Thursday, March 12, 2026
پہلا صفحہمضامینپاکستان میں ٹی وی نشریات کے بانی اسلم اظہر کو گراں قدر...

پاکستان میں ٹی وی نشریات کے بانی اسلم اظہر کو گراں قدر خدمات کا کیا صلہ ملا؟

سن 1960 کے عشرے تک ملک میں لوگوں کو سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں سے آگاہ رکھنے کے محض دو ہی ذرائع تھے۔ایک سرکاری انتظام کے تحت چلنے والا ”ریڈیو پاکستان“ اور دوسرا قومی اور علاقائی اخبارات، جن میں سے زیادہ تر حکومت کی نگرانی میں کام کیا کرتے۔ ایسے میں نومبر 1964 میں حکومت کی طر ف سے اس قسم کے اعلانات سامنے آنے لگے کہ ملک میں پہلی بار ٹیلی وژن متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کی بدولت لوگ تفریح اور معلومات کی نئی اور تیز رفتار دنیا میں داخل ہو جائیں گے۔

یہ تمام خبریں لوگوں کے لیے انتہائی خوش گوار ہونے کے ساتھ سنسنی خیز بھی تھیں کہ ایک ایسا ذریعہ سامنے آ رہا ہے کہ جس کی مدد سے وہ انسانوں کو اسکرین پر چلتا پھرتا اور گفتگو کرتا دیکھ سکیں گے۔ برطانیہ اس معاملے میں پوری دنیا پر سبقت رکھتا تھا کہ وہاں 1936 میں ٹی وی متعارف کروایا جا چکا تھا۔ اگلا ملک جس نے اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا، وہ جاپان تھا، جہاں 1938 میں بیسویں صدی کی اس حیرت انگیز ایجاد نے قدم جمائے۔

پاکستان میں اس حوالے سے گفتگو حیران کن ہی تھی کہ پڑوسی ممالک میں اس ٹیکنالوجی کی کوئی بازگشت تک سننے میں نہیں آئی تھی اور پاکستان اس شعبے میں اپنے پڑوسی ممالک پر سبقت لے جانے والا تھا۔ در اصل صدر جنرل ایوب خاں نے جب جاپان کا دورہ کیا تو وہ لوگوں پر ٹیلی وژن کے مرتّب ہونے والے اثرات سے بہت متاثر ہوئے اور یہ منصوبہ بنانے لگے کہ اگر کسی طرح اس ایجاد کو پاکستان میں متعارف کروادیا جائے تو وہ پاکستانی عوام میں بے حد مقبول ہوجائیں گے۔ یہ تو اس بات کا ایک پہلو تھا۔
حکومت وقت نے 1964 میں پاکستان میں ٹیلی وژن کے آغاز کا فیصلہ کیا جس کے لیے لاہور میں ایک پائلٹ اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا۔ یہ انتہائی اہم اور کٹھن ذمے داری معروف براڈ کاسٹر، صداکار، اداکار، ڈرامہ نویس، مصنف اور ادیب اسلم اظہر کو سونپی گئی جنھوں نے صرف تین ماہ کی بے حد قلیل مدت میں اس کام کو پورا کر دکھایا۔ بلاشبہ یہ کارنامہ ان کے سوائے اور کوئی بھی اس حسن و خوبی سے انجام نہیں دے سکتا تھا۔ لاہور اسٹیشن کی کامیابی کے ساتھ شروعات کے بعد حکومت وقت نے ڈھاکہ، راولپنڈی اور کراچی میں پی ٹی وی کے اسٹیشن قائم کیے اور اس کے نتیجے میں اسلم اظہر ترقی پا کر پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر بن گئے۔ واقعی یہ منصب صرف ان ہی کے شایان شان تھا۔

اسلم اظہر نے ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار اے ڈی اظہر کے گھرانے میں یکم ستمبر 1932 کو لاہور میں آنکھ کھولی۔
اسلم اظہر کے والد، اے ڈی اظہر ایک نامور ادیب، شاعر اور دانشور تھے اور ان کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی۔ اگرچہ اعلیٰ سرکاری مناصب پر فائز رہے مگر ادب سے الفت آخر دم تک قائم رہی۔ اردو، انگریزی، فارسی، عربی، صرف و نحو، غرض جامع کمالات۔ نام تو احمد دین اظہر تھا، تاہم ادبی دنیا میں اے ڈی اظہر کے نام سے کچھ اس طرح مشہور ہوئے کہ لوگ اصل نام شاید فراموش ہی کر گئے۔ برطانوی راج کے دِنوں ہی سے سرکاری ملازمت کیا کرتے۔
ان کے بیٹے اسلم اظہر کواسکول و کالج کے زمانے میں سائنسی موضوعات سے لگاؤ رہا،خاص طور پر ریاضی سے کہ ماں اور باپ دونوں ہی مذکورہ مضمون سے عشق کرتے رہے۔ اسی کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں سے بھی بہت شغف تھا، خصوصاً تقریری مقابلے میں تو اسلم اظہر کے سامنے کوئی ٹھہر ہی نہ پاتا۔ تقریر اور وہ بھی انگریزی میں اس جوش و خروش سے کرتے کہ ساتھی طلبہ تو ایک طرف،اساتذہ بھی حیران رہ جاتے۔

یہ 1947 کا سال تھا۔ برّصغیر کی آزادی کا کارواں اپنی منزل پر پہنچا ہی چاہتا تھا۔ عنفوانِ شباب کی منزل پر قدم رکھنے والے اسلم اظہر بھی بہت پرجوش تھے اور اکثر اپنے دوستوں میں بیٹھ کر تازہ ترین صورتِ حال پرگفتگو کرتے۔ اسی اثنا میں مارچ 1947 میں سینٹرل ماڈل اسکول، لاہور سے میٹرک کی سند بھی حاصل کر لی۔ یہاں کے ایک استاد اور اسلم اظہر کے کلاس ٹیچر غلام نبی بٹ، جو انہیں انگریزی اور ریاضی پڑھاتے تھے، اپنے تمام شاگردوں میں سے اسلم کو بہت چاہتے اور اس پرخاص توجّہ دیتے، یوں ان کی توجّہ، تعلیم و تربیت نے اسلم اظہر کی شخصیت پر اَن مٹ اثرات مرتّب کیے۔
اب امنگوں اور ترنگوں بھرا دَور شروع ہوا۔ آزادی کا سفر بالکل ابتدائی مرحلے میں تھا کہ ان کے والد اے ڈی اظہر کو آسٹریلیا بھیج دیا گیا، یوں اسلم اظہر نے ایک سال سڈنی میں گزارا۔ تاہم انہوں نے یہ وقت ضائع نہیں کیا، بلکہ وہاں سے فرسٹ ایئر کا امتحان دیا اور اگلے برس پاکستان واپس آ کر گورنمنٹ کالج سے انٹر اور پھر گریجویشن کیا۔ طبیعات اور ریاضی خاص مضامین تھے۔ جب تک اسکول اور کالج کی زندگی تھی، ہردل عزیزی ہم قدم رہی۔ شاید یہی صلاحیت تھی کہ ریڈیو پاکستان کا رخ کیا اور انگریزی خبریں پڑھنے پر مامور کر دئیے گئے۔ تقریر کے علاوہ تھیٹر، دل چسپی کا دوسرا سب سے بڑا محور تھا۔ انہیں انگریزی ڈراموں اور خاص طور پر برنارڈ شا کے ڈرامے بہت بھاتے۔

تاہم ان سب سے بڑھ کر شیکسپیئر کے ڈرامے تھے کہ جن کی پسندیدگی سب سے بالا تھی۔ طبیعات کا مضمون اب تک طبیعت کو متاثر کرتا اور جی چاہتا کہ اسی موضوع کو بنیاد بنا کر کوئی بڑا کام کیا جائے لیکن حیران کن طور پر ریاضی سے دل چسپی معدوم ہو گئی تھی۔ اسلم اظہر کو خیال آیا کہ اب موضوع ہی یک سر تبدیل کر لینا چاہیے تونگاہِ انتخاب قانون پر ٹھہری۔ سو اسلم اظہر نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیمبرج یونیورسٹی، برطانیہ کا رخ کیا۔ یہاں قیام کے دوران ایک جرمن خاتون سے شادی بھی کر لی۔
تاہم کچھ معاملات کے باعث وہ زیادہ مدت تک چل نہ سکی۔ 1954 میں وہاں سے ماسٹرز کی سند تو حاصل کر لی لیکن فوری طور پر یہ احساس ہو چلا کہ وکالت مزاج کا حصّہ نہیں بن پائے گی۔ البتہ اتنا ضرور ہوا کہ حاصل کی گئی تعلیم نے ذہنی افق وسیع تر کر دیا۔ اب ملازمت کی تلاش شروع ہوئی اور جلد ہی برما آئل کمپنی سے وابستگی اختیار کر لی۔
کراچی میں کچھ وقت کام کرنے کے بعد انہیں سوئی گیس فیلڈ میں ایڈمنسٹریٹیو مینیجر کے طور پر تعیّنات کر دیا گیا۔ لگ بھگ ایک برس اس عہدے پر کام کیا۔ یہاں سے چٹاگانگ، مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ مگر طبیعت کی افتادگی نے وہاں بھی چین سے نہ رہنے دیااور استعفیٰ دے دیا۔

سن ساٹھ کی دہائی میں انھوں نے شہر قائد کراچی کا رخ کیا اور دستاویزی فلموں، ایڈورٹائزنگ اور ریڈیو براڈ کاسٹنگ سے وابستہ ہوگئے۔ اس زمانے میں سلیم گیلانی ٹرانسکرپشن سروس کے ڈائریکٹر تھے۔ اسلم اظہر نے ان کے ساتھ مل کر موسیقی اور ثقافت پر بہت سی ڈاکیومینٹریز بنائیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ ذہن نے فیصلہ کیا کہ اب شوبز کی دنیا ہی میں رہ کر کام کرنا ہے۔
اگرچہ چند لوگوں نے یہ کہہ کر مخالفت بھی کہ بیرونِ ملک سے قانون کی سند لے کر آنے کے بعد ایسی دنیا میں جانا کہ جہاں روزگار کا کوئی مستقل بندوبست نہ ہو، کوئی دانش مندانہ کام نہیں۔ تاہم، اسلم اظہر نے تہیہ کر لیا تھا کہ کچھ ہوجائے، زندگی فائن آرٹ یا فنونِ لطیفہ سے وابستہ رہتے ہوئے ہی گزاری جائے گی۔ یوں ڈاکیومینٹری بنانے کے ساتھ تھیٹر کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا اور وہ کراچی آرٹس تھیٹر سوسائٹی کی بنیاد ڈالنے والے اراکین کی صف میں شامل ہوگئے۔ اسی تھیٹر گروپ میں ان کی ملاقات نسرین سے ہوگئی جو بعد میں ہمیشہ کے لیے ان کی جیون ساتھی بن گئیں اور تادم آخر ان کے ساتھ رہیں۔ یہ تھیٹر گروپ اپنے ڈرامے ایم اے جناح روڈ پر ریڈیو پاکستان کی پرانی عمارت کے بالمقابل واقع مشہور و معروف تھیوسوفیکل ہال میں اسٹیج کیا کرتا تھا۔
یہ تھیٹر کے دل دادگان میں سے تھے۔ تھیٹر ہی سے دل چسپی رکھنے والے واجد محمود اس کے لیے سرمایہ فراہم کرتے۔ یہ ساری سرگرمیاں ”کراچی آرٹس تھیٹر سوسائٹی“ کے تحت انجام دی جاتیں۔ کراچی کے ”تھیوسوفیکل ہال“ میں پیش کیے جانے والے تھیٹر کو لوگ بہت پسند کرتے۔ ان ہی دنوں کا قصّہ ہے کہ نسرین جان نامی خاتون سے ربط و ضبط اتنا بڑھا کہ انہیں شریکِ زندگی ہی بنا لیا۔
قلمکاری، اداکاری اور صداکاری کے جوہر انھوں نے خوب ہی دکھائے اور ہر شعبے میں اپنی منفرد صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔ اس اعتبار سے اگر انھیں رول ماڈل کہا جائے تو ذرا بھی مبالغہ نہ ہوگا۔ وہ بے مثل اداکار ہی نہیں بلکہ بڑے کمال کے انگلش نیوز ریڈر بھی تھے۔ ہم نے اپنے براڈ کاسٹنگ کے کیریئر میں بہت سے لوگوں کو انگریزی بولتے ہوئے دیکھا ہے مگر اسلم اظہر والی بات ہمیں کسی اور میں نظر نہیں آئی۔

یہ 1964 کا سال تھا کہ حکومت کی طرف سے اسلم اظہر کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے وسیع تجربے کے پیشِ نظر ٹیلی وژن سینٹر کے انتظامات سنبھالیں کہ جس کا آغاز حکومت لاہور سے کرنا چاہتی تھی ۔یہ بنیادی طور پر جاپانی حکومت کے اشتراک سے ”پائلٹ ٹیلی ویڑن اسٹیشن“ تھا۔ ذہانت سے پر اور دوررس نظر رکھنے والے اسلم اظہر نے اس موقعے کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
ایک جاپانی نے اسلم اظہر سے کہا تین مہینے کا پائلٹ پروجیکٹ ہے، ڈائریکٹر پروگرامنگ بن جاؤ۔ اسلم اظہر نے کہا مجھے تو کچھ نہیں پتہ یہ ٹی وی ہوتا کیا ہے، بس ایک بار 1961 میں کراچی کی ایک صنعتی نمائش میں دور سے دیکھا تھا۔ جاپانی نے کہا یہاں کسی کو بھی ککھ (ذرہ بھر) نہیں پتہ لہذا اتنا تجربہ کافی ہے۔

چنانچہ اسلم اظہر ٹی وی کی دنیا میں داخل ہو گئے۔ جو لوگ ان کے رفیقِ کار بنے ان میں فضل کمال، ذکا درّانی اورمحمد نثار حسین شامل تھے۔ تیکنیکی معاونت کے لیے بھی کچھ لوگ ساتھ لیے گئے۔ آغازِ کار کے طور پرالحمرا، لاہور میں جگہ حاصل کی گئی اور اسلم اظہر کی قیادت میں چند افراد کا یہ کارواں ایک ایسی منزل کی طرف رواں دواں ہو گیا، جس کے راستے بے حد پر پیچ تھے۔
چھبیس نومبر 1964 کو ریڈیو پاکستان لاہور کے پچھواڑے میں جس 30 رکنی ٹیم نے ایک ٹینٹ سے پاکستان ٹیلی ویڑن کی آزمائشی نشریات کا آغاز کیا اس پروڈکشن بٹالین کے کمانڈر اسلم اظہر ہی تھے جو بعد میں پی ٹی وی کے پہلے مینجنگ ڈائریکٹر بنے۔ (آج پی ٹی وی چھے ہزار سے زائد ملازمین اور نو چینلوں کا نام ہے)۔

آزمائشی بنیادوں پر تین ماہ کے لیے جاری رہنے والی نشریات انتہائی کام یاب رہی اور حکومت نے فیصلہ کیا کہ ٹی وی نشریات کو مستقل بنیادوں پر جاری کر دیا جائے۔ ابتدا میں نشریات کا دورانیہ شام چھے بجے سے رات نو بجے رکھا گیا، جس میں پیر کی تعطیل کا ایک یوم بھی شامل تھا۔ تمام پروگرام براہِ راست نشر کیے جاتے۔ سب کچھ نیا نیا اور تجرباتی تھا۔ تاہم حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ ملک کی عمومی فضا بہت حد تک روشن خیال تھی اور اس بِنا پر اسلم اظہر کو یہ امید تھی کہ وہ ٹی وی کے ذریعے ایسا کچھ پیش کرنے میں کام یاب ہوجائیں گے، جسے عوام میں پسندیدگی ملے۔
خبریں پیش کرنے کے انداز میں بردباری، وقار کا پہلو نمایاں اور درست تلفّظ پر خاص توجّہ مرکوز کی گئی۔ پروگرام میں کسی قسم کی قطع و برید کا کوئی امکان نہ تھا کہ کوئی سینسر شپ عائد نہیں تھی۔ تاہم یہ رویّہ خبروں کے سلسلے میں نہیں تھا کیوں کہ فوجی حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کے لیے اپنی ہی خبروں کو اسکرین تک آنے دیتی۔ یوں پی ٹی وی کا آغاز ہوا اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے دل و دماغ پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ پی ٹی وی سے پیش کی جانے والی خبروں، تبصروں، ڈراموں، موسیقی کے پروگراموں اور اشتہارات کے چرچے ہونے لگے۔

گھروں، دفتروں، بازاروں، شادی بیاہ کی تقریبات، غرض جہاں دو چار لوگ جمع ہوتے، پی ٹی وی کی باتیں کی جاتیں۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی وژن اسکرین نے ملک میں رنگینیاں بکھیردیں۔ پھر تو یہ عالم ہوا کہ بقول میر ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میر ہوئے۔۔۔ اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے۔

پی ٹی وی لاہور کے بعد رفتہ رفتہ کئی سینٹرز قائم کیے گئے۔ 1964 سے 1968 تک کا دَور اسلم اظہر کے لیے اس قدر مصروفیت کا تھا کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک معرکے بعد دوسرے معرکے کا سامنا رہتا۔
محدود وسائل میں رہتے ہوئے انہوں نے پی ٹی وی کو محض تین سے چار برس کے اندر ایک متاثرکن ادارے میں تبدیل کردیا۔ کیا اپنے اور کیا غیر،سب ہی ان کی لیاقت، دیانت اور قائدانہ صلاحیتوں کے قائل ہو گئے۔ اسی سال حکومت نے انہیں مثالی خدمات انجام دینے کے صلے میں ”تمغۂ پاکستان“ سے نوازا۔ 1970 کے انتخابات ملک کے اوّلین انتخابات تھے۔ پی ٹی وی پر خصوصی اور بھاری ذمے داری عائد تھی کہ کس طرح انتخابات کی نشریات پیش کی جائیں۔
انتخابی حلقے ملک کے دونوں بازوؤں یعنی مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلا دیش) اور مغربی پاکستان پر محیط تھے۔ پی ٹی وی کے پاس ٹیکنالوجی اور وسائل محدود تھے۔ اسلم اظہر نے اعلیٰ حکّام کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ تمام قومی رہنماؤں کو پی ٹی وی پر یکساں موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ قوم کے سامنے اپنا منشور اور خیالات پیش کر سکیں۔ یوں ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمان، مولانا بھاشانی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا مفتی محمود، خان عبدا لقیوم خان اور دیگر رہنما پیش ہوئے۔ مجیب الرحمان کا اصرار تھاکہ وہ مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلا دیش کا نام استعمال کریں گے اور انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی گئی۔
انتخابات کے نتائج براہ ِراست نشر کرنے کے لیے خصوصی ”الیکشن ٹرانسمیشن“ تیار کی گئی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کو مدعو کیا گیا جو وقتا فوقتاً سامنے آنے والے نتائج پر تجزیہ پیش کرتے۔ درمیان میں ڈراموں، نغموں اور اشتہارات کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ پی ٹی وی کی اوّلین الیکشن ٹرانسمیشن کی بازگشت آنے والے وقتوں میں بھی سنائی دیتی رہی۔ یوں پی ٹی وی نے محدود تر وسائل کے ساتھ ایک غیر معمولی کام یابی حاصل کی، جس کے پیچھے بنیادی شخصیت اسلم اظہر کی تھی۔

اسلم اظہر کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ اس دور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا وطن عزیز میں کوئی وجود نہیں تھا اور پی ٹی وی کے پروگرام لائیو نشر کیے جاتے تھے جوکہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ آج کے دور میں جب ہمیں ریکارڈنگ کی سہولت میسر ہے، لائیو پروگرام پیش کرنے کی مشکلات اور دشواریوں کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ اسلم اظہر انتہائی وسیع المطالعہ شخص تھے اور انگریزی اور اردو پر انھیں یکساں عبور حاصل تھا۔ بڑے بڑے ادیب اور شاعر نہ صرف ان کے بہت قریب تھے بلکہ ذاتی طور پر ان کے چاہنے والے اور مداح بھی تھے۔ ترقی پسند سوچ اور روشن خیالی ان کے خمیر میں رچی بسی ہوئی تھی۔ جس کی قیمت انھیں جنرل ضیا الحق کے دور حکمرانی میں ادا کرنی پڑی لیکن انھوں نے اپنے اصولوں پر کبھی کوئی سودے بازی نہیں کی جس کی سزا کے طور پر انھیں پاپڑ بھی بیلنے پڑے۔
وہ ایک عظیم براڈکاسٹر اداکار اور نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل منتظم ہی نہیں بلکہ بلند پایہ انسان بھی تھے۔ سادگی، انکساری اور وضع داری ان پر ختم تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ اور جنرل محمد ضیاالحق کا مارشل لا، اسلم اظہر کے لیے نامساعد حالات کی ایک نئی کڑی تھی۔ فوجی حکمراں نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالتے ہی اسلم اظہر کو ملازمت سے برخاست کر دیا۔ یہ برخاستگی بھی اس صورت کی گئی کہ پی ٹی وی کو ہر لحاظ سے ایک قابلِ تقلید ادارہ بنانے والے جوہرِ قابل کو پینشن، گریجویٹی اور دیگر استحقاقی فوائد تک سے محروم کر دیا گیا۔
اقتدار کا مرکز اور اثر و رسوخ کا منبع اسلام آباد، ایک پَل میں اسلم اظہر کے لیے اجنبی بن گیا۔ حکم نامہ جاری ہوا کہ اسلام آباد چھوڑ دیا جائے۔ وہ اس صورت وہاں سے رخصت ہوئے کہ بس تہی دستی ہی ان کے شانہ بشانہ تھی۔ کراچی پہنچے تو حال یہ تھا کہ اتنی رقم بھی نہ تھی کہ فوری طور پر کوئی ڈھنگ کا کام کیا جا سکے۔

یہ پی ٹی وی کے لیے مثالی خدمات انجام دینے والے شخص کی حالت تھی۔ چند دوستوں کی معاونت سے افرادِ خانہ کے سر چھپانے کے لیے کسی نہ کسی طرح قیام گاہ کا بندوبست کیا گیا اور جب یہ مرحلہ در پیش ہوا تو اسّی کا عشرہ جب اسلم اظہر نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ”دستک تھیٹر“ کی بنیاد رکھی۔ ان کے انتہائی عزیز دوست، منصور سعید اس کام میں پیش پیش تھے۔ مقصد لوگوں کو معیاری تفریخ فراہم کرنا تھا۔ روشن خیال، پڑھے لکھے، سرکردہ اور پرجوش اصحاب پر مشتمل یہ تھیٹر اسلم اظہر کی سب سے بڑی ترجیح قرار پا گیا۔ یوں پاکستان کے پہلے منظم پولٹیکل تھیٹر گروپ نے بریخت کے کھیلوں کے ذریعے سیاسی مزاحمت کا راستہ چنا۔
انیس سو پچاسی میں مارشل لا کے عین عروج میں کراچی کے ریو سینما کے اسٹیج پر بریخت کا کھیل گیلیلیو، کھیلا گیا۔ ترجمہ اور ڈرامائی تشکیل منصور سعید نے کیے۔ گیلیلیو کا مرکزی کردار اسلم اظہر نے ادا کیا۔ اس گلیلیو نے پاٹ دار آواز میں مسلسل دو ہفتے دیوانے نوجوانوں سے کھچا کھچ بھرے ہال میں مذہبی آمریت کے خلاف بولے جانے والے ایک ایک مکالمے پر منوں ٹنوں تالیاں سمیٹیں۔

دستک کے پلیٹ فارم سے مزدوروں کے لیے یکم مئی 1986 کو بریخت کا کھیل ’سینٹ جان آف دی اسٹاک یارڈ‘ کراچی کے تین مختلف مقامات پر پیش کیا گیا اور مجموعی طور پر نو ہزار صنعتی مزدوروں نے دیکھا۔ اسی طرح بریخت کا ایک اور کھیل ’ہی ہو سیز یس، ہی ہو سیز نو‘ پہلی بات ہی آخری تھی، کے نام سے پیش ہوا۔
دستک کے ان کھیلوں کی خاص بات یہ تھی کہ تیس روپے کا ٹکٹ ہر تھیٹر باز کی دسترس میں تھا۔ مارشل لا انتظامیہ بریخت کے نام سے تو نہیں البتہ اتنے سستے ٹکٹ سے ضرور چونک گئی کہ ہو نہ ہو تھیٹر کی آڑ میں دال میں کچھ کالا ہے۔ چنانچہ نگرانی بڑھا دی گئی۔

بیگم نسرین کے ہمراہ

انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ جنرل ضیاالحق کی گیارہ برس پر مبنی آمریت کے خلاف سب سے توانا آواز ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی، بے نظیر بھٹو کی تھی۔ ہر طرح کے ظلم و ستم کا سامنا کرنے کے باوجود بے نظیر کے پائے استقلال میں کوئی لرزش نہ تھی، سو قوم نے اس جرات آمیز اور بے نظیر جدوجہد کا صلہ یہ دیا کہ اپنے ووٹس کے ذریعے بے نظیر بھٹو کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز کروا دیا۔
بے نظیر نے پی ٹی وی کے جملہ اختیارات ایک بار پھر اسلم اظہر کو سونپ دئیے۔ تاہم مفاہمت، مصالحت اور مجبوریوں میں جکڑی بے نظیر بھٹو کی حکومت چلنے نہ دی گئی اور 1988 کے اختتام پر بننے والی حکومت 1990 کے درمیانی عرصے میں برطرف کر دی گئی۔ حکومت ختم ہوئی تو اسلم اظہر بھی پی ٹی وی سے ایک بار پھر فارغ کر دئیے گئے۔ اگلی مصروفیت ایک بڑے نجی اسکول کی ڈائریکٹر شپ تھی۔
تاہم یہ ملازمت بھی یوں طویل وقت تک جاری نہ رہ سکی کہ اسلم اظہر وہاں کی بعض حکمت عملیوں سے اپنے آپ کو ہم آہنگ محسوس نہ کر سکے۔ اس ملازمت کے بعد کا عشرہ اسلم اظہر کے لیے بہت حد تک گوشۂ تنہائی کا رہا۔ وہ خود تو لو گوں سے کم کم ہی ملنے جاتے لیکن ان کے چاہنے والے اور پرستار ان سے ملاقات کے لیے ان کے پاس آتے جاتے رہتے۔ غیر معمولی صلاحیتوں اور گوناگوں خوبیوں کے مرقّع، اسلم اظہر نے اپنی زندگی میں کسی قسم کے گہرے ملال کو حاوی نہ ہونے دیا۔
جب ملازمت میں تھے، تب بھی اور جب ملازمت سے محروم کر دئیے گئے، اس وقت بھی انہوں نے شکوہ و شکایت کی بجائے اپنی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے اپنی مشغولیت اور مصروفیت کی دنیا آباد رکھی۔ انہوں نے خوب جذبے اور لگن سے کام کیا۔ ان کی وابستگی اوّل و آخر ”کام“ ہی کے ساتھ تھی۔ زندگی بھر کرائے کے مکان میں گزر بسر کرنے والے اسلم اظہر نے اگر کوئی چیز کمائی تو وہ ”عزّت“ تھی۔ ایک بھرپور اور ہنگامہ خیز زندگی گزارنے والے اسلم اظہر 29 دسمبر 2015 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔

اسلم اظہر، بیگم نسرین، بیٹا اریب، بیٹی عمیمہ اور پوتی کے ہمراہ ایک یادگار فیملی گروپ

اسلم اظہر نے دوشادیاں کی تھیں۔ جرمن خاتون سے ان کی ایک بیٹی، یاسمین ہیں جو ہیمبرگ، جرمنی میں فرینچ اور انگریزی پڑھاتی ہیں۔ دوسری بیوی، نسرین سماجی طور پر انتہائی متحرک اور فعال رہیں۔ ”ایچ آر سی پی“ کی کاؤنسل ممبر ہونے کے علاوہ ”ویمن ایکشن فورم“ کی فاؤنڈر ممبر بھی رہیں۔ اسلم اظہر اور نسرین نے ازداوجی زندگی کے اکیاون برس ساتھ گزارے۔ شوبز کی دنیا میں انہیں مثالی جوڑا کہا جاتا تھا۔ ان کی اولاد میں دو بیٹے، اسامہ اظہر، اریب اظہر اور ایک بیٹی عمیمہ اظہر شامل ہیں۔ بڑے بیٹے اسامہ اظہر، سافٹ ویئر آرکیٹیکٹ ہیں اور آج کل جرمنی میں مقیم ہیں۔ اسامہ شادی شدہ ہیں مگر ازدواجی زندگی کام یاب نہ ہوئی اور بیوی سے علیحدگی ہوگئی۔

اُسامہ اظہر

اسامہ کے دو بیٹے فِروین (اسد)اور دانیال(یاسین) زیرِ تعلیم ہیں۔ اریب اظہر پاکستان کی میوزک انڈسٹری کا جانا پہچانا نام ہیں۔ موسیقی گویا ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ صوفیانہ گائیکی میں بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ کئی میوزک سیریز بنا چکے ہیں، جن میں تیرہ اقساط پر مبنی ”سلام بالکن“اور ”انڈس بلیوز“ شامل ہیں۔ (آخر الذّکر پاکستان کے مٹتے ہوئے سازوں کے بارے میں ہے۔) اسلام آباد میں ”میوزک میلہ فیسٹیول“ بھی کیا جو تین برس جاری رہا۔ 2014 سے 2016 جاری رہنے والے اس میلے کو موسیقی سے شغف رکھنے والوں میں بے حد سراہا گیا۔ ”آرٹ لنگر“ کے عنوان سے بھی ایک میوزک سلسلہ کیا۔ آج کل کراچی میں ”ٹی ٹو ایف“ سے بطور ڈائریکٹر وابستہ ہیں۔ اریب اظہر غیر شادی شدہ ہیں۔ صاحب زادی عمیمہ اظہر ڈاؤن سینڈروم (ایک ذہنی کمزوری) کا شکار ہیں۔ عمیمہ پورے گھر کی توجّہ کا مرکز ہیں اور اہلِ خانہ انہیں ”گھر کی روشنی“ قرار دیتے ہیں۔

اریب اظہر


ملک میں جب بھی ٹیلی وژن نشریات یا براڈ کاسٹنگ کا ذکر ہوگا، اس میں اسلم اظہر کا نام سرفہرست ہوگا۔ ان کی غیرمعمولی دانش مندی اور خدادا صلاحیتوں کے علاوہ ان کی دیانت داری، میرٹ کو اہمیت دینا، صرف قابل لوگوں کو سامنے لانا اور بھرپور محنت، لگن اور جانثاری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

شبیر ابن عادل

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس