Saturday, May 18, 2024
پہلا صفحہ تبصرے کون ہے یہ آدمی، ازدواجی الجھنوں پر بحث کرتی ایک متاثرکن شارٹ...

کون ہے یہ آدمی، ازدواجی الجھنوں پر بحث کرتی ایک متاثرکن شارٹ فلم

کہنے کو تو آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کون ہے یہ عورت؟ سچ تو یہ ہے شادی شدہ مرد اپنے دل میں چوبیس گھنٹے میں جانے کتنی بار اس جملے کی گردان سنتے ہیں کہ کون ہے یہ عورت؟

کون ہے یہ آدمی؟ نیا زاویہ ہے تو سہی۔ فصیح باری خان کی لکھی ہوئی اور انہی کی ڈائریکشن میں بنی ہوئی بیس منٹ کے دورانیے کی اس شارٹ فلم کو دیکھتے ہوئے دفعتاً مجھے اپنے ہی کیے گئے ایک انٹرویو کی ہیڈ لائن یاد آگئی ’’شادی غیر فطری انسٹی ٹیوشن ہے‘‘ یہ چونکا دینے والا جملہ (ہم معمولی باتوں پر چونکنے والے سماج کے باسی ہیں۔ یہ تو پھر بھی اچھی بھلی ندرت طرازی ہے) سب رنگ کے شکیل عادل زادہ نے کہا تھا۔ جب میں نے ان کا، ان کی بیگم شاہین کے ساتھ ایک مشترکہ انٹرویو شی میگزین کے لیے کیا تھا۔ یہ کہنا دشوار ہے کہ شاہین بھی ایسا ہی کچھ کہنا چاہتی تھیں یا نہیں؟ قصہ کوتاہ ’’کون ہے یہ آدمی‘‘ شادی کے طویل المیعاد رشتے اور انسٹی ٹیوشن پر مبنی ایک استعاراتی اور اسلوبیاتی مختصر فلم ہے۔ کسی بھی بصری اور غیر بصری فن پارے کے ساتھ فصیح باری خان کا نام دیکھ کر سب سے پہلا تاثر ہی یہ بنتا ہے کہ ضرور کچھ نیا، انوکھا اور منفرد ہوگا۔ بیشتر مرتبہ ہماری توقعات پوری ہوتی ہیں۔ وہ گھسے پٹے اور پوری طرح بوسیدہ منظروں میں سے بھی نئے زوایے اور نئے خیال کی تخلیق میں ناکامیاب نہیں ہوتے۔

گئے وقتوں میں جب میاں بیوی کو مشترکہ خاندانی نظام کی ٹوہ لیتی ہوئی بے شمار کھوپڑیوں میں سے جھانکتی ہوئی دوربین نگاہوں سے بچ کر ایک دوسرے سے گلے ملنے تک کا موقع مشکل سے ملا کرتا تھا، تب میاں بیوی کو ایک دوسرے کی صورتوں سے بیزار ہونے اور اکتانے کا خیال آنے تک ربع صدی بیت چکی ہوتی تھی۔ لیکن آج کے عہد میں جب چوبیس گھنٹے دونوں میاں بیوی صرف صورتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ہر طرح کے بدصورت بے ڈھنگے وجودوں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط ہیں بلکہ زیادہ مناسب چڑھ دوڑے ہوئے ہیں۔ اس جبر اور گھٹن کے ماحول میں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے نفرت کی حد تک بیزار اور اکتاجانا حیران نہیں کرتا۔ بعض مناظر میں ان نفرتوں اور بیزاریوں کا اظہار بھی دکھائی دے جاتا ہے۔ اس کے باوجود اس رشتے اور انسٹی ٹیوشن کو قائم رکھنے کی جدوجہد میں لاکھوں میاں بیوی مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ انسانی سماج کو باقی رکھنے کے لیے نامناسب بھی نہیں ہے۔ جو عمرانیات کی تاریخ سے تھوڑا سی بھی واقفیت رکھتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ سماج بنانے میں حضرت انسان نے کیسی جوکھم جھیلی ہے۔ کتنے ہزاروں سال کی لگاتار کوششوں کے بعد یہ سماج اور اس میں رائج قوانین وجود میں آئے۔ اب ایسے ہی تو اس جدو جہد پر پانی نہیں پھیرا جاسکتا۔ بس تھوڑا سا سوچیے کہ جو فیمنسٹ عورتیں آج مردوں کے دیکھنے، چھونے کو لے کر ہنگامہ کھڑا کردیتی ہیں۔ قوانین کے مطابق سزاؤں کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گئے وقتوں میں جب مردوں پر ان کی مائیں بہنیں تک حلال تھیں تب ہراسمینٹ کے واقعات اور قوانین کی کیا حیثیت ہوتی ہوگی؟ سو سماج اور اس کے قوانین کی تشکیل میں جدو جہد تو خوب ہوئی ہے۔ شادی بھی ایک سماجی عمل ہے۔

اسکرین پلے کی ندرت اور بار بار کی نیرنگی ہی ہے جو جینے کو پھر سے اجنبی بنا دیتی ہے۔ چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔ کتنا خوبصورت خیال ہے۔ کسی نے کہا ہے خوشی نہ ملے تو اسے کرئیٹ کرلیں۔ خوش رہنے کے لیے بھی بہانے بنانے چاہئیں۔ صرف جھوٹ ہی تو ہے جو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جینے کے لیے جھوٹ بولیے اتنا کہ جینے کا مزا آنے لگے۔

سال خوردگی سے یہ عمل ناپسندیدہ اور انسٹی ٹیوشن بوسیدہ، زنگ آلود ہوچکا ہے لیکن اس کو نیرنگ خیال سے اب بھی زندہ رہنے کے لائق بنایا جاسکتا ہے۔ ’’کون ہے یہ آدمی‘‘ میں کچھ نہ کچھ اس کی جھلک ہے۔ سسپنس سے بھرپور میوزک کے بعد جب بڑے غلام علی کی ٹھمری طلوع ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے چلچلاتی دھوپ میں یکایک ٹھنڈا ٹھار چاند اپنی چاندنی کے ساتھ رم جھم کرکے برسنے لگا ہو۔ گھر کے باہر خراب ہوئی ایک کار کا مسافر ٹیرس پر کھڑی ایک عورت کا اسرار سے بھرا ہوا اشارہ پاکر جیسے کھنچا چلا جاتا ہے۔ ٹھمری کب تھمی یہ الگ واقعہ ہے۔

دونوں اجنبیوں میں شادی اور عورت مرد کے رشتے کو لے کر طولانی گفتگو شروع ہوئی۔ کبھی نشیب کبھی چڑھائی اور کبھی بھنور، شاعروں کی باتیں اور پھر تلخیوں کا زہر۔ کبھی لگتا ہے یہ دونوں دراصل میاں بیوی ہیں۔ تو پھر یہ تماشا کیوں؟ اسکرین پلے کی ندرت اور بار بار کی نیرنگی ہی ہے جو جینے کو پھر سے اجنبی بنا دیتی ہے۔ چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔ کتنا خوبصورت خیال ہے۔ کسی نے کہا ہے خوشی نہ ملے تو اسے کرئیٹ کرلیں۔ خوش رہنے کے لیے بھی بہانے بنانے چاہیں۔ صرف جھوٹ ہی تو ہے جو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جینے کے لیے جھوٹ بولیے اتنا کہ جینے کا مزا آنے لگے۔

فصیح نے بیس منٹ میں بیس برسوں بلکہ اس سے بہت زیادہ عرصے کو سمونے کی ایسی باریک اور کہیں کہیں سے مہین سی کوشش کی ہے کہ دو کردار بیس منٹ تک اسکرین پر موجود رہے۔ ریشم (سیمی) اور عبداللہ اعجاز (سمیع) بہت زیادہ چمچماتے، نوخیز اور تازگی سے بھرپور بھی نہیں تھے پھر بھی۔ پھر بھی بیس منٹ کب کیسے گزر گئے، پتا ہی نہیں چلا۔ جن فن پاروں میں وقت کا پتا نہ چلے وہ کچھ نہ کچھ وقت سے بڑے ہوتے تو ہیں اور اس کا کریڈٹ فصیح، ان کی ٹیم کے جملہ اراکین، ریشم اور عبداللہ اعجاز کو دیتے ہوئے کنجوسی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

آرٹس کونسل کراچی کے تحت اداکار خالد بن شاہین کے اعزاز میں اعتراف کمال تقریب کا انعقاد

تمغہ امتیاز یافتہ اداکار، پروڈیوسر، بینکار اور چیئرمین سندھ بورڈ آف فلم سینسرز جناب خالد بن شاہین کے اعزاز میں آرٹس...

پی آئی اے طیارہ ہائی جیکنگ کیس پر مبنی دستاویزی فلم فلائٹ 544 کی مقامی سنیما میں اسکریننگ

راوا اسٹوڈیو کی جانب سے راوا ڈاکیومینٹری فلمز کی پروڈکشن میں تیار کی گئی ڈاکیومینٹری فلم فلائٹ 544 کی سنیما اسکرینگ...

یاسر حسین کا تھیٹر پلے ہوٹل جانِ جاں، آرٹس کونسل کراچی میں کامیابی سے جاری

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور اسٹیج بگز پروڈکشن کے مشترکہ تعاون سے مزاح سے بھرپور ڈرامہ ”ہوٹل جانِ جاں“کی میڈیا...
- Advertisment -

مقبول ترین

آرٹس کونسل کراچی کے تحت اداکار خالد بن شاہین کے اعزاز میں اعتراف کمال تقریب کا انعقاد

تمغہ امتیاز یافتہ اداکار، پروڈیوسر، بینکار اور چیئرمین سندھ بورڈ آف فلم سینسرز جناب خالد بن شاہین کے اعزاز میں آرٹس...

پی آئی اے طیارہ ہائی جیکنگ کیس پر مبنی دستاویزی فلم فلائٹ 544 کی مقامی سنیما میں اسکریننگ

راوا اسٹوڈیو کی جانب سے راوا ڈاکیومینٹری فلمز کی پروڈکشن میں تیار کی گئی ڈاکیومینٹری فلم فلائٹ 544 کی سنیما اسکرینگ...

یاسر حسین کا تھیٹر پلے ہوٹل جانِ جاں، آرٹس کونسل کراچی میں کامیابی سے جاری

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور اسٹیج بگز پروڈکشن کے مشترکہ تعاون سے مزاح سے بھرپور ڈرامہ ”ہوٹل جانِ جاں“کی میڈیا...

عیدالفطر پر گاڈزیلا ایکس کانگ، اور دغاباز دل، کا شان دار بزنس

عیدالفطر سے پاکستانی سنیماؤں پر کئی مہینوں سے طاری جمود کا خاتمہ تو ہوگیا تاہم عید کے طویل ویک اینڈ کے...

ریسینٹ کمنٹس