پہلے یہ سمندر تھاـ پھر قدرت نے پتھروں کا خوفناک جنگل اُگایا ـ ہر پتھر 20 کروڑ سال کا
ذرا تصور کیجیے۔
آپ ایک ایسے جنگل میں داخل ہوتے ہیں جہاں نہ نرم مٹی ہے، نہ گھاس، نہ کوئ سیدھی پگڈنڈی۔ آپ کے چاروں طرف ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں تیز دھار پتھریلے نیزے آسمان کی طرف بلند ہیں۔
ایک غلط قدم آپ کو سیکڑوں فٹ گہری دراڑ میں گرا سکتا ہے۔ ہوا ان پتھروں سے ٹکراتی ہے تو ایک پراسرار سی سرگوشی سنائی دیتی ہے، جیسے یہ چٹانیں کروڑوں برس پرانی کوئی بھولی ہوئی کہانی سنا رہی ہوں۔
یہ منظر کسی سائنس فکشن فلم کا نہیں بلکہ افریقہ کے جزیرہ ملک مڈغاسکر میں موجود تسینگی ڈی بیماراھا کا ہے، جسے دنیا کے عجیب ترین قدرتی عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔
تسینگی
مقامی ملاگاسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے “وہ جگہ جہاں ننگے پاؤں چلنا ناممکن ہو۔” یہ نام اس سرزمین کی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ یہاں کے نوکیلے پتھر چھری کی دھار کی طرح تیز ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقام کو کسی مہم جو نے دریافت نہیں کیا تھا۔ یہاں صدیوں سے مقامی ساکالاوا قبائل رہتے تھے اور اس خطرناک پتھریلے جنگل کو بخوبی جانتے تھے۔
البتہ مغربی دنیا کو اس کے وجود کا باقاعدہ علم بیسویں صدی کے آغاز میں اس وقت ہوا جب فرانسیسی ماہرینِ ارضیات اور نقشہ ساز اس علاقے تک پہنچے اور اس کا سائنسی مطالعہ شروع کیا۔
بعد ازاں 1957ء میں اسے محفوظ قدرتی علاقہ قرار دیا گیا، جبکہ 1990ء میں یونیسکو نے اسے عالمی قدرتی ورثہ قرار دے دیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ عجیب و غریب پتھریلا جنگل وجود میں کیسے آیا؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں وقت کے پہیے کو تقریباً 16 سے 20 کروڑ سال پیچھے لے کر جانا پڑتا ہے۔
آج جہاں یہ نوکیلے پتھر آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہاں کبھی ایک گرم اور نسبتاً کم گہرا سمندر موجیں مارتا تھا۔ اس سمندر میں مرجان، سیپیاں، گھونگھے اور بے شمار سمندری جاندار آباد تھے۔
لاکھوں برس تک ان جانداروں کے خول سمندر کی تہہ میں جمع ہوتے رہے اور وقت کے ساتھ دباؤ اور قدرتی تبدیلیوں نے انہیں چونے کے پتھر کی موٹی تہوں میں تبدیل کر دیا۔
یہ صرف ایک نظریہ یا اندازہ نہیں بلکہ سائنسی تحقیق سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔
ماہرین نے یہاں موجود چٹانوں کی پرتوں کا تفصیلی مطالعہ کیا، ان میں محفوظ قدیم سمندری جانداروں کے فوسلز دریافت کیے، معدنی ساخت کا تجزیہ کیا اور جدید ارضیاتی تحقیقاتی طریقوں سے ان کی عمر معلوم کی۔
چٹانوں کی تہوں کے مطالعے کو طبقات الارض کہا جاتا ہے، فوسلز کے مطالعے کو علمِ حیاتِ قدیمہ اور بعض معدنیات کی عمر معلوم کرنے کے لیے ریڈیو میٹرک ڈیٹنگ جیسی جدید تکنیک استعمال کی جاتی ہے۔
ان تمام تحقیقات نے ایک ہی حقیقت کی تصدیق کی کہ یہ چونے کے پتھر تقریباً 160 سے 200 ملین سال پہلے، یعنی جوراسک دور میں وجود میں آئے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ سائنس دان پورے اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ تسینگی ڈی بیماراھا کی بنیادی چٹانیں ڈائنوسار کے زمانے کی یادگار ہیں۔
لیکن اس کے بعد بھی یہ علاقہ آج جیسا نہیں تھا۔
کروڑوں سال گزرنے کے بعد زمین کی سطح بلند ہوئی، سمندر پیچھے ہٹ گیا اور چونے کے پتھر کھلی فضا میں آ گئے۔ پھر قدرت نے اپنا سب سے صبر آزما فن شروع کیا۔
بارش کا پانی جب فضا سے گزرتا ہے تو اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گھل جاتی ہے اور ایک ہلکا سا کاربنک ایسڈ بن جاتا ہے۔ یہ پانی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں برس تک انہی چونے کے پتھروں پر گرتا رہا۔
آہستہ آہستہ پتھر گھلتے گئے، ان میں دراڑیں بنتی گئیں، دراڑیں گہری ہوتی گئیں اور آخرکار یہ پورا علاقہ ہزاروں نوکیلے پتھریلے میناروں میں تبدیل ہو گیا۔
ماہرین ارضیات اس قسم کی زمین کو کارسٹ لینڈ سکیپ کہتے ہیں، لیکن شاید دنیا میں کہیں بھی اس کی اتنی شاندار اور خوفناک مثال موجود نہیں جتنی تسینگی ڈی بیماراھا میں دیکھی جا سکتی ہے۔
یہاں بعض پتھریلے مینار تقریباً 100 میٹر، یعنی 328 فٹ تک بلند ہیں۔ ان کے درمیان اتنی گہری دراڑیں ہیں کہ کئی جگہ سورج کی روشنی بھی مکمل طور پر نیچے نہیں پہنچ پاتی۔
ان نوکیلے پتھروں کے نیچے ایک اور دنیا چھپی ہوئی ہے۔
یہاں سینکڑوں غاریں موجود ہیں، زیرِ زمین پانی کے راستے ہیں اور مشہور دریائے مانامبولو لاکھوں برس سے ان چٹانوں کو کاٹتی ہوئی بہہ رہی ہے۔ یہی دریا اس پورے علاقے کی موجودہ شکل بنانے میں قدرت کا سب سے بڑا معاون سمجھا جاتا ہے۔
آج جب کوئی سیاح یہاں پہنچتا ہے تو اسے لوہے کی سیڑھیوں، معلق پلوں اور حفاظتی رسیوں کے ذریعے ان پتھروں کے درمیان سفر کرنا پڑتا ہے، کیونکہ معمولی سی لغزش بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
لیکن حیرت کی بات یہ نہیں کہ قدرت نے کروڑوں سال میں یہ پتھروں کا جنگل بنایا…
اصل حیرت تو وہ مخلوقات ہیں جنہوں نے انہی تیز دھار پتھروں کو اپنا گھر بنا لیا۔ ایسے جانور جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملتے، ایسے پرندے جو معدومی کے دہانے پر ہیں۔
ایسے گرگٹ جو ایک ہی وقت میں دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتے ہیں، اور ایک ایسا شکاری جانور جسے مڈغاسکر کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور وہ صرف اسی جگہ پایا جاتا ہے۔









