پنجابی میوزک انڈسٹری سے ایک ایسی چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے جس نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ لدھیانہ کے سدھار علاقے میں معروف پنجابی گلوکار اور نغمہ نگار بلجیت سنگھ کی لاش ان کے گھر سے برآمد ہوئی، جہاں وہ مبینہ طور پر کئی دنوں سے اکیلے رہ رہے تھے۔
واقعہ اس وقت سامنے آیا جب 3 ستمبر کی صبح گھر سے آنے والی شدید بدبو نے پڑوسیوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور گھر میں داخل ہوئی تو بلجیت سنگھ کی لاش بستر پر موجود تھی۔ کئی روز گزر جانے کے باعث لاش کی حالت انتہائی خراب ہوچکی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق بلجیت سنگھ بستر پر نیم دراز حالت میں تھے جبکہ ان کے ہاتھ اوپر کی جانب تھے۔ لیکن معاملے کو مزید پراسرار بنانے والی بات گھر کے اندر خون کے نشانات کا ملنا تھا۔
خون کے نشانات دیکھتے ہی پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کردی۔ فرانزک ٹیم، ڈاگ اسکواڈ اور سی آئی اے کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ممکنہ شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس کی جانب سے گھر کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی کھنگالی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ گلوکار کی موت سے قبل یا بعد میں گھر کے قریب کوئی مشکوک سرگرمی تو نہیں ہوئی۔
تاہم ابتدائی تفتیش کے دوران جس پہلو نے پورے معاملے کو ایک نیا رخ دیا، وہ پوسٹ مارٹم رپورٹ تھی۔
پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم میں بلجیت سنگھ کی موت کی ابتدائی وجہ ہارٹ اٹیک سامنے آئی ہے۔ فی الحال پولیس کو کسی واضح مجرمانہ کارروائی کے ایسے شواہد نہیں ملے جن کی بنیاد پر اسے قتل قرار دیا جاسکے۔
اس کے باوجود گھر میں خون کے نشانات اور دیگر حالات کو نظرانداز نہیں کیا جا رہا اور پولیس کی تفتیش جاری ہے۔
تقریباً 35 سالہ بلجیت سنگھ غیر شادی شدہ تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ والدین کی وفات کے بعد وہ گھر میں اکیلے رہ رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ماضی میں ان کے خلاف منشیات سے متعلق ایک مقدمہ بھی درج ہوا تھا، تاہم پولیس نے یہ واضح کیا ہے کہ انہیں منشیات کا عادی قرار دینے کی کوئی حتمی بنیاد موجود نہیں۔
یوں ایک طرف گھر سے کئی دن پرانی لاش، دوسری جانب خون کے نشانات اور بستر پر ملنے والی لاش نے کئی سوالات کو جنم دیا، لیکن دوسری طرف ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے موت کو دل کا دورہ قرار دیا ہے۔
اب اصل سوال یہی ہے کہ گھر میں خون کے نشانات کیسے آئے؟
کیا یہ کسی حادثے کا نتیجہ تھے، موت سے پہلے طبی کیفیت کی وجہ سے خون نکلا، یا اس معاملے میں کوئی اور پہلو بھی پوشیدہ ہے؟
پولیس کی مکمل تفتیش اور حتمی فرانزک رپورٹ ہی ان سوالات کا جواب دے سکے گی۔



