Sunday, February 25, 2024
پہلا صفحہ تبصرے قائد اعظم کو مناتے مناتے فہدمصطفیٰ اپنی ہیروئن ماہرہ کو منانا بھول...

قائد اعظم کو مناتے مناتے فہدمصطفیٰ اپنی ہیروئن ماہرہ کو منانا بھول گئے

قائد اعظم زندہ باد، کا ٹریلردیکھنے کے بعد یہ تاثر عام تھا کہ اس فلم کو بناتے ہوئے نبیل قریشی روہیت شیٹی سے کافی متاثر نظر آئے اور یہ فلم روہیت کی کوپ فرنچائزسمبا، کا چربہ ہوگی۔ فلم کے آغاز میں انسپکٹر گلاب کا بچپن اور نوٹوں سے اس کی محبت اسی طرح دکھائے گئی ہے جیسا کہ روہیت شیٹی کے سمبا، کا انٹروڈکشن کرایا گیا لیکن جوں جوں فلم آگے بڑھتی ہے، سمبا، آڈیئنس کو بھولنے لگتا ہے اور انسپکٹر گلاب اپنے بھرپور کردار اور پوری شدت کے ساتھ لوگوں کے دل و دماغ پر چھانے لگتا ہے۔ مگر نبیل قریشی فلم میں بار بار احساس دلاتے ہیں کہ آڈیئنس سمبا، کو بھول سکتے ہیں، روہیت شیٹی، کے اسٹائل کو وہ بھولنے نہیں دے گا۔ فلم کے گانے ہوں یا ایکشن سیکوئنسز، اس فلم میں آپ کو ایکٹر ان لا، یا نامعلوم افراد، والا نبیل قریشی کہیں نظر نہیں آئے گا۔

ممکن ہے کہ نبیل قریشی نے پاکستانی ڈائریکٹر جان محمد کی فلمیں نہ دیکھی ہوں جن میں انسپکٹر گلاب ٹائپ کے پولیس آفیسر کا کردار کئی باردہرایا گیا اور کئی فلموں میں تو جاوید شیخ نے یہی کردار اسی مینرازم کے ساتھ پلے کیا، (بدقسمتی سے اس فلم میں وہ ایک انتہائی کم تر درجے کا سپورٹنگ کردار کرتے نظر آئے)۔ جان محمد کی فلموں میں موٹر سائیکل چیزنگ، ہیلی کاپٹر ایکشن سمیت اس قسم کے فارمولے بہتات میں ہوا کرتے تھے لیکن نبیل قریشی تو روہیت شیٹی کے فین ہیں لہٰذا ان پر جان محمد سے متاثر ہونے کا الزام ہرگز نہیں لگایا جاسکتا۔

فلم کا ٹیمپو اس قدر فاسٹ رکھا گیا ہے کہ آپ کا دھیان سنگھم، یا سمبا، سے متاثر ایکشن سیکوئنسزاور کاپی شاٹس پر جاتا ضرور ہے لیکن اگلے ہی لمحے آپ اس تاثر کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ نبیل اور فلم کے اسکرین پلے کی بڑی کامیابی ہے۔
کہانی عام اور سادہ سی ہے لیکن یہ فلم کا اسکرین پلے ہے جو فلم کو تھام کر رکھتا ہے اور آڈیئنس کی انگلی پکڑے انہیں آگے لے جاتا ہے۔ دولفظوں میں کہانی بیان کی جائے تو بس سمبا، ہی کو ذہن میں رکھیں۔ جو کردار سمبا، میں آسوتوش رانا نے پلے کیا، وہ ہماری دیسی فلم میں عرفان موتی والا نے پلے کیا لیکن آسوتوش کے کردار کو دو حصوں میں بانٹ کر آدھا حصہ جاوید شیخ کو سونپ دیا گیا۔

ماہرہ خان سلور اسکرین کی ملکہ کہلانے کی بجا طور پر حق دار ہے لیکن شاہ رخ کی عمر کے ہیروز کے ساتھ اس کا پیئر جچتا ہے۔ اس فلم میں ماہرہ نے فہد مصطفی کی ہیروئن کم اورباجی والی فیلنگ ذیادہ دی ہے۔ دونوں کی اسکرین کیمسٹری زیرو محسوس ہوئی۔
قائد اعظم زندہ باد، میں جھول اور خامیاں بھی بولی وڈ لیول کی ہی ہیں۔ مثلاً ماہرہ کا موبائل فون سڑک پر کھڑے دو ڈکیت چھین لیتے ہیں اور وہ خوف کے عالم میں جھٹ سے دونوں فون ان کے حوالے کردیتی ہے۔ بعد میں اپنے بیٹے کی عمر کے کزن کی مدد سے جو کہ کم عمر آئن اسٹائن ہے، محترمہ اپنے فون کی لوکیشن ٹریس کرواتی ہیں اور اس وضاحت کے باوجود کہ وہ گینگ وار کا علاقہ ہے، نڈر ہیروئن اپنے چند ہزار کے فون کی خاطر اس پرخطر علاقے میں پہنچ جاتی ہے۔ لوکیشن پر ہیروئن کی ملاقات گلاب، سے ہوتی ہے جو کہ وہاں کرائم آپریشن کرنے گیا ہے۔ ہیرو اور ہیروئن کی اس رومانوی ملاقات سے ذیادہ اہم موضوع یہ ہے کہ ہیرو کے ایمان دار باپ (قوی خان) کو بیٹے کی کرپشن سے کمائی دولت گھر میں لگی قائد اعظم کی تصویر کے پیچھے خفیہ خانے سے مل جاتی ہے، جس پروہ بیٹے کو خوب سناتا ہے اور اسی غم میں مرجاتا ہے۔

گلاب کو نیا جھٹکا تب لگتا ہے جب اس کی کرپشن کی کمائی کے نوٹوں سے قائد اعظم کی تصویر غائب ہوجاتی ہے۔ پھر وہ جس کو یہ کہانی سناتا ہے، ان سب کی حرام دولت سے بھی قائد اعظم غائب ہوجاتے ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ قائد اعظم ناراض ہوگئے ہیں، گلاب سیدھے راستے پر آجاتا ہے کیونکہ اب وہ جس سے رشوت لیتا ہے، نوٹوں سے قائد اعظم کی تصویر غائب ہونے سے وہ نوٹ جعلی ہوجاتے ہیں۔ گلاب ایک ایک کرکے ساری کرپشن کی کمائی واپس لوگوں کو لوٹا دیتا ہے کیونکہ ڈپارٹمنٹ کے ایک فارغ ملازم (عرفان موتی والا) نے ان لوگوں کی فائلوں کو ریڈ ٹیپ سے مارک کررکھا تھا، جن سے گلاب نے رشوت لی تھی۔ اسے یقین تھا کہ ایک دن گلاب کا ضمیر جاگے گا اور اسے ان فائلوں کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ ذیادہ حیران نہ ہوں، عرفان موتی والا نے پورا اسکرپٹ پہلے سے پڑھ رکھا تھا۔

ماہرہ جو گلاب کی کرپشن کی وجہ سے نفرت کرنے لگی تھی، واپس گلاب کی خوشبو بن کر لوٹ آتی ہے۔ گلاب کے سمجھانے پر کہ اب نوٹوں پر قائد اعظم کی تصویر واپس لانے کی ایک ہی صورت ہے کہ ناراض بابائے قوم سے معافی مانگی جائے۔ منسٹر اور آئی جی صاحب مزار قائد پر حاضری دے کر گڑگڑاتے ہوئے اپنی کرپشن کی معافی مانگتے ہیں۔ اس کہانی یا کونسیپٹ کو اگر ماورائے عقل کہا جائے تو پھر دلیل کے طور پر ہمارے سامنے بولی وڈ کی بلاک بسٹر منا بھائی ایم بی بی ایس، کی مثال موجود ہے، جس کا بعد میں سیکوئل بھی بنا۔ مگر کیا قائد اعظم زندہ باد، میں ایک بھی ایسا ٹچی سین ہے جو نبیل قریشی کو راج کمار ہیرانی کے برابر کھڑا کرسکے؟ جواب ملے گا‘ نہیں۔ یہ بگ نو، ہی اس فلم کااصل مسئلہ ہے۔

ہماری آڈیئنس کی سب سے بڑی ڈیمانڈ ہوتی ہے، تفریحی مسالے، میوزک، آئٹم سونگ، کامیڈی اور رومینس۔ اس فلم میں یہ سب کچھ ہے لیکن بے ڈھنگ انداز میں۔ رومینس ہے لیکن زبردستی کا۔ دونوں کرداروں کو ریلیشن شپ ڈیولپ کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ گانے بس اچانک شروع ہوجاتے ہیں اور اچانک سے ختم۔ ڈانس میں بھی فہد اور ماہرہ کی کیمسٹری، اسٹیپس اور مووز میچ نہیں کرتے۔

فلم کی سب سے بڑی خوبی ویژول ایفیکٹس کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بولا ہے۔ فلم کے ٹریلر کو جس سین کی وجہ سے پزیرائی ملی، وہ فلم کی ہائی لائٹ ہے جب فلم کا ہیرو گلاب موٹر سائیکل سمیت کئی سو فٹ بلندی پراُڑتے ایئرکرافٹ کے اوپر لینڈ کرتا ہے اور پھر ایئرکرافٹ کے ٹائروں کو پکڑ کر جہاز کے اندر پہنچ جاتا ہے، جہاں منسٹر کی کرپشن کا اربوں روپیہ کارگو ایریا میں موجود ہوتا ہے۔ فہد وہ سارا روپیہ جہاز پر سے نیچے پھینک دیتا ہے اور یوں عوام کا پیسہ عوام کو واپس مل جاتا ہے۔

جہاں تک بات ہے ایکٹنگ کی تو فہد مصطفی اپنے کردار میں ایک دم فٹ لگے۔ ایکٹر ان لا، کے بعد یہ دوسری فلم ہے جس میں فہد بڑی اسکرین کا ایکٹر لگا ہے۔ مجھے لوڈ ویڈنگ، میں بھی فہد کا کام اچھا اور مضبوط لگا لیکن اس فلم نے بطور ایکشن ہیرو فہد کو نئی پہچان دی ہے۔ ماہرہ خان کے لیے یہ کردار نہیں تھا۔ ایک میچور اداکارہ سے ٹین ایجرز والا مینرازم توقع کرنا فضول ہے۔ ماہرہ کو زبردستی شوخ اور چنچل بنانے کی کوشش میں ڈائریکٹر نے اپنا کام خراب کرلیا۔ محمود اسلم، نیر اعجاز، وغیرہ اپنے کرداروں میں مناسب رہے لیکن دراصل یہ فلم قوی صاحب کی ہے۔ وہ اپنے مختصر کردار میں گہرا تاثر چھوڑ گئے۔ سلیم معراج ایک سین میں نظر آئے اور اپنا رنگ جماگئے۔

جاوید شیخ کو اس فلم میں زبردستی شامل کیا گیا ہے۔ یہ کردار ان کے شایان شان نہیں ہے۔ ماضی میں وہ ایسے کردار آفر کرنے پر اپنے پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز سے لڑجایا کرتے تھے۔ یہ کسی بھی لیجنڈ ایکٹر کے ڈاؤن فال کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے کرداروں میں بھی کمفرٹ ایبل محسوس کرنے لگے۔

فلم کے میوزک کی بات کریں تو گانے ٹھیک ٹھاک ہی ہیں لیکن کوئی ایک بھی گانا سنیما ہال سے باہر نکلنے کے بعد سماعتوں میں محفوظ نہیں رہتا۔ لوٹا رے، بولی وڈ اسٹائل تاثر دیتا ہے اور اسرارشاہ کے ساتھ آئمہ بیگ نے خوب رنگ جمایا لیکن گانا جتنا کیچی ہے، اس گانے کی فلم بندی نبیل نے اتنی ہی گھٹیا کی ہے۔ لفظ گھٹیا، معیوب لگتا ہے لیکن گانا واقعی اتنا برا فلمایا گیا ہے۔ فریئر ہال کراچی کے پس منظر میں کڑی دھوپ میں فلمائے گئے اس گانے میں ایچ ایم آئی لائٹس کا اس قدر وحشیانہ استعمال۔ کون ڈائریکٹر یا سنیما ٹوگرافر اس کی اجازت دے سکتا ہے۔ میرے نزدیک تو یہ کرائم ہے۔ بڑی اسکرین پر آنکھوں کو چندھیانے والی ایسی لائٹنگ تو روہیت شیٹی نے کبھی نہیں کی۔

فلم کا تھیم سونگ رب کے بندے، بھی ایک انڈین سونگ کا تاثر دیتا ہے لیکن اسرار شاہ کی آوازاس گیت کو بامعنی بناگئی۔ یہ دل کرے دھک، بھی سننے میں کانوں کو بھلا لگتا ہے جو پاکستانی کشور کمار علی ظفر نے خوب گایا ہے لیکن بات پھر وہی کہ آپ کچھ دیر بعد ہی گانا اور اس کے بول بھول جاتے ہیں۔

مجموعی طور پر قائد اعظم زندہ باد، ایک سوشل ڈرامہ ہے جس میں کامیڈی کے پیرائے میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس ملک میں پولیس اور سیاست دان ہی کرپٹ ہیں اور اگر یہ دونوں ٹھیک ہوجائیں تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا ہم سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت نہیں؟ کیا صرف سیاست دان ہی کرپشن کی جڑ ہیں؟

بہرحال جیا اور گلاب کی محبت میں اگر قائد اعظم رحمت اللہ علیہ نہ آتے اور ان دونوں کی اسکرین کیمسٹری ورک کرجاتی توفلم مذید بہتر ہوسکتی تھی لیکن بابائے قوم کی ڈسکشن فلم میں اتنا ٹائم لے گئی کہ لوگوں کو انٹرول میں ہی ٹکٹ کی مد میں دیے گئے نوٹوں کا خیال آنے لگتا ہے کہ کہیں وہ برباد تو نہیں ہوگئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم زندہ باد، اپنے سے کم زور حریف لندن نہیں جاؤں گا، سے باکس آفس میں پیچھے رہ گئی ہے۔

4 COMMENTS

  1. عمر خطاب خان ۔۔۔ آپ نے نہایت عمدہ تجزیہ ہے۔ بہت سے ایسے سوالات اٹھائے ہیں جنکا کسی کے پاس جواب نہیں ہے ، ماسوائے ایک سوال کے۔ آپ نے کہا کہ ماہرہ سے جب ڈاکو فون چھینتے ہیں تو وہ ڈر کر دونوں فون دے دیتی ہے جبکہ اگلے کی لمحے اس قدر بہادر بن جاتی ہے کہ گینگ وار ایریا میں اپنا فون لینے چلی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکوؤں نے جب گن دکھائی تھی تو وہ بلکل نہیں ڈری تھی بلکہ اپنا چھوٹا فون دے دیا تھا۔ لیکن ڈاکوؤں نے جب اسکا پپی چھیننے کی کوشش کی تب وہ بلیک میل ہوئی، ڈری نہیں بلکہ اپنے پپی کو بچانے کے لئے فون دیا تھا۔ ایکشن سیکوئینس جان محمد کی فلموں سے بہت اعلی تھے۔ جان صاحب کی فلمیں میں فارمولہ نہایت دیسی ہوتا تھا اور اپنے وقت میں بھی وقت سے بہت پیچھے کا ہوتا تھا۔ باقی نبیل کی اس فلم کے سامنے لندن نہیں جاؤنگا واقعی کمزور حریف تھا ، اور کمزور حریف سے پیچھے رہ جانے کی وجوہات بھی آپ نے بلکل درست اور عمدگی سے بتائی ہیں۔

  2. عمر بھائی ! بہت ہی عمدہ تجزیہ کیا ہے آپ نے فلم کو دیکھنے سے پہلے مجھے ایک جستجو پیدا کر دی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

انڈین پنجابی فلم جی وے سوہنیا جی، کی پاکستان میں نمائش پر پابندی عائد

سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کی پاکستان بھر میں نمائش پر...

پاکستان اور اسلام دشمن نظریات کا پرچار کرتی انڈین پنجابی فلم کی پاکستانی پنجاب میں نمائش پر عوامی ردعمل

پاکستان اور اسلام مخالف انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کو پنجاب میں نمائش کی اجازت دینے پر پنجاب فلم...

فلم فیئرایوارڈز 2024 کا میلہ میاں بیوی کی جوڑی رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے نام رہا

اٹھائیس جنوری کو بالی وڈ کے سب سے اہم ایوارڈز فلم فیئر کا انعقاد گجرات میں کیا گیا جس میں سال...
- Advertisment -

مقبول ترین

انڈین پنجابی فلم جی وے سوہنیا جی، کی پاکستان میں نمائش پر پابندی عائد

سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کی پاکستان بھر میں نمائش پر...

پاکستان اور اسلام دشمن نظریات کا پرچار کرتی انڈین پنجابی فلم کی پاکستانی پنجاب میں نمائش پر عوامی ردعمل

پاکستان اور اسلام مخالف انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کو پنجاب میں نمائش کی اجازت دینے پر پنجاب فلم...

فلم فیئرایوارڈز 2024 کا میلہ میاں بیوی کی جوڑی رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے نام رہا

اٹھائیس جنوری کو بالی وڈ کے سب سے اہم ایوارڈز فلم فیئر کا انعقاد گجرات میں کیا گیا جس میں سال...

سینئر اداکار خالد بٹ کی نماز جنازہ ادا، لاہور میں سپرد خاک کردیا گیا

فلم، تھیٹر اور ٹی وی کے نام ور اداکار خالد بٹ، کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان آج لاہور میں سپرد...

ریسینٹ کمنٹس