Tuesday, October 20, 2026
پہلا صفحہثقافتشان کا سنیما، طبقاتی تقسیم اور عام آدمی کی تفریح پر اہم...

شان کا سنیما، طبقاتی تقسیم اور عام آدمی کی تفریح پر اہم بیان

”سنیما جب بدلتا ہے تو ناظرین بھی بدل جاتے ہیں، ہر طبقے کے اپنے ہیرو ہوتے ہیں“ ۔ شان

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شان شاہد نے سنیما، طبقاتی تقسیم، فلموں کے مواد اور عام آدمی کی تفریح تک رسائی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنیما میں حقیقی ہم آہنگی اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب فلمیں ہر طبقے کے لیے بنائی جائیں اور انہیں دیکھنا عام آدمی کی استطاعت میں بھی ہو۔

شان کے مطابق، جب سنیما تبدیل ہوتا ہے تو اس کے ناظرین بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ معاشرے کے ہر طبقے کے اپنے ہیرو ہوتے ہیں اور ان کی پسند، ترجیحات اور تفریح کے معیار میں فرق پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کا سنیما اور تھیٹر اب عام لوگوں کی دسترس میں نہیں رہا، کیونکہ مہنگے ٹکٹوں نے تفریح کے اس ذریعے کو ایک محدود طبقے تک پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ بعض فلموں کو کم ذہین یا عام تفریح پسند ناظرین کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے، خصوصاً ہمارے معاشرے میں ایسی فلموں کے اپنے ناظرین موجود ہیں۔ ان کے خیال میں سنیما کے طبقے اور فلموں کے مواد کے حوالے سے اختلافات ہمیشہ موجود رہیں گے۔

شان نے امریکی معاشرے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کی مقبولیت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی زندگی کا ایک نمایاں مظہر ہے، لیکن وہاں کا ہر تعلیم یافتہ یا دانشور طبقہ اسے باقاعدہ کھیل تسلیم نہیں کرتا۔ ان کے مطابق، تفریح کے مختلف ذرائع اور ان کے ناظرین کے درمیان اختلافات ایک فطری حقیقت ہیں۔

اداکار کا کہنا ہے کہ حقیقی ہم آہنگی اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب ہم سب کے لیے فلمیں بنائیں اور انہیں زیادہ سستا اور قابلِ رسائی بنائیں۔ ان کے نزدیک ہر شخص کو اپنی تعلیم، ماحول اور سماجی پس منظر کے مطابق تفریح حاصل کرنے کا حق ہے۔

شان نے اپنی گفتگو میں ہالی وڈ مووی ’ڈیگر‘ (کھودنے والا) دیکھنے کا تجربہ بھی بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فلم دیکھی اور انہیں بہت پسند آئی، لیکن اس کے ٹکٹوں پر 24 ہزار روپے اور ریفریشمنٹ پر مزید 24 ہزار روپے خرچ ہوئے، یعنی مجموعی طور پر 48 ہزار روپے صرف ایک فلم دیکھنے پر صرف ہوگئے۔

انہوں نے اس اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم عام آدمی کے لیے ناقابلِ تصور ہے۔ یہ مثال ان کے اس مؤقف کو واضح کرتی ہے کہ سنیما کی بڑھتی ہوئی لاگت نے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان تفریح کے مواقع میں فرق پیدا کردیا ہے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا سنیما صرف مہنگی تفریح کا ذریعہ بنتا جائے گا یا عام آدمی بھی دوبارہ بڑی اسکرین پر اپنی پسند کی کہانیاں دیکھ سکے گا؟

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس