سندھ حکومت نے میر رضا کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی نہیں بلکہ قتل کا واقعہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق لاش پر تیزاب استعمال کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ کمیشن نے مزید تحقیقات کے لیے آئی ایس آئی، آئی بی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ حکومت نے میر رضا کیس کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر لادی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی نہیں بلکہ قتل تھی۔ اس کے علاوہ لاش پر تیزاب کے نشانات اور بے ہوش کرنے والی دوا کے شواہد ملنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کمیشن نے پولیس کی ابتدائی تفتیش پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی کہ بالخصوص پہلے 10 دنوں کے دوران شواہد اکٹھے کرنے، فرانزک معائنے، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے عمل میں سنگین غفلت برتی گئی۔
کمیشن نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے اور ابتدائی دس روز کی تفتیش میں غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کے کردار کی ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت کو خودکشی قرار دینے کا ابتدائی پولیس مؤقف دستیاب طبی اور دیگر شواہد سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتا۔ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت پیچھے سے لگنے والی گولی کے زخم کو قرار دیا گیا۔
لاش پر تیزاب سے جلنے کے نشانات، خون میں بے ہوشی کی دوا کے آثار
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی لاش پر تیزاب سے جلنے کے نشانات پائے گئے، جبکہ خون کے نمونوں میں بے ہوشی کے لیے استعمال ہونے والی دوا، اینستھیزیا، کی موجودگی کے شواہد بھی ملے۔
رپورٹ میں ان شواہد کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کا موت کے حالات سے تعلق جانچنے کے لیے تفصیلی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
کمیشن نے نشاندہی کی کہ موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے طبی شواہد کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے تھی۔ پولیس کے مؤقف کو حتمی قرار دینے کے بجائے جسمانی، طبی اور فرانزک شواہد کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جانا ضروری تھا۔
رپورٹ میں ابتدائی تفتیش کے طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی کو ’’بغیر ملاح کی کشتی‘‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں شواہد چھپائے جانے یا ممکنہ کور اَپ کے خدشے کو بھی مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ شواہد اکٹھے کرنے کے عمل میں پولیس کے درجنوں اہلکار شریک تھے، تاہم اس کارروائی کا مناسب تحریری ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ جائے وقوعہ کی مکمل تصاویر لینے، نقشہ تیار کرنے اور شواہد کو محفوظ رکھنے کے ضروری تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔
فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد ضائع یا متاثر ہونے کا خدشہ
کمیشن نے فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد کے متاثر ہونے کے امکان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سفارش کی کہ شواہد جمع کرنے اور انہیں باقاعدہ ریکارڈ پر لانے کے عمل میں سامنے آنے والی خامیوں کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہونے کا معاملہ سامنے آگیا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ تک رسائی کے کم از کم 9 ممکنہ راستے موجود تھے، تاہم پولیس نے صرف ایک راستے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی۔
کمیشن نے اس بات پر بھی سوالات اٹھائے کہ اطراف میں متعدد کیمرے نصب ہونے کے باوجود ویڈیو شواہد جمع کرنے کا دائرہ محدود کیوں رکھا گیا اور نگرانی کرنے والے تمام کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ دستیاب ویڈیو فوٹیج، فرانزک مواد اور دیگر شواہد کا تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت واضح ہوسکے۔
مالی پریشانیوں کو خودکشی کی حتمی وجہ ماننے پر سوالات اٹھ گئے
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا علی کی مالی پریشانیوں، قرضوں اور کاروباری لین دین کو خودکشی کی حتمی وجہ قرار دینے کے مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مالی مشکلات سے متعلق پیش کیے گئے شواہد اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے ناکافی تھے کہ موت خودکشی تھی۔
کمیشن نے مالی لین دین، قرضوں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق ریکارڈ کی غیر جانب دارانہ اور آزادانہ تصدیق پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں واٹس ایپ پیغامات، وائس نوٹس اور ایپل واچ میں محفوظ نوٹس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور ان ڈیجیٹل شواہد کو سامنے لانے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔
میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کو غیر قانونی قرار دینے پر اہم مشاہدات
رپورٹ میں میر رضا علی کی لاش نکالنے کے عمل کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں راتوں رات کی جانے والی تبدیلی کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ کمیشن نے اس اقدام کو انتہائی بے ضابطہ قرار دیتے ہوئے بورڈ تبدیل کرنے کے طریقۂ کار پر اعتراضات اٹھائے۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کے سیکریٹری اور اسپیشل سیکریٹری نے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کے معاملے میں غیر قانونی مداخلت کی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس انتظامی فیصلے کے باعث عوامی حلقوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور سندھ حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مقتول کے اہل خانہ اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں پہلے سے قائم آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو دوبارہ بحال کرنا پڑا۔
سینئر پولیس افسران کے کردار کی جانچ پڑتال کی سفارش
جوڈیشل کمیشن نے ابتدائی تحقیقات کے دوران غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے علاوہ اعلیٰ پولیس افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بعض سینئر افسران نے تفتیش میں ہونے والی سنگین کوتاہیوں اور مجرمانہ غفلت کو چھپانے کی کوشش کی۔
پولیس کو عوام سے باضابطہ معافی مانگنے کی سفارش
کمیشن نے مخصوص شواہد میڈیا کو لیک کرنے اور حکومت مخالف بیانیے کو تقویت دینے کے معاملے پر بھی پولیس کے طرزِ عمل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ محکمہ ماضی میں ہونے والی سنگین غلطیوں پر عوام سے سرِعام معافی طلب کرے۔
پولیس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش
رپورٹ میں ڈی آئی جی آئی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کی جانب سے کی گئی انکوائری پر تنقید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سابق ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی، تفتیشی افسر شبیر لغاری اور ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں معطل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی قیادت میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی تجویز
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا علی کیس کی مزید تفتیش کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔ مجوزہ ٹیم میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ حکام کو شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
تفتیش کے ابتدائی 10 دنوں میں کوتاہی کرنے والے افسران کیخلاف ایف آئی اے انکوائری کی تجویز
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ تفتیش کے ابتدائی دس دنوں کے دوران غفلت کے مرتکب پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات ایف آئی اے کے ذریعے کرائی جائیں۔ رپورٹ میں ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کے علاوہ ان پر فوجداری مقدمات درج کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
ڈاکٹر اسامہ شیخ کو دو سال تک ایم ایل او تعینات نہ کرنے کی تجویز
جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ شیخ کے کردار اور میڈیکو لیگل معاملات سے متعلق سخت ریمارکس شامل کیے ہیں۔ کمیشن نے اُن کے طرزِ عمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے سفارش کی ہے کہ انہیں دو سال تک میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) کے عہدے پر تعینات نہ کیا جائے۔
رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کو دوبارہ میڈیکو لیگل افسر کی ذمہ داریاں سونپنے سے قبل کم از کم دو سال کی تعلیمی اور عملی تربیت فراہم کی جائے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے وضاحت
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے کہ اس کا مقصد ڈاکٹر اسامہ پر دباؤ ڈالنا نہیں تھا۔ کمیشن کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو ایک اہم اور ہائی پروفائل کیس کے بارے میں بریفنگ حاصل کرنے کا قانونی اختیار حاصل تھا۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کو متنازع بنانے اور پولیس سرجن کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں میر رضا علی کیس کی ابتدائی تفتیش، شواہد کو محفوظ رکھنے، میڈیکل بورڈ میں تبدیلی، مالی و ڈیجیٹل ریکارڈ اور متعلقہ افسران کے کردار سمیت مختلف پہلوؤں کی مزید چھان بین کرنے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام دستیاب شواہد کا آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، تفتیش کے دوران ہونے والی کوتاہیوں کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔



