پاکستان، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، مصر اور اور چار دوسرے اسلامی ممالک نے اسرائیل کے غزہ منصوبے کو مسترد کرنے کی مذمت کی۔
پاکستان، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ اس میں کہا گیا کہ اسرائیل کا غزہ منصوبہ فلسطینی ریاست کو مسترد کرنا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسرائیل امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے غزہ جامع منصوبے پر عمل درآمد کے انکار کو امن کو دھچکا دینے کی سمجھا جاتا ہے۔ اس بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو امن منصوبے پر رکاوٹ ڈالنے کے نتائج کی کل ذمہ داری ہوگی۔ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور امن کے لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد لازمی ہے۔
اسلامی ممالک نے غزہ میں انسانی بحران کے معاملے کو حل کرنے، سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد کی اشد ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک نے فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے یا مسترد کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں اور دو ریاستی حل ہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کا راستہ ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ 1967 کی سرحدوں پر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور فلسطینی ریاست سے انکار خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔
بورڈ آف پیس کے کردار کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ بورڈ آف پیس سے غزہ روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور امریکا کی فعال حمایت اور شمولیت سے جامع منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام فریق غزہ جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت میں تعاون کریں۔



