یوٹیوب نے اپنے ناظرین کی سہولت کے لیے مونیٹائزیشن کی پالیسی میں کچھ اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ ان نئے قوانین کا مقصد پلیٹ فارم سے کم محنت اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے غیر معیاری مواد کو کم کرنا ہے۔
یوٹیوب کی جانب سے جاری کردہ نئے وضاحتی بیان کے مطابق، کمپنی نے مصنوعی ذہانت پر مکمل پابندی نہیں لگائی ہے۔ بلکہ وہ “غیر مستند اور خودکار” ویڈیوز کو ہدف بنا رہے ہیں جو صرف پیسے کمانے اور توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔
اب ان تین اقسام کے مواد سے کمائی ممکن نہیں ہوگی
ایک ہی طرز کا مصنوعی مواد: ایسی ویڈیوز جو مصنوعی ذہانت یا بنیادی خاکوں (ٹیمپلیٹس) کا استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی خاص انسانی کاوش یا تبدیلی کے تیزی سے تیار کی جاتی ہیں، ان کی کمائی روک دی جائے گی۔ اس میں کسی اور کی معلوماتی ویڈیوز کو بغیر کسی نئی تخلیقی صلاحیت کے دوبارہ مصنوعی ذہانت سے تیار کرنا بھی شامل ہے۔
سنسنی خیز ویڈیوز: کو اشتہاری آمدن سے محروم کر دیا جائے گا۔ یہ وہ ویڈیوز ہیں جو لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں اور ان میں جذباتی طور پر بلیک میل کرنے یا ناگوار مناظر ہوتے ہیں۔ ان میں جانوروں کو بچانے کی جعلی یا ڈرامائی ویڈیوز شامل ہو سکتی ہیں۔ چاہے ان میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہوا ہو یا نہیں، انہیں اشتہاری آمدن سے محروم کر دیا جائے گا۔
حساس موضوعات پر مشورے: صحت، مالیات، یا قانونی امور جیسے اہم اور حساس موضوعات پر ناظرین کو مشورے دینے کے لیے ‘مصنوعی شخصیات’ کے استعمال پر مونیٹائزیشن مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
غیر معیاری مواد کے خلاف سخت کارروائی
یوٹیوب کے چیف آف ٹرسٹ اینڈ سیفٹی میٹ ہالپرن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز سچے اور تخلیقی افراد کو بہترین کام کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم، یوٹیوب ایسے خودکار چینلز کے خلاف سخت اقدام کر رہا ہے جو بغیر کسی کہانی یا انسانی سوچ کے ایک ہی طرز کی غیر معیاری ویڈیوز بناتے ہیں۔
یوٹیوب نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟
یہ پالیسی اپ ڈیٹ تجارتی اور مالیاتی لحاظ سے یوٹیوب کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یوٹیوب اس وقت روایتی ٹی وی نیٹ ورکس اور ‘نیٹ فلکس’ جیسے ویڈیو پلیٹ فارمز کے ساتھ اشتہاری بجٹ حاصل کرنے کے لیے براہ راست مقابلے میں ہے۔
عالمی سطح پر روزانہ دیکھے جانے کے حوالے سے نیٹ فلکس کو پیچھے چھوڑنے کے بعد، یوٹیوب اپنے پلیٹ فارم کو غیر معیاری اور فضول مواد سے بھرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا، کیونکہ اس سے ناظرین کی دلچسپی ختم ہوتی ہے اور بڑے عالمی برانڈز بھی اشتہارات دینے سے گریز کرتے ہیں۔
عام ناظرین کے لیے اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں گمراہ کن، سنسنی خیز اور غیر معیاری ویڈیوز کم نظر آئیں گی اور خصوصاً طبی یا مالیاتی مشوروں میں جعلی مصنوعی ماہرین کے دھوکے سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔
ویڈیوز بنانے والوں کے لیے ان ہدایات نے تخلیق کاروں کو اپنے کام کرنے کے انداز پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جو چینلز محض خودکار طریقوں کے سہارے ویوز حاصل کر رہے تھے، انہیں اب اپنی ویڈیوز میں انسانی تخلیقیت، اصلیت اور نیا نقطہ نظر شامل کرنا ہوگا، ورنہ انہیں کمائی کے پروگرام سے مکمل طور پر باہر کر دیا جائے گا۔





