Wednesday, June 19, 2024
پہلا صفحہ مضامین وحشی جٹ، سلاخیں، اور دوریاں، کے خالق حسن عسکری کا زندگی نامہ

وحشی جٹ، سلاخیں، اور دوریاں، کے خالق حسن عسکری کا زندگی نامہ

پاکستانی سنیما کے لیجنڈری ہدایت کارحسن عسکری 30 اکتوبر 2023 کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ حال ہی میں ان کے پھیپھڑوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد وہ کئی روز شیخ زید ہسپتال میں داخل رہے تاہم وہ اس بیماری سے ذیادہ دن تک نہیں لڑ سکے۔
حسن عسکری کے کریڈٹ پر وحشی جٹ، جیسی کامیاب ایکشن فلم ہے ۔ جس کا سیکوئل مولا جٹ، بنا۔ اس فلم کے بعد ہی ایکشن پنجابی سنیما کے ایک نئے عہد کی ابتدا ہوئی۔
حسن عسکری کی بے شمار فلمیں ایسی ہیں جنہیں کلاسکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ سلاخیں، سے شروع ہونے والا عہدِ عسکری آگ، کنارہ، اِک دوجے کے لیے، دوریاں، بے قرار، تلاش، میلہ، پتر جگے دا، خزانہ، دل کسی کا دوست نہیں، جنت کی تلاش، تیرے پیار میں، تک جاری رہا۔

حسن عسکری مرحوم نے 1967 میں پنجاب یونی ورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری لی تھی اورانگریزی ادب میں ماسٹرز کررہے تھے کہ اس دوران انہوں نے فلم لائن جوائن کرلی اور اپنا پورا وقت فلم انڈسٹری کو دینے کے باعث ماسٹرز نہ کرسکے۔
حسن عسکری نے جب بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پنجابی فلموں کے معروف اداکار و ہدایت کار کیفی کے ساتھ کام شروع کیا تو ان کی خواہش تھی کہ وہ اُردو فلموں میں اپنا کیریئر بنائیں لیکن اس زمانے میں حسن طارق، نذرالاسلام ، پرویز ملک، ایس ایم یوسف، ایس سلیمان جیسے چوٹی کے ہدایت کاروں کا طوطی بول رہا تھا لہٰذا انہوں نے پنجابی فلم بنانے کا ارادہ کیا اور اپنی اس خواہش کا اظہار اداکار سدھیر اور فردوس سے کیا۔ جن کے ساتھ وہ بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کرچکے تھے۔ سدھیر نے انہیں فلم ساز طارق مسعود قریشی سے ملوادیا جن کے توسط سے حسن عسکری صاحب کو پہلی فلم خون پسینہ، ڈائریکٹ کرنے کو ملی۔

ہدایت کار کیفی کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ان کی پہلی فلم چن مکھناں (1968)، تھی۔ اس کے بعد انہوں نے سجن پیارا (1968)، میں بھی اسسٹ کیا۔ وحید ڈار کی فلم ماں پتر (1970)، اور عبید قادری کی میرا بابل (1972)، میں بھی ان کا نام معاون ہدایت کار کے طور پر سامنے آیا۔ جس کے بعد انہیں خون پسینہ، میں اپنی صلاحیتوں کے ہنر دکھانے کا موقع ملا۔
حسن عسکری نے جب بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام شروع کیا تو ان کی خواہش تھی کہ وہ اُردو فلموں میں اپنا کیریئر بنائیں لیکن اس زمانے میں حسن طارق، نذرالاسلام ، پرویز ملک، ایس ایم یوسف، ایس سلیمان جیسے چوٹی کے ہدایت کاروں کا طوطی بول رہا تھا لہٰذا انہوں نے پنجابی فلم بنانے کا ارادہ کیا اور اپنی اس خواہش کا اظہار اداکار سدھیر اور فردوس سے کیا ۔ جن کے ساتھ وہ کئی فلموں میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کرچکے تھے۔ سدھیر نے انہیں فلم ساز طارق مسعود قریشی سے ملوادیا جن کے توسط سے حسن عسکری صاحب کو پہلی فلم خون پسینہ، ڈائریکٹ کرنے کو ملی۔

بطور ہدایت کار حسن عسکری مرحوم کی پہلی فلم خون پسینہ، عیدالاضحی کے موقع پر27 جنوری 1972 کو ریلیز ہوئی۔ پنجابی زبان میں بننے والی اس فلم کی کاسٹ میں سدھیر، فردوس اور سلطان راہی شامل تھے۔

سدھیر تو حسن عسکری کی صلاحیتوں سے واقف تھے لہٰذا انہوں نے اس فلم کو مکمل کرانے میں ہر ممکن تعاون کیا ۔ تاہم سلطان راہی کو یہ فلم سائن کرتے ہوئے کچھ تحفظات تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بابل، اور بشیرا، کی کامیابی کے بعد وہ مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیے جانے لگے تھے اور خون پسینہ، میں وہ سدھیر کے مقابل ثانوی کردار میں تھے۔ سلطان راہی کا یہ خیال تھا کہ یہ فلم کرکے وہ ایک بار پھر پیچھے جاسکتے ہیں لیکن جب سدھیر نے انہیں سمجھایا تو وہ مان گئے۔ یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد سلطان راہی، حسن عسکری کی ہر فلم میں نظر آنے لگے۔ یہاں تک کہ اردو فلم آگ، میں سلطان راہی کو ان کی امیج سے ہٹ کر منفرد کردار کرنے کو ملا۔

البتہ فردوس بیگم نے خون پسینہ، کی شوٹنگز کے دوران حسن عسکری کو اس قدر تنگ کیا کہ انہوں نے آئندہ فردوس کے ساتھ کام کرنے سے توبہ کرلی۔ اس فلم میں حسن عسکری کی خواہش کے باوجود میڈم نورجہاں کا کوئی گانا نہ ریکارڈ کیا جاسکا کیونکہ فردوس کے شوہر اعجاز سے نورجہاں کا معاشقہ چل رہا تھا ، جس کے باعث فردوس نے نورجہاں کا بائیکاٹ کررکھا تھا۔

خون پسینہ، کی کامیابی کے بعد حسن عسکری نے سر دھڑ دی بازی، ہیرا، غیرت دا نشان، جیسی فلمیں بنائیں جو اوسط درجے کی ثابت ہوئیں۔
ان تینوں فلموں کی ہیروئنز روزینہ اور عالیہ تھیں۔
ان کی پانچویں فلم وحشی جٹ، تھی جو کہ احمد ندیم قاسمی کے ناول گنڈاسہ، سے ماخوذ تھی۔

وحشی جٹ، وہ فلم ہے جس نے صحیح معنوں میں حسن عسکری کے کیریئر کو دوام بخشا۔
اس فلم نے ناصرف ناصر ادیب جیسے کامیاب فلمی مصنف کو دریافت کیا بلکہ سلطان راہی، سمیت کئی لوگوں کا کیریئر بنادیا۔
وحشی جٹ، نہ بنتی تو مولا جٹ، کا تصور نہ ہوتا اور آج دنیا دی لیجنڈ آف مولا جٹ، کے بارے میں نہ جان پاتی۔
یہ سارا کریڈٹ حسن عسکری کو جاتا ہے کہ انہوں نے وحشی جٹ، جیسی کلاسک بناکر مولا جٹ، کا تصور دیا۔
وحشی جٹ، کی کاسٹ میں سلطان راہی، آسیہ، غزالہ، اقبال حسن وغیرہ شامل تھے۔
یہ فلم 8 اگست 1975 کو ریلیز ہوئی اور لاہور میں اپنے مین سنیما کیپٹل پر 15 ہفتے چلی جبکہ لاہور سرکٹ میں گولڈن جوبلی سے ہمکنار ہوئی۔
صفدر حسین کی موسیقی میں اس فلم کے گانے بھی بے حد مقبو ل ہوئے۔
وحشی جٹ، کے بعد حسن عسکری نے اپنی ذاتی فلم طوفان، بنائی۔ اردو فلموں کے مزاج کی اس فلم نے کیپٹل سنیما لاہور میں 11 ہفتوں کے ساتھ مجموعی طور پر لاہور میں 35 ہفتے مکمل کیے۔
اس فلم کی کاسٹ میں سلطان راہی، اقبال حسن، مصطفی قریشی اور آسیہ نمایاں تھے۔
ان کی دوسری ذاتی فلم قانون، بھی کامیاب رہی۔ جس کی کاسٹ میں سلطان راہی، آسیہ، نجمہ اور مصطفی قریشی شامل تھے۔
پنجابی فلم آخری میدان، باکس آفس پر قدرے نرم گئی۔ اس کی کاسٹ میں بھی سلطان راہی، آسیہ اور مصطفی قریشی نمایاں تھے۔

پنجابی فلموں میں اپنی دھاک بٹھانے کے بعد حسن عسکری نے اپنے دوست پروڈیوسر طارق مسعود قریشی سے کہا کہ وہ اُردو فلم بنانا چاہتے ہیں۔
ان کے ذہن میں فرانسیسی ناول نگار وکٹر ہوگو کا کلاسک ناول ’لے مزیریبل‘ تھا۔ یہ ناول انقلاب فرانس کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ حسن عسکری نے اس کا اسکرپٹ ریاض ارشد سے لکھوارکھا تھا۔ فلم ساز طارق مسعود قریشی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ اسکرپٹ روایتی فلموں سے ہٹ کر ہے، جس میں کوئی ہیرو بھی نہیں ہے۔ انہوں نے حسن عسکری پر بھروسہ کرتے ہوئے اس فلم میں سرمایا کاری کا فیصلہ کرلیا۔

سلاخیں، کی جب کاسٹنگ شروع ہوئی تو اردو فلموں کا کوئی اداکار حسن عسکری کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہ تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حسن عسکری پنجابی فلموں کے ڈائریکٹر ہیں۔ جنہوں نے وحشی جٹ، جیسی پرتشدد فلم بنائی ہے۔
بڑی مشکلوں سے انہوں نے محمد علی کو مرکزی کردار کے لیے آمادہ کیا۔ بابرہ شریف نے بھی یہ فلم کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن انہیں محمد علی صاحب نے مشروط طور پر آمادہ کرلیا کہ اگر انہیں حسن عسکری کے کام کرنے کا انداز پسند نہیں آیاتو وہ دونوں ایک ساتھ یہ فلم چھوڑ دیں گے۔
سلاخیں، 23 دسمبر 1977 کو ریلیز ہوئی اور سپرہٹ بزنس کیا۔
کمال احمد کی موسیقی میں اس فلم کے گانے بھی بے حد مقبول ہوئے۔

سلاخیں، نے لاہور میں اپنے مین سنیما شبستان پر 12 ہفتوں کے ساتھ سلور جوبلی کی جبکہ کراچی میں اپنے مین سنیما پیراڈائز پر 15 ہفتوں کے ساتھ گولڈن جوبلی کا اعزاز اپنے نام کیا۔
سال 1979 میں حسن عسکری کی تین فلمیں ریلیز ہوئیں۔ جینے کی سزا، اور آگ، اُردو جبکہ جٹ دا کھڑاک، پنجابی فلمیں تھیں۔

آگ، منفرد انداز کی رومینٹک فلم تھی۔ یہ ایک ٹین ایج کپل کی لو اسٹوری تھی، جس میں بابرہ شریف نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ دیگر کاسٹ میں محمد علی، سلطان راہی، ریحان، آسیہ، شاہد، اشعر، وغیرہ نے بھی منفرد کرداروں میں جان ڈال دی۔

اس کے بعد ان کی پنجابی فلم مفت بر، ریلیز ہوئی، جس نے مناسب بزنس کیا۔
سال 1982 میں ریلیز ہونے والی کنارہ، کو حسن عسکری کی سیمی آرٹ فلم مانا جاتا ہے۔ اس فلم کا موضوع بے حد حساس تھا۔ کاسٹ میں رانی، محمد علی اور سلطان راہی شامل تھے۔
چھے مئی 1983 کو ریلیز ہونے والی اِک دوجے کے لیے، ایک دل کش رومینٹک فلم ثابت ہوئی۔
کاسٹ میں محمد علی، بابرہ شریف، ایاز، نمایاں تھے۔
یہ فلم گولڈن جوبلی ہٹ قرار پائی۔

تیرہ اپریل 1984کو ریلیز ہونے والی اردو فلم دوریاں، کے فلم ساز سجاد گل تھے۔ کاسٹ میں شبنم، فیصل اور محمد علی نمایاں تھے۔
دوریاں، نے لاہور میں اپنے مین سنیما پرنس پر 11 ہفتوں کے ساتھ لاہور میں سلورجوبلی مکمل کی جبکہ کراچی میں اس فلم کا مین سنیما پلازہ تھا جہاں دوریاں ، نے سات ہفتے جبکہ سرکٹ میں 46 ہفتے مکمل کیے۔
اس کے بعد کے سالوں میں حسن عسکری کی فلموں میں دو ہتھکڑیاں، ہم اور تم، بے قرار، اکبر خان، تلاش، میلہ، اِک سی ڈاکو، نجات، سونے کی تلاش، مفرور ، قاتل، شیرباز خان، پتر جگے دا، شیردل، گنڈاسہ، ریاض گجر، عبداللہ دی گریٹ، پتن، اچھا شوکر والا، ارادہ، بے تاج بادشاہ، آن، خزانہ، جینے دو، ثبوت، دو جی دار، دل کسی کا دوست نہیں، جنت کی تلاش، جذبہ، چوہدرانی، کہاں ہے قانون، تیرے پیار میں، بدمعاش پتر، اک جگا ہور، چلو عشق لڑائیں، وریام، سسی پنوں، باؤ بدمعاش، بسنتی، دل پرائے دیس میں، اور داستان، شامل ہیں۔

حسن عسکری مرحوم نے کل 58 فلموں کی ڈائریکشن دی، جن میں 32 پنجابی، 18 اُردو، اور 2 پشتو زبان کی فلمیں شامل ہیں۔
ان کی آخری فلم داستان، پشتوزبان میں 2014 میں ریلیز ہوئی تھی، جس کی کاسٹ میں شاہد خان اور صوبیہ خان شامل تھے۔
ان کی کلاسک فلموں میں میلہ، کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے، جس میں اداکارہ انجمن نے بغیر میک اپ کام کیا۔ لاہور میں اس فلم کا مین سنیما شبستان تھا۔ سیمی آرٹ فلم ہونے کے باوجود اس فلم نے سلور جوبلی کی۔
سلطان راہی، نادرہ اور غلام محی الدین جیسے ستاروں سے سجی پنجابی فلم مفرور، بھی ان کی ایک کامیاب اور یادگار فلم مانی جاتی ہے۔
سال 1995 کی ریلیز خزانہ، گوکہ باکس آفس پر کوئی دھماکہ نہ کرسکی تاہم حسن عسکری کی ڈائریکشن اور اظہار قاضی و ندیم جیسے مضبوط اداکاروں کی پرفارمنس کی وجہ سے یہ فلم ناقابل فراموش کا درجہ پاگئی۔
سال 1997 کی ریلیز دل کسی کا دوست نہیں، باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اس کی کاسٹ میں سعود، صائمہ اور ارباز خان، نمایاں تھے۔
دل کسی کا دوست نہیں، لاہور میں اپنے مین سنیما کیپٹل پر 13 ہفتے زیرنمائش رہی۔ جبکہ لاہور میں 36 ہفتے پورے کرتے ہوئے سلور جوبلی منائی۔
سال 1999 میں ریلیز ہونے والی فلم جنت کی تلاش، تقسیم ہند کے پس منظر میں بننے والی ایک منفرد رومینٹک فلم تھی۔ یہ فلم اپنے موضوع کی وجہ سے آڈیئنس ہضم نہ کرسکی۔ کاسٹ میں شان اور ریشم مرکزی کرداروں میں تھے۔
سال 1999 میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم چوہدرانی، سے انجمن کی فلمی دنیا میں واپسی ہوئی۔ یہ سہرا بھی حسن عسکری صاحب کے سر سجا۔

تیرے پیار میں، کو حسن عسکری کے کیریئر کی آخری بڑی فلم مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنا معیار برقرار نہ رکھ سکے۔
تیرے پیار میں، ایک ہندوستانی لڑکی کی پاکستانی ہیرو سے محبت کی کہانی ہے۔ اُس زمانے میں بولی وڈ کی ہر دوسری فلم میں مسلمان لڑکی کی ہندو لڑکے سے محبت دکھانے کا ٹرینڈ عام تھا جس کا جواب ہمارے فلم میکرز نے بڑے بھرپور انداز میں دیا۔
تیرے پیار میں، کی کاسٹ میں شان، زارا شیخ اور وینا ملک شامل تھے۔ دونوں ہیروئنیں اس فلم کی کامیابی کے بعد اسٹار بن گئیں۔
تیرے پیار میں، نے لاہور میں اپنے مین سنیما گلستان پر 43 ہفتے زیرنمائش رہنے کا ریکارڈ بنایا۔ مجموعی طور پر اس فلم نے لاہور میں 100 ہفتے پورے کیے۔

کراچی میں اس فلم کا مین سنیما پرنس تھا، جہاں یہ 13 ہفتے زیر نمائش رہی جبکہ مجموعی طور پر 41 ہفتے پورے کیے۔
بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ سپرہٹ پنجابی فلم سالا صاحب، کے اولین ڈائریکٹر بھی حسن عسکری تھے۔ انہوں نے ہی اس فلم کا اسکرپٹ ریڈی کیا اور کچھ سینز بھی شوٹ کرلیے تھے لیکن بعض معاملات پر فلم ساز سے اختلافات کے باعث وہ اس پروجیکٹ سے الگ ہوگئے۔ بعد ازاں یہ فلم الطاف حسین نے مکمل کروائی۔

حسن عسکری کے اچانک انتقال کے سبب ان کی تین زیرالتوا فلمیں اب شاید ہی کبھی ریلیز ہوپائیں۔ ان میں سے دو فلموں بیڈ بوائز، اور چاند چہرہ، کا کافی سارا کام مکمل کیا جاچکا تھا جبکہ ایک پنجابی فلم نیور مائنڈ جٹا، کا ابھی اسکرپٹ لکھا جارہا تھا۔
حسن عسکری بلاشبہ پاکستان فلم انڈسٹری کے ان گنے چنے ڈائریکٹرز میں سے تھے، جنہیں فلم میکنگ کا شعور تھا۔ اُن کا اسکول آف تھاٹ روایتی پاکستانی سنیما سے یکسر مختلف تھا۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں لیکن ان کی فلمیں انہیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رکھیں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

سید نور نے چوڑیاں 2، بنانے کا اعلان کردیا

فلمی شائقین کے لیے یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہ ہوگی کہ سید نور نے ایک بار پھر لاہور کی...

خالد بن شاہین کا سوپ ڈرامہ سیریل تم میرے کیا ہو، نے گولڈن جوبلی مکمل کرلی

ہم ٹی وی کا مقبول سوپ سیریل ’تم میرے کیا ہو‘ نے اپنی اقساط کی گولڈن جوبلی مکمل کرلی ہے۔ یہ...

عیدالاضحی پر پاکستانی سنیماؤں پر خاموشی سے ایک بھارتی فلم کی نمائش

اُدھر بھارت میں ہوئے حالیہ الیکشن میں مودی کی بھارتی جنتا پارٹی کو زبردست دھچکا لگا ہے تو ادھرپاکستان میں بھارت...
- Advertisment -

مقبول ترین

سید نور نے چوڑیاں 2، بنانے کا اعلان کردیا

فلمی شائقین کے لیے یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہ ہوگی کہ سید نور نے ایک بار پھر لاہور کی...

خالد بن شاہین کا سوپ ڈرامہ سیریل تم میرے کیا ہو، نے گولڈن جوبلی مکمل کرلی

ہم ٹی وی کا مقبول سوپ سیریل ’تم میرے کیا ہو‘ نے اپنی اقساط کی گولڈن جوبلی مکمل کرلی ہے۔ یہ...

عیدالاضحی پر پاکستانی سنیماؤں پر خاموشی سے ایک بھارتی فلم کی نمائش

اُدھر بھارت میں ہوئے حالیہ الیکشن میں مودی کی بھارتی جنتا پارٹی کو زبردست دھچکا لگا ہے تو ادھرپاکستان میں بھارت...

اس عید پر کون کون سی فلمیں پاکستانی سنیما گھروں کی زینت بن رہی ہیں

عام طور پر عید جیسے تہوار پر ریلیز ہونے والی فلموں کا اعلان کئی ماہ قبل کردیا جاتا ہے لیکن ایسا...

ریسینٹ کمنٹس