Thursday, April 18, 2024
پہلا صفحہ تبصرے غدر 2، پنجاب کو پنجاب کا دشمن ثابت کرنے کی اچھوتی کوشش

غدر 2، پنجاب کو پنجاب کا دشمن ثابت کرنے کی اچھوتی کوشش

اگر آپ ماڈرن سنیما کے فلم بین ہیں تو پھر آپ کواس دور میں قدیم سنیما کے فارمولوں سے لبریز بولی وڈ مووی غدر2، کی باکس آفس کامیابی پرشدید حیرت ہوگی۔ غدر 2، کا باکس آفس پر تہلکہ خیز بزنس فلمی ناقدوں کو کھلا چیلنج ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک سے ماڈرن سنیما کو پسند کرنے اور نوے کی دہائی کی فارمولا فلموں کو مسترد کردینے والی آڈیئنس کو یہ اچانک کیا ہوا ہے کہ وہ غدر2، جیسی فلموں کو پسند کررہی ہے؟
پچھلے کئی سالوں سے بولی وڈ کی فلمیں اس وجہ سے ناکام رہی ہیں کہ ممبئی کے فلم میکرز نے اپنی ڈگر تبدیل نہیں کی۔ ساؤتھ انڈین سنیما نے بولی وڈ کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کردیا اور شاہ رخ، سلمان سے لے کر رنبیر اور رنویر سنگھ بھی ساؤتھ اسٹائل کی فلمیں کرنے پر مجبور ہوئے لیکن کرن جوہرکی روکی اور رانی کی پریم کہانی، کے بعد غدر2، دوسری فلم ہے جس نے بولی وڈ کو ایک بار پھر نوے کی دہائی میں دھکیل دیا ہے۔

غدر2، میں پچھلی غدر، کے کانٹینٹ کے علاوہ کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ کہانی کے تانے بانے وہی حتیٰ کہ گانے بھی سارے غدر، سے اٹھائے گئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پچھلی بارتارا سنگھ اپنی بیوی کو لینے پاکستان آیا تھا اور اس باراپنے بیٹے کی جان بچانے اور اسے آرمی کے قبضے سے چھڑانے آتا ہے۔
ایک فارمولا فلم کے طور پر دیکھیں تو غدر2، آپ کو تفریح فراہم کرتی ہے لیکن لاجک تلاش کرنے جائیں تو فلم کے ڈائریکٹر انیل شرما کی عقل پرماتم کرنے کا دل چاہتا ہے۔ وہ انیل شرما جو بارڈر، جیسی شاہ کار فلم تخلیق کرچکا ہو، وہی میکراس قدر مضحکہ خیز فلم بناسکتا ہے، یقین ہی نہیں ہوتا۔ ویسے تو اینٹی پاکستان فلم بناتے ہوئے بھارتیوں کا ہوم ورک ہمیشہ سے کم زور رہا ہے لیکن اس فلم میں تو انیل شرما نے حد ہی کردی۔

غدر 2، میں انیل شرما کی کچھ فاش غلطیاں ملاحظہ ہوں۔

مشرقی پاکستان میں جنگ کی کیفیت ہے اور مغربی پاکستان میں بھارت کے خلاف نفرت کا ماحول بنا ہوا ہے لیکن لاہور دکھاتے ہوئے انیل شرما نے جابجا دیواروں پر بھارتی فلموں کے پوسٹرز لگے دکھائے ہیں۔ انیل شرما کوکسی نے بتایا نہیں کہ وہ دہلی نہیں لاہور دکھا رہا ہے، جہاں اس زمانے میں بھارتی فلموں پر سخت پابندی تھی اور وی سی آر بھی ایجاد نہیں ہوا تھا کہ ویڈیواور حجام کی دکانوں پربھارتی فلمی پوسٹرز چسپاں ہوتے۔ کم ازکم پروڈکشن کے پاس اتنا بجٹ تو ہونا چاہیے تھا کہ وہ پاکستانی فلمی پوسٹرزکے فلیکس ہی بنوالیتے۔
دوسرا لطیفہ سنیے۔ مشرقی پاکستان میں جنگ کا ماحول ہے۔ شیخ مجیب کے لیے پاکستان میں نفرت اپنی انتہا پر تھی لیکن ڈائریکٹر کی حماقت دیکھیے کہ لاہور میں شیخ مجیب کے انقلابی پوسٹرز لگے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پاکستاقن کے خلاف زہر اگلنے کی کوشش میں اُلٹا انیل شرما نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان میں آزادیٔ اظہار اور جمہوری روایات کی کیا قدرہے کہ اکہتر جیسے حالات میں بھی لاہور میں شیخ مجیب کے پوسٹرز لگنے کی آزادی تھی۔
ایک اور لطیفہ۔ پوری فلم میں پاک فوج کے میجر جنرل کا کردارایک ایسے خوف ناک ولن کا دکھایا گیا ہے کہ جو 24 سال سے تارا سنگھ کا انتظار کررہا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی اور کام نہیں ہے۔ حتیٰ کہ وہ کسی تھانے کے تفتیشی افسر کی طرح سارے کام خود کررہا ہے۔ اس کا ہر سین میں اور ہر جگہ ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ کہانی کا مرکزی ولن ہے۔ شاید بھارتی فوج میں ایسے ہی میجر جنرلز ہوتے ہوں گے جو پولیس کے عام سپاہی کی طرح ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوں اورمودی کی شیو کرنے سے لے کران کے گھر کا واش روم بھی صاف کرتے ہوں گے؟ انیل شرما کو فوج کے ڈسپلن اور کام کے طریقہ کار پر تھوڑی ریسرچ کرنے کی ضرورت تھی۔ پاکستان مخالف فلم بنانا انیل شرما کی مجبوری ہوسکتی ہے لیکن بطور فلم میکر آپ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ لوگ آپ پر ہنسیں گے۔

ایک سین میں سینکڑوں پاکستانی ہاتھوں میں تلواریں لیے حملے کی نیت سے تارا سنگھ (سنی دیول) کا پیچھا کرتے ہیں مگر جونہی تارا سنگھ ہینڈ پمپ کی طرف بڑھتا ہے وہ سب پیچھے ہٹ جاتے ہیں جیسا کہ وہ جانتے ہیں کہ غدر، میں اس شخص نے ہینڈ پمپ سے وبال کھڑا کردیا تھا۔ یقینااس پورے جتھے نے وہ فلم دیکھ رکھی تھی؟ مانا کہ فلم فینٹیسی ہے لیکن اس قدر فینٹیسی۔
ڈائریکٹر کا اس سے بھی دل نہیں بھرا تو سنی دیول سے بجلی کے کھمبے اکھڑوادیے۔ یہی نہیں، پھر پاجی ایک بجلی کے پول کو ہاتھ میں تھامے اس طرح لہراتے ہیں اور دشمنوں کو کچلتے چلے جاتے ہیں جیسا کہ اس کے ہاتھ میں بجلی کا کھمبا نہیں، کوئی لاٹھی ہے۔
بلٹ پروف،کرنٹ پروف، ڈنڈا پروف، بم پروف سنی دیول کا سب سے کمال سٹنٹ توفلم کے کلائمکس میں سامنے آتا ہے جب بولی وڈ کا نیا سپر ہیرو تارا سنگھ تن تنہا کئی پاکستانی ٹینکوں کو تباہ کرتا ہے اور خود ٹینک کے گولوں سمیت طیارہ شکن توپوں سے بچ نکلتا ہے۔ پاجی کو آنچ تک نہیں آتی۔ اس فلم کے بعد پاجی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کمانڈ سنبھالنے کے لیے سیدھا کوالیفائی کرتے ہیں۔ لداخ اور سری نگر میں ڈیوٹی سے تنگ آکر خودکشی کرنے والے بھارتیوں فوجیوں کو چھٹی دے کر اگر سنی پاجی کو وہاں اکیلے بھیج دیا جائے تو سارے مسئلے حل ہوسکتے ہیں۔

غدر 2، کے لطیفے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ایک اور کامیڈی سین ملاحظہ ہو جب تارا سنگھ کے بیٹے کو سنگسار کرنے کے لیے بڑا منڈپ سجایا جاتا ہے۔ سوال پھر وہی ہوم ورک والا کہ انیل شرما کو شاید علم نہیں کہ پاکستان میں سزائیں دینے کے لیے اس طرح عوامی عدالتیں نہیں لگتیں۔
اس سین میں ایک مولوی صاحب تارا سنگھ کے بیٹے جیتے کوسنگسار کرنے کا حکم دیتے ہیں اوربیچ چوراہے میں عدالت اس طرح لگائی گئی ہے جیسا کہ کوئی مداری بندر کا تماشا دکھارہا ہو۔ اس عدالت کی کارروائی دیکھنے کے لیے تماشائی بھی جمع کیے گئے۔پھر تارا سنگھ آکر ساری عدالت تہس نہس کردیتا ہے اور دونوں باپ بیٹا ہزاروں گولیوں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ بھارت کی بے وقوف جنتا کو یہ سب دیکھنا اچھا لگتا ہوگا لیکن دنیا کے لیے یہ سین حد سے ذیادہ مضحکہ خیز ہے۔ اتنا ہوم ورک تو انیل شرما ایک مِگ طیارے کی تباہی کے بدلے چائے کا مگ پینے پاکستان آنے والے ابھی نندن کا انٹرویو کرکے بھی کرسکتے تھے۔ امید ہے اگلی بار غدر3، بناتے ہوئے انیل شرما کل بھوشن یادیو کیس کو ضرور اسٹڈی کریں گے تاکہ آڈیئنس کو کم ہنسائیں اور ذیادہ انٹر ٹین کریں۔

اس فلم میں انڈین آرمی کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے۔ رام ٹیکری پر پاکستان اور بھارت کی فوجیں مدمقابل ہیں لیکن بھارتی فوج میں اپنا اسلحہ اور بارود پہاڑ کی چوٹی پر پہنچانے کے لیے کوئی سورما نہیں ہوتا لہٰذا تارا سنگھ کو بلایا جاتا ہے جو اپنے ٹرک میں اسلحہ لے کر اوپرجاتا ہے۔ اس سین میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ رام ٹیکری کے محاذ پر کئی بھارتی فوجی ، پاکستان نے جنگی قیدی بنالیے تھے۔

اس فلم میں انڈین آرمی کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے۔ رام ٹیکری پر پاکستان اور بھارت کی فوجیں مدمقابل ہیں لیکن بھارتی فوج میں اپنا اسلحہ اور بارود پہاڑ کی چوٹی پر پہنچانے کے لیے کوئی سورما نہیں ہوتا لہٰذا تارا سنگھ کو بلایا جاتا ہے جو اپنے ٹرک میں اسلحہ لے کر اوپرجاتا ہے۔ اس سین میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ رام ٹیکری کے محاذ پر کئی بھارتی فوجی ، پاکستان نے جنگی قیدی بنالیے تھے۔

تارا سنگھ کا بیٹا جیتے، باپ کی تلاش میں پاکستان آنے کا فیصلہ کرتا ہے اور یہاں آتے ہوئے داڑھی رکھ لیتا ہے۔ مسئلہ وہی بولی وڈ کا ہوم ورک، جو بے چارے پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ اپنی آڈیئنس کو بھی وہ اندھیرے میں رکھتے ہیں جو ہمیں عرب کی کوئی ریاست یا افغانستان جیسا ملک سمجھتے ہیں۔ جبکہ بھارتیوں کا یہ گمان ہے کہ وہ دنیا کی ذہین ترین مخلوق ہیں جنہیں دنیا کے بارے میں دنیا سے ذیادہ علم ہے۔
فلم میں جابجا غزوہ ہند کا پرچار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ فلم کی کہانی 1971 کے ماحول میں ہے۔ اندازہ لگائیے کہ غزوہ ہند کی دھاک بھارتیوں پر ایسی بیٹھی ہوئی ہے کہ وہ 2023 میں بھی اس سے خوف ذدہ ہیں جبکہ پاکستانیوں نے اس کا ذکر صرف زید حامد کی ویڈیوز میں ہی سنا ہے۔ کیا انیل شرما مسلمانوں کو غزوہ ہند پر اُکسارہے ہیں؟ اس کا جواب تو غدر2، کے میکر ہی دے سکتے ہیں۔
فلم میں ایک طرف تو مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کو شدت پسند ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور دوسری طرف قربان خان اپنی بیٹی کا رشتہ ایک سکھ سے کرنے کے لیے تارا سنگھ کی منت سماجت کرتا دکھائی دیتا ہے۔
فلم میں پاکستان کے مناظر انتہائی بھونڈے اورجعلی محسوس ہوتے ہیں۔ ہر گلی میں جھنڈیاں اور ہر گھر کی چھت پر پاکستانی پرچم دیکھ کر لگتا ہے کہ پوری فلم 14 اگست کو شوٹ کی گئی ہے۔
ایک اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ تارا سنگھ اور اس کے بیٹے کو تلاش کرنے کے لیے شہر بھر میں دونوں کے پوسٹرز لگے ہیں لیکن ان کے ساتھ ایک میجر جنرل کے پوسٹرز کیوں لگے ہیں، یہ بات فلم کے ڈائریکٹر ہی جانتے ہیں۔ میجر جنرل کا عہدہ بھی صرف بھارتی ڈائریکٹر کے دماغ پر سوارہے ورنہ پاکستان میں لوگ حاضر سروس میجر جنرلز کے بارے میں بھی ذیادہ معلومات نہیں رکھتے۔ ایک بار پھر انگلی اٹھتی ہے انیل شرما کے ناقص ہوم ورک پر۔
غدر2، کی ان تمام خامیوں اور کم زوریوں سے ہٹ کر جن دو اہم باتوں نے اہل دانش کو سوچنے پر مجبور کیا ہے، وہ یہ ہیں کہ اس فلم کی کامیابی کا یونیک سیلنگ پوائنٹ پاکستان مخالف سبجیکٹ ہے جو بہرحال بھارتیوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ کافی عرصے بعد کوئی پاکستان مخالف فلم کامیاب ہوئی ہے جس نے پیپل ٹو پیپل کنکشن کے مفروضے کو دفن کردیا ہے۔ بھارتی قوم نے اس فلم کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی بنیاد پر کامیابی بخشی ہے جو کہ پاکستانیوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے ٹھوس مثال ہے۔ غدر2، میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ ہم اس کی کامیابی کو میوزک، اسٹار ویلیو، یا کسی اورتناظر میں دیکھیں۔

غدر، کی طرح غدر2، میں بھی بھارتی پنجاب کو پاکستانی پنجاب کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غدر کا سپر ہیرو تارا سنگھ کہیں اور نہیں لاہور میں غدر مچارہا ہے۔ فلم میں ملتان کا کنکشن بھی جوڑدیا گیا ہے۔ پچھلی غدر، میں تارا سنگھ اپنی مسلمان بیوی سکینہ کولاہور سے اٹھاکر لے جاتا ہے اور پھر اسے سکھنی بناکر اس سے اولاد پیدا کرتا ہے جیسا کہ 1947 کی ہجرت کی تاریخ بیان کرتی ہے کہ کس طرح سکھوں نے مسلمان عورتوں کی عصمتیں پامال کیں اور انہیں زبردستی سکھ بناکر ان سے شادیاں کیں۔ غدر2، میں تارا سنگھ کا بیٹا چرن جیت سنگھ باپ کی تاریخ دہراتا ہے اور ایک پنجابی فیملی کی مسلمان لڑکی مسکان سے محبت کرنے لگتا ہے۔ بعد میں مسکان کا باپ خود تارا سنگھ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنی بیٹی کا رشتہ تارا کے بیٹے سے کرنے کی منت سماجت کرتا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ غدر، کی طرح غدر2، میں بھی بھارتی پنجاب کو پاکستانی پنجاب کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غدر کا سپر ہیرو تارا سنگھ کہیں اور نہیں لاہور میں غدر مچارہا ہے۔ فلم میں ملتان کا کنکشن بھی جوڑدیا گیا ہے۔ پچھلی غدر، میں تارا سنگھ اپنی مسلمان بیوی سکینہ کولاہور سے اٹھاکر لے جاتا ہے اور پھر اسے سکھنی بناکر اس سے اولاد پیدا کرتا ہے جیسا کہ 1947 کی ہجرت کی تاریخ بیان کرتی ہے کہ کس طرح سکھوں نے مسلمان عورتوں کی عصمتیں پامال کیں اور انہیں زبردستی سکھ بناکر ان سے شادیاں کیں۔ غدر2، میں تارا سنگھ کا بیٹا چرن جیت سنگھ باپ کی تاریخ دہراتا ہے اور ایک پنجابی فیملی کی مسلمان لڑکی مسکان سے محبت کرنے لگتا ہے۔ بعد میں مسکان کا باپ خود تارا سنگھ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنی بیٹی کا رشتہ تارا کے بیٹے سے کرنے کی منت سماجت کرتا ہے۔ غدر2، ڈھٹائی سے ان سارے تاریخی الزامات کا اعتراف ہے جو سکھوں پر 1947 کی ہجرت کے تناظر میں لگائے گئے۔

ان سارے پہلوؤں کو ایک طرف رکھ کر اب آتے ہیں اداکاری کی طرف۔
سنی دیول کی حالیہ برسوں میں کوئی فلم سپر ہٹ کا اسٹیٹس حاصل نہیں کرسکی اور سنگل ہٹ کی تلاش میں سنی دیول نے کئی غیر معیاری فلمیں بھی کرڈالیں۔ غدر2، نے بہر حال سنی کو گیم میں واپس اِ ن کردیا ہے اور سنی نے پوری فلم کا بوجھ تنہا اپنے کاندھوں پر اٹھاکر ثابت بھی کیا ہے کہ وہ اب بھی دم خم رکھتا ہے تاہم سنی کی اس کامیابی کا بڑا کریڈٹ ڈائریکٹر انیل شرما کو جاتا ہے۔ امیشا پٹیل نے فائنلی اس فلم سے کیریکٹر ایکٹر کیریئرکا آغاز کردیا ہے اور ڈھلتی عمر کے باوجود اسکرین پر اچھی لگی ہے۔ انیل شرما کا بیٹا اتکرش شرما جس نے فلم کے روایتی ہیروکا کردار اداکیا ہے، کہیں کہیں لگتا ہے کہ انیل شرما نے اسے ٹائیگر شیروف بناکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اداکاری میں یہ بچہ، ابھی کچا ہے۔ اتکرش کی ہیروئن کے کردار میں سمرت کور نے اپنی پرفارمنس سے متاثر کیا اور یہ بولی وڈ میں سمرت کا دھواں دار ڈیبیو کہا جاسکتا ہے۔ شتروگھن سنہا کے بیٹے لو سنہا کو ضائع کیا گیا۔ دیگر اداکاروں نے اپنے کرداروں میں مناسب پرفارمنس دی۔

فلم کی سنیماٹوگرافی، ایڈیٹنگ سمیت دیگر ٹیکنیکل شعبے قابل تعریف ہیں۔
میوزک کی بات کی جائے تو فلم کے ذیادہ تر گانے وہی ہیں جو 2001 کی ریلیز غدر، میں ہم سن چکے ہیں۔ نئے ٹریکس بھی سننے لائق ہیں لیکن کسی ایک بھی نئے گانے میں میں نکلا گڈی لے کے، یا اڈجا کالےکانواں، والی میلوڈی جیسی بات نہیں ہے۔
اس تبصرے کی اشاعت تک غدر2، ، کا باکس آفس ساڑھے تین سو کروڑ روپے بزنس کا حدف عبور کرچکا ہے لیکن یہ کامیابی بولی وڈ کےتابوت کا آخری کیل ثابت ہوتی ہے یا پھر ایک نئے دور کی ابتدا، اس سوال کا جواب ہم آنے والے مہینوں میں جان پائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

عیدالفطر پر گاڈزیلا ایکس کانگ، اور دغاباز دل، کا شان دار بزنس

عیدالفطر سے پاکستانی سنیماؤں پر کئی مہینوں سے طاری جمود کا خاتمہ تو ہوگیا تاہم عید کے طویل ویک اینڈ کے...

اس عید پر کون سی فلمیں ریلیز ہورہی ہیں؟

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

عیدالفطر پر پشتو فلموں کا راج، ریجنل سنیما، اُردو فلموں پر بازی لے گیا

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...
- Advertisment -

مقبول ترین

عیدالفطر پر گاڈزیلا ایکس کانگ، اور دغاباز دل، کا شان دار بزنس

عیدالفطر سے پاکستانی سنیماؤں پر کئی مہینوں سے طاری جمود کا خاتمہ تو ہوگیا تاہم عید کے طویل ویک اینڈ کے...

اس عید پر کون سی فلمیں ریلیز ہورہی ہیں؟

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

عیدالفطر پر پشتو فلموں کا راج، ریجنل سنیما، اُردو فلموں پر بازی لے گیا

پاکستانی سنیما اور فلم انڈسٹری میں شدید بحران کا اندازہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد اور معیار سے...

ڈاکٹر خالد بن شاہین کی حجازِ مقدس میں پزیرائی

سینئر اداکار، پروڈیوسر اور چیئرمین سینسر بورڈ سندھ خالد بن شاہین ان دنوں اعتکاف عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں حجاز...

ریسینٹ کمنٹس