جدید دور، جدید فلم، جدید تکنیک، جدید ایفکٹس، منفرد موضوعات کے آنے سے فلم بدل چکی ہے۔ یہی نہیں، فلم ڈھائی تین گھنٹے سے دو ڈیڑھ گھنٹے پر آچکی ہے۔ جس طرح کرکٹ میں ٹیسٹ میچز کی جگہ ایک روزہ کرکٹ آئی اور پھر ٹی ٹوئنٹی نے ون ڈے کی مقبولیت کم کردی۔ اسی طرح فلم کے میدان میں بھی ایک نئی جہت شارٹ فلم متعارف کرائی گئی ہے، جس کی مقبولیت فیچر لینتھ فلموں کو بھی متاثر کرررہی ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان ٹی وی کے ویٹرن ہیرو یونس پنہور کی بنائی ھوئی مختصر دورانئے کی فلم ’ایکتا‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جس میں لیونگ لیجنڈ ندیم کے علاوہ ٹی وی کے منجھے ہوئے اداکار انعام خان اور علی رضا کے ساتھ فلم دال چاول، سے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے والے خوبرو ہیرو احمد سفیان نے اپنی بے ساختہ ادا کاری کے ساتھ ایکسپریشن سے بھی متاثر کیا۔ یہ ٹیلی فلم حالات حاضرہ پر بنائی گئی ہے جس میں ڈائیلاگز روزمرہ کے ہیں جوہم آپس میں سیاسی اختلافات کے وجہ سے اکثردہراتے ہیں۔

کہانی ایک ایسے گھر کی ہے، جس میں ایک باپ (ندیم) اپنے روایتی اصولوں کے ساتھ موجود ہے۔ اس کے دو جوان شادی شدہ بیٹے ہیں جو الگ الگ شہروں میں رہتے ہیں۔ دونوں باپ کی سال گرہ پر اسے ملنے آتے ہیں۔ کھانے کے دوران ان میں سیاسی مکالمہ ہوتا ہے۔ ایک بھائی پی ٹی آئی کا سپورٹر ہے جبکہ دوسرا پی ڈی ایم کا حامی ہے۔ بحث اتنی بڑھتی ہے کہ نوبت ہاتھا پائی تک آجاتی ہے۔ دونوں کھانا ادھورا چھوڑ کر اپنے گھروں کو نکل جاتے ہیں۔ باپ بے چارہ تنہا رہ جاتا ہے۔

مختصر دورانئے کی اس فلم میں ندیم صاحب نے کمال ایکسپریشن سے اپنی بے چارگی وبے کسی کا اظہار کیا ہے جو ان کا خاصا ہے۔ نوجوان احمد سفیان نے جذباتی سیاسی ورکر کے کردار میں زبردست پرفارمنس سے متاثر کیا۔ انعام خان ریڑھی بان فروٹ فروش کے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے میں کامیاب رہے۔ علی رضا نے بھی نوکر کے کردار میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
یونس پنہور تارک وطن ہو کر سپرد امریکہ ہوئے ہیں مگر دیگر تارکین وطن کی طرح ان کا بھی صرف جسم بیرون ملک اور روح پاکستان میں ہے۔ انہوں نے دو بھائیوں کے سیاسی اختلاف کے ذریعے پیغام دیا کہ یہ وقت آپس کے اختلاف کا نہیں ہے۔ ملک جس بحران سے گزر رہا ہے، اس میں اخوت، اتحاد، اتفاق، انسانیت، یکجہتی یعنی ایکتا، کی ضرورت ہے۔ در حقیقت فی الوقت ہمیں ایسے ہی موضوعات پر ڈراموں اور فلموں کی ضرورت ہے۔