Tuesday, September 8, 2026
پہلا صفحہخبریںنظام کی ازسرِ نو تشکیل ضروری، نئے انتظامی یونٹس بننا ناگزیر ہیں:...

نظام کی ازسرِ نو تشکیل ضروری، نئے انتظامی یونٹس بننا ناگزیر ہیں: وفاقی وزیر داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کہتے ہیں کہ ملک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسے دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نظام کو توڑ دیا جائے۔ بلکہ اسے غلطیوں کو درست کرنے کے لیے تبدیل کیا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب کافی جذباتی تقاریر ہورہی ہیں۔ یہ بات کل یا پچھلے دن ہونے والی نہیں ہے۔ اس لیے لوگ جذباتی نہ ہوں۔ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام کی خواہش، آئین کے تقاضوں اور قومی اتفاق رائے کے تحت ہونا چاہیے۔

لاہور میں ہونے والے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے نظام کو درست کرنے کی بات کی تھی۔ لیکن کچھ لوگوں نے اسے حکومت یا کسی سیاسی جماعت سے جوڑ دیا۔ حالانکہ ان کا مطلب کسی سیاسی جماعت سے نہیں تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اور یہ سب کام آئین کے اندر رہ کر ہی ہونے چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس کے حق میں ہوں گے تو یہ بنیں گے۔ اگر نہیں ہوں گے تو نہیں بنیں گے۔

محسن نقوی نے ملک کے انتظامی نظام کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور انصاف کی صورت حال کا بھی ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ تعلیم، صحت اور انصاف ہر شہری کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔ آج بھی تقریباً 2 کروڑ بچے اسکول نہیں جارہے۔ 26 لاکھ لوگ عدالتوں میں انصاف کے لیے دھکے کھا رہے ہیں۔ جب کہ نوجوانوں کو روزگار کی ضرورت ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کہتے ہیں کہ ملک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسے دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ یہ نظام کو توڑنا نہیں بلکہ غلطیوں کو درست کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کافی جذباتی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ایسی باتیں آج یا کل ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں جذباتی نہ ہوں۔ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام کی خواہش، آئین کے تقاضوں اور قومی اتفاق رائے کے تحت ہونا چاہیے۔

لاہور میں منعقدہ نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں اُنہوں نے کہا کہ وہ نظام کو درست کرنے کی بات کر رہے تھے، جسے کچھ لوگ حکومت یا کوئی سیاسی جماعت سے جوڑ رہے ہیں، حالانکہ ان کی نیت کسی سیاسی جماعت سے نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ سسٹم کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور یہ سب کام آئین کے اندر رہ کر ہی کیا جائے۔ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس کے حق میں ہوں گے تو وہ بنیں گے، ورنہ نہیں۔

نقوی نے تعلیم، صحت اور انصاف کی صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہر شہری کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔ لیکن اب بھی ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جا رہے، 26 لاکھ لوگ عدالتوں میں انصاف کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، اور نوجوان روزگار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نقوی نے تعلیمی معیار کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پانچویں جماعت کا بچہ عام جملے نہیں پڑھ سکتا تو یہ تعلیم کے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اور پالیسیاں ہمیشہ بدل جاتی ہیں، لیکن بنیادی مسائل کے حل کے لیے نظام میں بہتری ضروری ہے۔

اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے حوالے سے نقوی نے کہا کہ وہ اس کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ وہ اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں کام پر رہوں یا نہ رہوں، مگر اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا پیسہ ہر شہری کا حق ہے، لیکن اسلام آباد کے شہریوں کو اس کا فائدہ نہیں ملتا۔

نقوی نے بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے بڑے شہروں کے انتظامی مرکزیت کے مسئلے کا ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے تجربے کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پورے پنجاب کا دورہ کرنے کی کوشش کی، لیکن نہیں کر سکے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ایک بیوروکریٹ ایک شہر میں بیٹھ کر سات کروڑ لوگوں کے متعلق فیصلے کیسے کر سکتا ہے۔

نقوی کا کہنا ہے کہ ملک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہو چکا ہے۔ اس لیے تحصیلوں، ڈویژن اور اضلاع کی تعمیر ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتظامی یونٹس کی بات کی جاتی ہے، لیکن جب نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کی بات آتی ہے تو اعتراضات سامنے آ جاتے ہیں۔

نقوی نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی تقسیم یا صوبوں کے نام تبدیل کرنے کی بات نہیں ہو رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ پنجاب میں شمالی اور جنوبی پنجاب جیسے انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں، اور اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے صوبوں کی شناخت برقرار رہے گی، لیکن انتظامی معاملات بہتر ہو سکیں گے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ صرف ‘ہاں’ یا ‘نہیں’ تک محدود نہ رہیں، بلکہ سنجیدہ طور پر بات کریں۔

نقوی کہتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کو اس معاملے پر بیٹھنا چاہیے۔ تمام تجاویز کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی اتفاق رائے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر بحث جاری رکھتے ہوئے ہر شہر کی رائے بھی لی جانی چاہیے۔ اس طرح فیصلہ وسیع تر مشاورت کے بعد ہو سکے گا۔

نقوی کا کہنا ہے کہ حکومت کو نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں دور کرنا ہوگا۔ اس سے عوام کو بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

نقوی کہتے ہیں کہ اب بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ ملک میں کتنے انتظامی یونٹس ہونے چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر بیٹھنا ہوگا۔ آئین کے تقاضوں کے ساتھ عوام کی رائے کو بھی فیصلے کا حصہ بنانا ہوگا۔ وفاقی وزیر داخلہ کی امید ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔ اگر یہ عوام کی آواز ہے تو یہ ہر صورت پوری ہوکر رہے گی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ چھوٹے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حامی ہیں۔ لیکن چھوٹے صوبوں کا قیام مسائل کا مکمل حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ نیت کا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کا نظام درست کرنے کے بجائے اب نئے صوبوں کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ نئے صوبے بننے سے بھی بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب صوبے بادشاہت سے بھی بدتر حالت میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں موروثی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دھرتی ماں پاکستان ہے، صوبے نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کی مخالفت کرنے والی پیپلزپارٹی پنجاب میں نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے اوورسیز عون چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے قیام پر ملک میں چار صوبے اور تقریباً چار کروڑ لوگ تھے۔ اگر چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے جائیں تو نئی لیڈرشپ سامنے آ سکتی ہے، اور دس وزیر اعلیٰ کے ساتھ وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ اس نے واضح کیا کہ اصل مسئلہ نظام میں ہے اور اسے درست کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں اکنامک سمٹ میں کہا کہ نئے انتظامی یونٹس اور صوبے وقت کی بڑی ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارے موجودہ نظام نے ناپائیداری دکھا دی ہے، اور سسٹم کو ری سیٹ کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اس کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں میں نئے صوبوں کی تشکیل پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ اس موضوع پر پیپلز پارٹی نے سخت ترین ردعمل پیش کیا۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار احمد کھوڑو نے سندھ اسمبلی میں تحریکِ التوا پیش کی، جس پر کئی دنوں تک تفصیلی بحث ہوئی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ لاہور میں بیٹھے بزنس مین یا کوئی بھی فرد سندھ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک سندھ کے لوگ زندہ ہیں، صوبے کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، اور اس کا فیصلہ ٹی وی یا سیمینارز کے بجائے صرف منتخب اسمبلی کے ذریعے ہو گا۔

رواں ماہ کے آغاز میں سندھ اسمبلی نے متحد ہو کر ایک قرارداد منظور کی جو کسی بھی بنیاد پر سندھ کی تقسیم کے خلاف ہے۔ قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور صوبے کی جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس