Wednesday, October 21, 2026
پہلا صفحہبزنستیل مہنگا ہونے کے باوجود معاشی ترقی 4 فیصد سے بڑھنے کی...

تیل مہنگا ہونے کے باوجود معاشی ترقی 4 فیصد سے بڑھنے کی توقع، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ ان کے مطابق حکومت 5 سے 6 سرکاری اداروں کی نجکاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت کے نجکاری پروگرام میں تقریباً 12 سرکاری ادارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد حکومت کی توجہ دیگر سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے پر مرکوز ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے نتیجے میں تقریباً ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کی اضافی مالی معاونت حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ امریکی مالی سہولت سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایندھن وافر مقدار میں دستیاب ہے اور اس کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔

دوسری جانب بلوم برگ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ پاکستان کی قرض سے متعلق حکمت عملی کا بنیادی مقصد عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی میں اضافہ کرنا اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ سود کو مناسب سطح پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں 75 کروڑ ڈالر کے بانڈز نجی طور پر جاری کیے تھے، جبکہ کریڈٹ انہانسمنٹ کے ذریعے چین کی پانڈا بانڈ مارکیٹ تک کامیابی سے رسائی حاصل کی گئی۔ ان کے مطابق چین دنیا کی دوسری بڑی اور گہری بانڈ مارکیٹ رکھتا ہے، اس لیے پانڈا بانڈز کا اجرا پاکستان کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے تقریباً تین ہفتے قبل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے پیش کردہ حجم کے مقابلے میں دوگنی طلب موصول ہوئی۔ یورو بانڈز کے اجرا میں ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ روپے میں مالیت رکھنے والے اور ڈالر میں ادائیگی کرنے والے بانڈز میں بھی سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس