Wednesday, September 9, 2026
پہلا صفحہخبریںرپورٹ: امریکا کا مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کم کرنے اور تنصیبات...

رپورٹ: امریکا کا مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کم کرنے اور تنصیبات زیرِ زمین منتقل کرنے پر غور

امریکہ کی فوج اور جاسوسی ادارے مشرق وسطیٰ میں اپنے عملے اور اسٹیبلشمنٹ کم کرنے پر سوچ رہے ہیں۔

سی این این کے رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جھگڑا ختم کر لیتی ہے تو امریکہ وہاں اپنی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ نے عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا میں اپنی فوجی اور جاسوسی نیٹ ورک کو بہت بڑھایا تھا۔ لیکن اب ایران کے ساتھ مسئلے نے دکھا دیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی ڈھانچے میں کمزوری ہے۔

امریکہ کے میڈیا کے مطابق فوجی اور جاسوسی حکام نے غیر رسمی طور پر بات کی تاکہ جنگ کے بعد کا منصوبہ بن سکے، کیونکہ صدر نے اس بارے میں کوئی واضح پالیسی نہیں دی۔

ذرائع کے مطابق ابھی بھی مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار امریکی فوجی، 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک درجن سے زائد دیگر جنگی بحری جہاز ہیں اور واپس بلائے گئے سی آئی اے اہلکار بھی دوبارہ وہاں جا رہے ہیں۔

امریکہ کی فوج اپنے باقی رہ جانے والے یونٹس کی دفاع کو مضبوط بنانے پر بھی غور کر رہی ہے۔

دو ذرائع نے بتایا کہ ڈرون اور میزائل حملوں سے بچنے کے لیے کچھ حساس تنصیبات کو زیرِ زمین منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ پینٹاگون پہلے سے ہی اس پر سوچ رہا تھا لیکن ایرانی حملوں کے بعد فوری طور پر اس پر عمل کرنا ضروری ہو گیا۔

فوجی حکام نے آئندہ سال تک مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لئے مختلف ممکنہ منصوبے تیار کر لیے ہیں۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس