Thursday, April 18, 2024
پہلا صفحہ خبریں انڈین پنجابی فلم جی وے سوہنیا جی، کی پاکستان میں نمائش پر...

انڈین پنجابی فلم جی وے سوہنیا جی، کی پاکستان میں نمائش پر پابندی عائد

سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کی پاکستان بھر میں نمائش پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ قبل ازیں پنجاب میں فلم کو نمائش کی اجازت دینے پرپنجاب فلم سینسر ز بورڈ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مذکورہ فلم کو پہلے ہی وفاقی فلم سینسرز بورڈ اور سندھ سینسرز بورڈ نے نمائش کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔
واضح رہے کہ پچھلے چند سالوں سے پاکستانی سنیماؤں میں انڈین بولی وڈ فلموں کی بندش کے باوجود انڈین پنجابی فلمیں تواتر سے ریلیز کی جارہی ہیں اور اس حوالے سے حکومت کی کوئی واضح پالیسی موجو د نہیں ہے۔ انڈین پنجابی فلموں کی آڑ میں بعض ایسی پنجابی فلمیں بھی ریلیز کی جارہی ہیں جو کہ نظریہ پاکستان اور اساس کے خلاف ہوتی ہیں۔
جمعہ 16 فروری کو دنیا بھر میں ریلیز کی جانے والی انڈین پنجابی فلم جسے سندھ اور اسلام آباد کے بورڈز نے دو قومی نظریے اور اسلام دشمنی پر مبنی قرار دے کر بین کردیا تھا لیکن پنجاب سینسرز بورڈ کو اس فلم میں ایسا کچھ نظر نہیں آیا اور فلم کو بنا قطع و برید کے نمائش کی اجازت دے دی گئی تھی۔

Jee Ve Sohneya Jee

انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ میں پاکستانی اداکار عمران عباس نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
فلم کا ہیرو مسلمان دکھایا گیا ہے، جس کا نام علی پرویز ہے اور اسی نام کا ایک دہشت گرد برٹش پولیس کو مطلوب ہے۔ یہ کردار عمران عباس نے ادا کیا ہے۔ علی پرویز کا تعلق پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے ایک قصبے فرید کوٹ سے دکھایا گیا ہے۔ انٹر نیشنل میڈیا میں فرید کوٹ کو توجہ اس وقت ملی جب بھارتی پروپیگنڈے کے نتیجے میں اجمل قصاب کو اس شہر کا باسی دکھایا گیا۔
فلم کی ہیروئن مہر (سمی چھل) انڈین پنجاب سے ہے جس کی ملاقات حادثاتی طور پر لندن میں پاکستانی بوائے علی پرویز سے ہوتی ہے۔ علی اس کی محبت میں اس قدر گھائل ہوجاتا ہے کہ اس سے اپنا مسلمان اور پاکستانی ہونا چھپاتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ وہ سربجیت سنگھ ہے۔

فلم میں جابجا یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں ملکوں کی تقسیم سے پنجابی سب سے ذیادہ متاثر ہوئے ہیں لہٰذا بارڈر کی تخصیص ختم کرکے دونوں ملکوں یا کم ازکم پنجاب کو ایک ہوجانا چاہیے۔ جن لوگوں نے فلم نہیں دیکھی، وہ فلم کا ٹریلر دیکھ کر بھی یہ سب باریکیاں محسوس کرسکتے ہیں۔
فلم کے ایک منظر میں جب علی سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ سکھ محبوبہ سے شادی کے لیے نکاح کرے گا یا لاواں یعنی سکھ رسومات کا سہارا لے گا تو وہ کہتا ہے کہ میں دونوں طریقے اپناؤں گا۔
فلم کے ایک منظر میں علی کا انڈین دوست سربجیت سابی اسے کہتا ہے کہ اب کشمیر کے بعد تمہاری آنکھ چندی گڑھ پر بھی ہے۔
بہرحال فلم میں کئی مکالموں اور مناظر کو قابل اعتراض قرار دے کر اس کی نمائش پر پاکستان بھر میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پنجاب کے کئی سنیما گھروں نے رضاکارانہ طور پر پہلے ہی اس فلم کی نمائش سے انکار کردیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

عیدالفطر پر گاڈزیلا ایکس کانگ، اور دغاباز دل، کا شان دار بزنس

عیدالفطر سے پاکستانی سنیماؤں پر کئی مہینوں سے طاری جمود کا خاتمہ تو ہوگیا تاہم عید کے طویل ویک اینڈ کے...

اس عید پر کون سی فلمیں ریلیز ہورہی ہیں؟

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

عیدالفطر پر پشتو فلموں کا راج، ریجنل سنیما، اُردو فلموں پر بازی لے گیا

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...
- Advertisment -

مقبول ترین

عیدالفطر پر گاڈزیلا ایکس کانگ، اور دغاباز دل، کا شان دار بزنس

عیدالفطر سے پاکستانی سنیماؤں پر کئی مہینوں سے طاری جمود کا خاتمہ تو ہوگیا تاہم عید کے طویل ویک اینڈ کے...

اس عید پر کون سی فلمیں ریلیز ہورہی ہیں؟

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

عیدالفطر پر پشتو فلموں کا راج، ریجنل سنیما، اُردو فلموں پر بازی لے گیا

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

ڈاکٹر خالد بن شاہین کی حجازِ مقدس میں پزیرائی

سینئر اداکار، پروڈیوسر اور چیئرمین سینسر بورڈ سندھ خالد بن شاہین ان دنوں اعتکاف عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں حجاز...

ریسینٹ کمنٹس