Sunday, February 25, 2024
پہلا صفحہ تبصرے انور مقصود کا نیا تھیٹر پلے ساڑھے چودہ اگست، کیوں دیکھا جائے؟

انور مقصود کا نیا تھیٹر پلے ساڑھے چودہ اگست، کیوں دیکھا جائے؟

انور مقصود صاحب کا میں پی ٹی وی کے زمانے سے مداح ہوں۔ ان کے ڈراموں اور شوز نے ایک زمانے کو متاثر کیا۔ خاص طور پر ہاف پلیٹ، اور آنگن ٹیڑھا، تو کئی بار دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پاکستان میں طنز اور مزاح کو ایک ساتھ بہت کم لوگوں نے خوبی سے برتا ہے اور ان میں ٹی وی کے حوالے سے انور مقصود کا نام یوں بھی معتبر ہے کہ سینسر کی پابندیوں کے باوجود انہوں نے جو کچھ بھی کہنا چاہا، وہ کہہ ڈالا اور وہ بھی سرکاری ٹی وی پر۔ جب تھیٹر پر انہیں داور محمود جیسے نوجوان ڈائریکٹر کا ساتھ ملا تو انہوں نے چار قدم آگے جاکر بے باکی کا مظاہرہ کیا اور دل کھول اور قلم توڑ کر لکھا۔ داور محمود کے ساتھ انہوں نے کئی عمدہ تھیٹر پلے کیے، جن میں آنگن ٹیڑھا، ہاف پلیٹ، اورسیاچن، شامل ہیں لیکن ان کی چودہ اگست سیریز کو غیر معمولی پزیرائی ملی۔ پونے چودہ اگست، اور سوا چودہ اگست، کے بعد اس ٹرائیلوجی کا تیسرا اور آخری کھیل ’ساڑھے چودہ اگست‘ ان دنوں آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں جاری ہے۔

گزشتہ روز مذکورہ کھیل کاپی کیٹس پروڈکشنز اور آرٹس کونسل کے زیراہتمام میڈیا شو میں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اگرچہ یہ کھیل پچھلے دونوں ڈراموں کے برعکس قدرے طوالت کا شکار اور کہیں کہیں بوریت کا احساس دلاتا ہے لیکن پروڈکشن ڈیزائن اور داور کی ڈائریکشن کے باعث متاثر کرنے میں کامیاب رہا۔ انور مقصود صاحب کا اسکرپٹ اس سیریز کے پچھلے دونوں ڈراموں سے قدرے کم طنزیہ مگر ذیادہ مزاحیہ محسوس ہوا۔ اگرچہ ڈرامے میں جگت کا تڑکا ذیادہ حاوی ہے اور مکالموں میں انور صاحب کی روایتی کاٹ ذرا کم محسوس ہوئی لیکن ہال میں بیٹھے تماشائیوں نے خوب انجوائے کیا اور کھل کر داد دی۔ انور مقصود جیسے برانڈ کا کسی ڈرامے سے جڑنے کا یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ جہاں داد نہیں بنتی، آڈیئنس وہاں بھی داد دینے سے نہیں چوکتے۔

قائد اعظم کے کردار میں عمر قاضی اور گاندھی کے کردار میں تنویر گِل نے متاثر کیا

ساڑھے چودہ اگست، کا تانا بانا قائد اعظم اور گاندھی جیسے کرداروں کی مدد سے تقسیم ہند کے مسائل سے جوڑاگیا ہے اور پھر کہانی کو لاہور تا دہلی گزارتے ہوئے لندن میں اختتام کیا گیا ہے۔ بحث وہی کہ تقسیم درست تھی یا غلط اور آج جو پاکستان و ہندوستان کا حال ہے، اس کا ذمے دار کون ہے؟

اس کھیل کی خاص بات قائد اعظم کے کردار میں عمر قاضی اور گاندھی کے کردار میں تنویر گِل کی زبردست اور نپی تلی پرفارمنس رہی۔ دونوں نے اپنے کرداروں کو بخوبی برتا۔ عمر قاضی ٹی وی، فلم اور تھیٹر(وہ بھی امریکا میں) پر اپنی پرفارمنس سے کئی بار متاثر کرچکے ہیں لیکن یہ کردار ان کے کیریئر کا سنگ میل کہا جاسکتا ہے۔ قائد اعظم کا کردار جو مینر ازم ڈیمانڈ کرتا ہے، اسے عمر نے کمال مہارت سے ادا کیا۔ اسی طرح تنویر گِل نے گاندھی کے کردار کو طربیہ انداز میں خوب نبھایا۔ اس کردار کی ٹائمنگ لاجواب رہی۔ دیگر اداکاروں میں ساجد حسن، نذر حسین، طیب فاروقی، سلویٰ سہیل، جہانزیب علی شاہ، حمزہ طارق جمیل، خضر انصاری، جازا عقیل، وغیرہ نے اپنے کرداروں سے انصاف کیا۔

سیٹ ڈیزائن، لائٹنگ اورمیوزک بھی اس کھیل کے وہ شعبے ہیں جو اوور آل پروڈکشن کو سپورٹ کرتے ہیں اور جن کی بدولت یہ ڈرامہ قابل دید ثابت ہوا۔
اس کھیل کی ایک ہائی لائٹ پرفارمنس صوفیہ کا ڈانس نمبر ہے جس کی کوریو گرافی (راجا مغل) متاثر کن ثابت ہوئی۔ اس کے لیے خاص طور پر آئٹم سونگ کمپوز کیا گیا جو کہ عباس علی خان اور شیراز اپل کی مشترکہ کاوش ہے اور اسے نیہا چوہدری نے گایا ہے۔ پان کھلادے، خالص فلمی انداز کی کمپوزیشن ہے، جس کے لیریکس بھی سننے لائق ہیں۔
مجموعی طور پر داور محمود کی ڈائریکشن کو داد دینا بنتی ہے کہ محدود وسائل اور محدود اسٹیج پر اس قدر ہیوج پروڈکشن پلے کرنا اپنی جگہ ایک چیلنج ہے اور داور نے ان تمام چیلنجز کو بخوبی ہینڈل کیا۔

ساڑھے چودہ اگست کے ڈائریکٹر داور محمود

آخر میں دو اہم نکات جن پر بات کرنا ضروری ہے۔ ایک تو اس کھیل کے دوران اسٹیج پر اوریجنل فائر کریکرز سے جو تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، اس نے آڈیئنس پر کوئی اچھا اثرنہیں چھوڑا۔ نشستوں پر برا جمان بیشتر حاضرین ان فائر کریکرز سے خوف ذدہ نظر آئے۔ یہ کام ساؤنڈ ایفیکٹس سے بھی لیا جاسکتا تھا۔ دوسرا، کھیل کے دوران دو، تین کردار منہ میں پٹرول بھرکر آگ کے گولے بناتے دکھائی دیے۔ ماضی قریب میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں کہ یہ کرتب دکھانے والے فن کار خود آگ کی لپیٹ میں آنے سے جھلس گئے۔ اس قسم کا رسک لینا کسی بڑے حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگرچہ یہ سب کچھ دیکھنے میں بہت بھلا لگتا ہے اور ڈائریکٹر بھی یہی چاہتا ہوگا کہ اس سے ڈرامے میں حقیقت کے رنگ بھرے جاسکیں لیکن یہ رنگ کبھی کبھار خون میں بھی رنگے جاتے ہیں لہٰذا آڈیئنس کے سامنے اس قسم کے تجربات سے گریز کرنا مناسب ہے کہ ان میں بچے، بوڑھے، مریض، ہر طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں۔
حرف آخر: اگر آپ نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا تو بہت کچھ مس کردیں گے۔

2 COMMENTS

  1. عمر خطاب کا انور مقصود کے لکھے اور داور محمود کے پروڈیوس کئے ہوئے اسٹیج ڈرامہ ساڑھے چودہ اگست پر نہایت ہی عمدہ اور حقیقت پر مبنی تبصرہ کم و بیش میرے ساتھ کئی کئی دوسروں کی رائے بھی عمر خطاب جیسی ہی ہے۔ سکرپٹ میں بیشتر موقعوں پر اس چیز کا احساس ہوا کہ انور مقصود صاحب کے لکھے ہوئے جملوں کو ڈائیلاگ کی شکل دیتے ہوئے تہذیب کے دامن کو چھوڑ دیا گیا جو یقینی طور پر انور کا خاصہ نہیں ہے اور نا تھا۔ قائد اور گاندھی کے کرداروں کو نہایت عمدگی اور مہارت کے ساتھ نبھایا گیا جس کے لیئے ڈائریکٹر اور فنکاروں کی فنکارانہ صلاحیتوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے تو وہ کم ہے۔ ڈرامہ دیکھیں ضرور کیونکہ اس پر بہت محنت کی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

انڈین پنجابی فلم جی وے سوہنیا جی، کی پاکستان میں نمائش پر پابندی عائد

سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کی پاکستان بھر میں نمائش پر...

پاکستان اور اسلام دشمن نظریات کا پرچار کرتی انڈین پنجابی فلم کی پاکستانی پنجاب میں نمائش پر عوامی ردعمل

پاکستان اور اسلام مخالف انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کو پنجاب میں نمائش کی اجازت دینے پر پنجاب فلم...

فلم فیئرایوارڈز 2024 کا میلہ میاں بیوی کی جوڑی رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے نام رہا

اٹھائیس جنوری کو بالی وڈ کے سب سے اہم ایوارڈز فلم فیئر کا انعقاد گجرات میں کیا گیا جس میں سال...
- Advertisment -

مقبول ترین

انڈین پنجابی فلم جی وے سوہنیا جی، کی پاکستان میں نمائش پر پابندی عائد

سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کی پاکستان بھر میں نمائش پر...

پاکستان اور اسلام دشمن نظریات کا پرچار کرتی انڈین پنجابی فلم کی پاکستانی پنجاب میں نمائش پر عوامی ردعمل

پاکستان اور اسلام مخالف انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کو پنجاب میں نمائش کی اجازت دینے پر پنجاب فلم...

فلم فیئرایوارڈز 2024 کا میلہ میاں بیوی کی جوڑی رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے نام رہا

اٹھائیس جنوری کو بالی وڈ کے سب سے اہم ایوارڈز فلم فیئر کا انعقاد گجرات میں کیا گیا جس میں سال...

سینئر اداکار خالد بٹ کی نماز جنازہ ادا، لاہور میں سپرد خاک کردیا گیا

فلم، تھیٹر اور ٹی وی کے نام ور اداکار خالد بٹ، کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان آج لاہور میں سپرد...

ریسینٹ کمنٹس