فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمام سرکاری ملازمین کا ریکارڈ 27 اکتوبر تک جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس سلسلے میں خواتین، اقلیتوں اور خصوصی افراد کے لیے مختص کوٹے کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی سیکرٹریٹ میں سندھ کے کوٹے کے تحت خالی آسامیوں کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے۔
ایف بی آر نے متعلقہ افسران کو یکم جولائی 2026 تک ملازمین کا مکمل سرکاری ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے لیے 27 اکتوبر کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ ادارے نے میرٹ پر بھرتی ہونے والی خواتین کی تعداد، ان کے عہدوں اور 10 فیصد کوٹے سے متعلق تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔
اسی طرح اقلیتوں کے لیے مختص 5 فیصد کوٹے کے تحت منظور شدہ، پُر اور خالی آسامیوں کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے، جبکہ خصوصی افراد کے لیے مختص 2 فیصد کوٹے کی معلومات فراہم کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ ایف بی آر نے اپنے سرکلر میں واضح کیا ہے کہ مطلوبہ ڈیٹا کی فراہمی کو انتہائی ضروری سمجھا جائے۔
دوسری جانب، ایف بی آر نے سندھ کی شہری اور دیہی نشستوں سے متعلق تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ نوٹس میں چار ماہ سے زائد کی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ متعدد بار یاد دہانی کرانے کے باوجود سندھ کے شہری اور دیہی کوٹے کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔
ایف بی آر نے کراچی کے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کو اس معاملے پر فوری کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس آفس ون کراچی کو مطلوبہ معلومات 23 اکتوبر تک جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ خالی آسامیوں کی تفصیلات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ارسال کی جائیں گی، جبکہ ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ اگر متعلقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں تو اس صورت میں بھی رپورٹ لازماً جمع کرائی جائے۔



