عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام کے باوجود روزگار کے بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش ظاہر کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، جبکہ بے روزگاری کی شرح 7 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ہر سال تقریباً 36 لاکھ نوجوان روزگار کی تلاش میں لیبر مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ حقیقی اجرتوں میں کمی اور مہنگائی میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی بینک نے معاشی ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے اصلاحات اور نجی شعبے میں ملازمتوں کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی بینک نے پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ 2026 جاری کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چھ برس کے دوران ملک میں غربت کی شرح میں 7 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018-19 میں غربت کی شرح 22 فیصد تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ 2024 میں پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں غربت میں اضافے کی اہم وجوہات میں مزدوروں کی حقیقی آمدن میں کمی، بلند مہنگائی اور پیداواری صلاحیت میں سست رفتار ترقی شامل ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق خواتین اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بھی نسبتاً زیادہ ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2018 سے اب تک ملک میں ایک کروڑ 77 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، تاہم ان میں سے بیشتر ملازمتیں کم اجرت والے اور کم پیداواری شعبوں میں سامنے آئیں۔ پاکستان میں 2014 سے 2024 کے دوران سالانہ لیبر پروڈکٹیویٹی کی شرح محض 0.4 فیصد رہی۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مالی سال 2026-27 میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد کی بلند سطح پر رہ سکتی ہے۔
پاکستانی معیشت سے متعلق اپنی رپورٹ میں عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ معاشی استحکام روزگار کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال 36 لاکھ نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں لیبر مارکیٹ کا حصہ بن رہے ہیں، جبکہ 2018 سے اب تک روزگار کے مسائل برقرار ہیں۔ اس دوران مزدوروں کی آمدن میں کمی اور مہنگائی میں مسلسل اضافے نے عوام پر معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.8 فیصد اور اوسط مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد اور بے روزگاری کی شرح 7 فیصد رہی تھی۔ عالمی بینک کے مطابق 2030-31 کی درمیانی مدت تک معاشی ترقی کی شرح 4.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، سالانہ 6 فیصد معاشی نمو حاصل کرنے کے لیے تیز رفتار ساختی اصلاحات اور نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہوگا۔
رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں توانائی کے درآمدی بل میں 30 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ بحران کے باعث درآمدات، قرضوں اور بیرونی مالی ضروریات پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ پاکستان کو اپنی سالانہ جی ڈی پی کے 15 فیصد کے برابر بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
عالمی بینک کا پاکستان کو درپیش 4 اہم خطرات سے متعلق انتباہ
عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت کو لاحق چار اہم خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع، ایل نینو، بیرونی فنانسنگ کے مسائل اور مالی وسائل کی قلت معاشی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں معاشی ترقی کی شرح 4.5 سے 6 فیصد تک بڑھانے کے لیے بنیادی ساختی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرانے، سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر بنانے اور مہارتوں کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور این ایف سی ایوارڈ پر مؤثر عمل درآمد کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ عالمی بینک نے توانائی کے شعبے میں غیر ضروری سبسڈیز ختم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کے نتیجے میں جی ڈی پی کی شرح نمو 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب، گزشتہ مالی سال کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر نے ملکی معیشت کو سہارا دیا، تاہم تجارتی خسارہ 33.7 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد پہلی مرتبہ 4 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے۔ اس کے علاوہ 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈ اور 75 کروڑ ڈالر اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موڈیز اور ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بانڈز کے اجرا سے بیرونی مالی دباؤ کم کرنے میں مدد ملی۔ عالمی بینک نے پاکستان کو 2050 تک اپر مڈل انکم ملک بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے اصلاحات پر مستقل عمل درآمد اور پائیدار معاشی ترقی کو ضروری قرار دیا ہے۔



