پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حال ہی کی واقعات کی وجہ سے علاقائی کشیدگی بڑھنے پر بہت زیادہ تشویش محسوس کر رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ انہوں نے بدلتی علاقائی صورتحال پر بات چیت کی اور کشیدگی میں کمی اور تحمل کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ تنازعات کے حل کا واحد قابل عمل راستہ مذاکرات اور سفارتکاری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ فریقین Islam آباد ایم او یو کے تحت کشیدگی میں کمی اور تحمل کا راستہ اختیار کریں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکا نے ایران کے خلاف حملوں کا تیسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے اور تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ یہ کشیدگی خطے کے لیے بہت خطرناک ہے اور ہمیں امید ہے کہ فریقین جلد از جلد کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔





