سیاستدان اور بالی وڈ کی مشہور اداکارہ جیا بچن نے امیتابھ بچن کے ساتھ اپنے تعلقات کے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پہلی بار امیتابھ کو دیکھ کر انہیں خطرے کا احساس ہوا تھا۔
جیا بچن نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ امیتابھ بچن شروع میں کم بولتے تھے اور بہت زیادہ حساس مزاج رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔
اداکارہ کے مطابق انہوں نے امیتابھ بچن کو پہلی مرتبہ پونے کے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا میں تعلیم کے دوران دیکھا تھا۔ بعد میں دونوں کی ملاقات فلم ساز ہری کیش مکھرجی کی فلم ’گڈی‘ کے سلسلے میں ہوئی۔ ابتدا میں اس فلم میں امیتابھ بچن کو بھی جیا بچن کے ساتھ کاسٹ کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں فلم سے ہٹا دیا گیا۔
جیا بچن نے مزید بتایا کہ امیتابھ بچن کا لوگوں کو مسلسل گھورنے کا انداز انہیں غیر معمولی لگتا تھا۔ وہ سوچتی تھیں کہ یہ شخص کتنا عجیب ہے اور دوسروں کو اس طرح کیوں دیکھتا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ انہیں معلوم ہوا کہ امیتابھ جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان کے اس رویے سے دوسرے لوگ کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔
اداکارہ نے گفتگو کے دوران یہ بھی بتایا کہ امیتابھ بچن واحد شخص تھے جو ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے تھے اور وہ خود بھی ان کی بات ماننے کے لیے تیار ہو جاتی تھیں۔ امیتابھ انہیں براہ راست کوئی حکم نہیں دیتے تھے، لیکن اگر وہ نرمی سے بھی کوئی بات کہتے تو جیا اس پر عمل کرتیں، کیونکہ وہ انہیں خوش رکھنا چاہتی تھیں۔
جیا بچن نے امیتابھ بچن کو ایک مشکل دوست قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ امیتابھ نے انہیں کبھی باضابطہ طور پر شادی کی پیشکش نہیں کی، جس کی وجہ سے وہ کافی عرصے تک یہ سمجھنے سے قاصر رہیں کہ امیتابھ کے دل میں ان کے لیے کیا جذبات ہیں۔
جیا بچن کے مطابق، امیتابھ ایک بار ان کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے ممبئی سے پونے تک گاڑی چلا کر آئے، جس میں انہیں 5 گھنٹے لگے۔ امیتابھ کے اس اقدام نے جیا کو بہت متاثر کیا۔ وہ انہیں اکثر کانجی ورم کی ساڑھیاں بھی تحفے میں دیتے تھے، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ یہ ساڑھیاں جیا پر خوب جچتی ہیں۔
واضح رہے کہ جیا بچن اور امیتابھ بچن 1973 میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔



