Sunday, June 16, 2024
پہلا صفحہ مضامین سرے گھاٹ کی فرزانہ، فصیح باری خان کی لکھی ایک اچھوتی ٹیلی...

سرے گھاٹ کی فرزانہ، فصیح باری خان کی لکھی ایک اچھوتی ٹیلی فلم

غالباً فصیح باری خان ٹی وی ڈرامے کی دنیا کے وہ واحد ڈراما نویس ہیں جنھوں نے نہ صرف زمین سے جڑے کرداروں کو اپنے ڈرامے کا حصہ بنایا نیز انھوں نے اپنے ڈراموں کے عنوانات بھی ایسے رکھے جن سے زمین سے استوار رشتوں، علاقوں اور محلوں کی شناخت نے ہر اس ناظر کو ڈرامے سے جوڑ دیا جو اپنے شہر اور ملک کے ان علاقوں اور شہروں اور محلوں کے ناموں سے ہلکی سی بھی واقفیت رکھتا ہے۔ بہت سے دانشور لکھنے والے کو زمین اور اپنی جڑوں سے جڑا ہونے کی کسوٹی پر ہی پرکھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کم سے کم ایسے مفکروں کے سامنے فصیح نے خود کو ثابت کردیا ہے۔ رومانس آف رنچھوڑ لائن، برنس روڈ کی نیلو فر، بہار کولونی اور سرے گھاٹ کی فرزانہ، فصیح کے ڈراموں کے نام ہمیشہ انوکھے، چونکانے والے اور متوجہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ آپ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، آپ کے آس پاس شور ہی کیوں نہ برپا ہو لیکن اپنے شہر اور اپنے گلی محلوں کا تذکرہ کہیں دور سے بھی آپ کی سماعت کو چھوجائے تو آپ چونک کر متوجہ ہوجاتے ہیں یہ انسانی فطرت ہے۔ فطرت کو ٹی وی ڈراما لکھنے والوں نے گرچہ اپنے اپنے زاویوں سے پہچانا ہے مگر جس انداز اور حساسیت سے فصیح کو فطرت فہمی پر کمال حاصل ہے اس کی مثال اس شعبے میں بڑی مشکل سے ملتی ہے ۔۔۔۔ فصیح کے ڈرامے کی ایک اور مصیبت بلکہ بطور ڈراما نویس وہ اس چیلنج کوخود بڑھ کر چنوتی دیتے ہیں۔ ان کے ڈراموں کے کردار اور اسکرین پلے اور تزئین وآرائش اور میک اپ و جواہرات اور غیر معمولی طور پر امارت کی بے جا نمائش کرتے ہوئے محل اور قلعے نما مکانات جنھیں بنگلے اور کوٹھی کہنے سے زیادہ بہتر طور پر ان کے جاہ و جلال سے واقفیت ہوسکتی ہے ۔۔۔ایسے تمام مصنوعی سہاروں کے بغیر فصیح کے ڈرامے متشکل ہوتے ہیں جہاں کسی کو غریب کہا جارہا ہے تو وہ غریب دکھ بھی رہا ہے یہ نہیں ہے کہ باتیں غربت کی ہورہی ہیں اور ہزاروں روپے خرچ کرکے نک سک سے پورا میک اپ کسی ماہر مشاطہ یا مشاط سے کراکے ایسے مفلسانہ جملے بولے جارہے ہوتے ہیں کہ ہنسنے کے بجائے چپیڑ لگانے کا دل کرتا ہے۔ فصیح کو ان بے ساکھیوں کی ضرورت نہیں پڑتی اس کے باوجود ان کا ڈراما دلچسپی سے بھرپور ہوتا ہے کاٹ دار جملے، تہہ دار کرداروں کی دنیا، کڑوے کسیلے مسائل میں گھرے مکروہ اور واہیات اور دو نمبر ہیپو کریٹ ایسے لوگ جو سماج میں بدصورتی میں اضافے کا سبب ہیں لیکن ہم ان کی تہوں ان کی نفسیات اور گہرائیوں میں اتر کر دیکھتے ہیں تو ہمیں ان سے پوری طرح نفرت نہیں ہوتی۔ جانے انجانے ہزاروں رنگ کے احساسات انگنت سرنگوں سے نکل کرایسے گھیر لیتے ہیں جیسے کسی سانپوں کی نگری میں جا نکلے ہوں۔ طنز اور مزاح۔ سیاہی کے دبیز پردوں میں چھپا۔

سرے گھاٹ کی فرزانہ، کا کردار ماریہ واسطی نے ادا کیا ہے۔ وہ ایک طوائف ہے۔ اس کے پاس یہ زعم بھی ہے کہ وہ ایسی مخلوق ہے جو کسی کو بھی لوٹ کر مفلس بناسکتی ہے اپنے اس مقصد کو پانے کے لیے وہ قبر میں پاؤں لٹکائے بڈھوں سے شادی کرنے کا پینترا چلتی ہے لیکن پہلے اور دوسرے تجربے میں ہی اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ سماج کمینگی، گھٹیا پن اور بازاری ہونے میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ طوائف اس سماج کے قبر کے مردوں کو بھی لوٹنے کی صلاحیت کھو چکی ہے

سرے گھاٹ کی فرزانہ، کا کردار ماریہ واسطی نے ادا کیا ہے۔ وہ ایک طوائف ہے۔ اس کے پاس یہ زعم بھی ہے کہ وہ ایسی مخلوق ہے جو کسی کو بھی لوٹ کر مفلس بناسکتی ہے اپنے اس مقصد کو پانے کے لیے وہ قبر میں پاؤں لٹکائے بڈھوں سے شادی کرنے کا پینترا چلتی ہے لیکن پہلے اور دوسرے تجربے میں ہی اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ سماج کمینگی، گھٹیا پن اور بازاری ہونے میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ طوائف اس سماج کے قبر کے مردوں کو بھی لوٹنے کی صلاحیت کھو چکی ہے الٹا اسے یہ تجرباتی احساس دماغ کی شریانوں تک میں گھستا اور سرسراتا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ قلاش ہوچکی ہے۔ اگلا تجربہ بھی انھی چہروں کے روپ سروپ کے عفریتوں سے اٹا ہوا اسے منھ چڑا رہا ہے، بے شرمی سے آنکھ مار رہا ہے اور ان کے بیچ وہ سر پکڑے سوچ رہی ہے کہ طوائف تو بلاوجہ ہی بدنام ہے۔

فائزہ حسن، حنا دلپذیر دو بہنیں ہیں۔ فائزہ چھوٹی ہے۔ دو بچوں کی ماں ہے۔ تیسرا آنے والا ہے۔ حنا بے اولاد ہے۔ شبیر جان اس کا شوہر ہے۔ فائزہ کا شوہر شہود علوی ہے۔ قوی خان ان دونوں بہنوں کے گور کنارے بیٹھے باپ ہیں جن سے سرے گھاٹ کی فرزانہ، شادی کرتی ہے۔ مال و دولت ہتھیانے کے لئے۔ مگر اسے ملتا کیا ہے؟ قریب دو گھنٹے کی یہ ٹیلی فلم گوناگوں خوبیوں اور دلچسپیوں سے ایسی لب لب ہے کہ دیکھیں تو بس دیکھتے چلے جائیں۔ فائزہ حسن نے اس ٹیلی فلم میں ایسی غضب کی کردار سازی کی ہے کہ مجھے پہلی بار یہ احساس پوری شدت سے ہوا کہ وہ واقعی فطری اداکارہ ہے لیکن فطرت کو بھی خود کو منوانا پڑتا ہے۔ سرے گھاٹ پر زوروں سے سناٹا برس رہا ہے اور سانپ بچھو سب کھلے گھوم رہے ہیں۔

ٹیلی فلم سرے گھاٹ کی فرزانہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

ریڈیو پاکستان کا اسپورٹس چینل ایف ایم 94 بند کرنے کی سازش

پاکستان کے قومی ادارے پہلے ہی عدم تحفظ کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہیں، ایسے میں جب یہ خبر...

اداکار فیصل قریشی کی والدہ افشاں قریشی کے بیان نے ہلچل مچادی

افشاں قریشی کا شمار ٹی وی اور فلم کی منجھی ہوئی فن کاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے منفی کرداروں...

خالد بن شاہین کی نئی ڈرامہ سیریل کی ریکارڈنگ پر ڈائریکٹر عبداللہ بادینی کی جانب سے سرپرائز

معروف ٹی وی اداکار اور چیئرمین فلم سینسر بورڈ جناب خالد بن شاہین ان دنوں کافی ڈراموں کی ریکارڈنگز میں مصروف...
- Advertisment -

مقبول ترین

ریڈیو پاکستان کا اسپورٹس چینل ایف ایم 94 بند کرنے کی سازش

پاکستان کے قومی ادارے پہلے ہی عدم تحفظ کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہیں، ایسے میں جب یہ خبر...

اداکار فیصل قریشی کی والدہ افشاں قریشی کے بیان نے ہلچل مچادی

افشاں قریشی کا شمار ٹی وی اور فلم کی منجھی ہوئی فن کاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے منفی کرداروں...

خالد بن شاہین کی نئی ڈرامہ سیریل کی ریکارڈنگ پر ڈائریکٹر عبداللہ بادینی کی جانب سے سرپرائز

معروف ٹی وی اداکار اور چیئرمین فلم سینسر بورڈ جناب خالد بن شاہین ان دنوں کافی ڈراموں کی ریکارڈنگز میں مصروف...

آرٹس کونسل کراچی کے تحت اداکار خالد بن شاہین کے اعزاز میں اعتراف کمال تقریب کا انعقاد

تمغہ امتیاز یافتہ اداکار، پروڈیوسر، بینکار اور چیئرمین سندھ بورڈ آف فلم سینسرز جناب خالد بن شاہین کے اعزاز میں آرٹس...

ریسینٹ کمنٹس