھنے والے پر ہنسی کا دورہ پڑجاتا ہے شکر ہے یہ یوٹیوب پروڈکشن ہے جسے بار بار آگے پیچھے کرسکتے ہیں۔

لڑکی فی الفور لڑکے کے نام پر حملہ آور ہوتی ہے تب لڑکا اپنا اصل نام بتاتا ہے ” غفور قدوسی” ہنسی کا نیا فوارہ چھٹتا ہے۔
تب لڑکی اپنااصل نام بتاتی ہے” دردانہ لُنڈ” اور لڑکا اس “لُنڈ” پر بری طرح چونکتا ہے۔ پھر ہمواری کو برقرار رکھنے کے لئے انڈیا کی ایک فیشن ڈزائنر کا نام لیتا ہے جس کی کاسٹ ” لُنڈ “کے جڑواں بھائی کی تفسیر ہے۔ اب دونوں اپنی اپنی طلب کا ذکر کرتے ہیں لڑکا چائے کا طالب ہے اورلڑکی سگریٹ کی۔ اگلا سین لڑکی سگریٹ پی رہی ہے لڑکے کو سگریٹ پینے والی لڑکی اوپر سے برقع میں لپٹی ہوئی پردہ دار نیک پروین کے کاپی رائٹ کی مالک بالکل اچھی نہیں لگتی۔ وہ اپنی جانب سے نصیحت اور ڈراوے کو ایسی جگہ سے کھود کر نکالتا ہے کہ کم سے کم لمحے بھر کو ہی سہی لڑکی ڈر جائے۔ کہتے ہیں جو لڑکیاں سگریٹ پیتی ہیں ان کوبچہ پیدا کرتے وقت ڈیلیوری میں تکلیف ہوتی ہے۔ لڑکی زہر خند سے اس کی طرف دیکھتی ہے اور کہتی ہے” تم پچھلے جنم میں دائی تو نہیں تھے” ہنسی کا یہ نیا حملہ پیٹ کی نسیں تک دکھا دیتا ہے۔ ڈیٹ آگے بڑھتی ہے ۔ اب لڑکے نے اصل مقصد کی طرف پیش قدمی کی اور لڑکی سے یوں چوڑے میں ملنے جلنےسے اجتناب کرتے ہوئے کسی مخصوص جگہ کے بارے میں یاد دلایا۔ لڑکی اسے اپنی پٹی ہوئی ادائوں کے ساتھ مخصوص ویران جگہ پرلے کر جاتی ہے جو ایک اجاڑ ڈھنڈارشکست خوردہ سی یک منزلہ عمارت ہے۔ جہاں لڑکی کھیل شروع کرتی ہے ،ہر بار لڑکا خالی ہاتھ ملتا ہے ۔ وہ کئی بار ایسا کرتی ہے لڑکا ہر بار اس کے جھانسے میں آجاتا ہے۔ دفعتاً کچھ ہی دیر بعد ایک اوباش ہُوش شکل و صورت کا مالک پنجابی فلموں کا ولن نما شخص اس منظر میں داخل ہوتا ہے تب لڑکی معصومیت کو بتاتی ہے کہ تمہاری گیلی پپیاں اب یہ لے گا۔ آگے کا منظر کریہہ اور ناقابل یقین حد تک دل خراش ہے۔ لڑکی دیکھ رہی ہے اس معصوم کی عزت تار تار کی جارہی ہے اور وہ اس منظر کی ویڈیو بنا رہی ہے۔ جسے وائریل کرنے کے علاوہ اس جنگلی وحشی شخص سے ملنے والا معاوضہ الگ اوپر کی کمائی ہوسکتا ہے۔ کیا کبھی ایسی ڈیٹ کے بارے میں آپ نے سنا یا دیکھا ہے؟
وقت نے بڑی ہی ستم ظریفی سے انگڑائی لی ہے دنیا کے اور زمینی سیارے کے تارو پود ہل رہے ہیں، بکھر رہے ہیں روایتیں بدلیں تو نظام بدل جاتے ہیں نظام بدلیں تو انقلاب آجاتے ہیں۔ مردوں نے ایسی جانے کتنی ہی ڈیٹوں کی تاریخ رقم کی ہے حساب و شمار ممکن نہیں ہے اب عورتیں بدل رہی ہیں ان بوسیدہ پھپھوند زدہ منظروں کو۔

زندگی کتنی ہی کیوں نہ بدل جائے جو پہلے نیچے تھا وہ اوپر ہوجائے تب بھی۔۔ یہ دو متحارب۔۔۔ عورت اور مرد ایک دوسرے کی دشمنی کو ہر نظام، ہر انقلاب میں نئے رنگ و روغن کے ساتھ از سر نو زندہ کرلیں گے کیونکہ زمینی سیارے پر انسانوں کے بیچ بس یہی ایک چیز ہے جو زندہ جاوید ہے۔

نمرہ وارث تو منجھی ہوئی فنکارہ ہے کردار کو نبھانے کے قوائد و ضوابط میں پکی جبکہ معصومیت کی “مناسب مقدار ” عنقریب کنوارے وہاب ملک نے سب دیکھنے والوں کو چونکایا اور اپنا اسیر کرلیاہے۔ وہ صرف دیکھنے کی چیز نہیں ہے اپنی پرفارمنس سے محسوس کرانے کی صلاحیتوں سے بھی معمور ہے۔علی ہادی فلم کا حصہ ہیں۔ عمران قاضی کی ڈائریکشن قابل تعریف سے زیادہ ہے اور فصیح۔۔ اس نے تو ہمیشہ ہلّا مچانا ہی ہوتا ہے سو اس شارٹ مووی کے میدان میں “ایک ڈیٹ” کا ہلّا مچ گیا ہے۔
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

اس عید پر کون سی فلمیں ریلیز ہورہی ہیں؟

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

عیدالفطر پر پشتو فلموں کا راج، ریجنل سنیما، اُردو فلموں پر بازی لے گیا

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

ڈاکٹر خالد بن شاہین کی حجازِ مقدس میں پزیرائی

سینئر اداکار، پروڈیوسر اور چیئرمین سینسر بورڈ سندھ خالد بن شاہین ان دنوں اعتکاف عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں حجاز...
- Advertisment -

مقبول ترین

اس عید پر کون سی فلمیں ریلیز ہورہی ہیں؟

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

عیدالفطر پر پشتو فلموں کا راج، ریجنل سنیما، اُردو فلموں پر بازی لے گیا

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

ڈاکٹر خالد بن شاہین کی حجازِ مقدس میں پزیرائی

سینئر اداکار، پروڈیوسر اور چیئرمین سینسر بورڈ سندھ خالد بن شاہین ان دنوں اعتکاف عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں حجاز...

عبداللہ پور کا دیوداس، یوٹیوب پر مقبول پاکستانی سیریز بن گئی

زی زندگی سے پیش کی جانے والی پاکستانی ویب سیریز ”عبداللہ پور کا دیوداس“ یکم مارچ 2024 کو اپنے پریمیئر کے...

ریسینٹ کمنٹس