ایک خودکش دھماکہ درازندہ میں ہوا جس میں 11 افراد جاں بحق ہوگئے اور 30 زخمی ہوئے۔
دہشت گردوں نے انسداد اسمگلنگ اور امن میلے کے دوران پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں نے لوڈر چنگچی رکشہ چیک پوسٹ کے قریب لے جایا اور پھر دھماکا کیا۔
11 افراد دھماکے میں جاں بحق ہوگئے اور 30 زخمی ہوئے۔ کچھ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر نہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، جاں بحق ہونے والوں میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز کے اہلکار، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ بچہ شامل ہیں۔
رائٹرز نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے مبینہ خودکش حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے سامنے لی ہے۔
دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو اسپتال لے جانا شروع کر دیا۔
واقعے کے بعد پولیس اور دیگر ادارے جائے وقوع کو گھیرے میں لے گئے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیر لیا اور تلاش اور صفائی کا کام شروع کیا۔ آگ لگنے سے لوگوں میں خوف اور ہراس پھیل گیا، اور عوام کو محتاط رہنے کو کہا گیا۔
پولیس کے ذرائع کے مطابق امن میلے کے چیک پوسٹ پر دھماکہ کس طرح کا ہے اور کیا نقصان ہوا، اس کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ واقعے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتے کے دن ہونے والے فرضی خودکش حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کر لی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فرضی خودکش حملے کی شدید مذمت کی اور قیمتی انسانوں کی ہار پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
محسن نقوی نے دھماکے میں جاں بحق لوگوں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف مضبوط عزم کو کمزور نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی ڈی آئی خان کے دھماکے کی شدید مذمت کی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرا دکھ ظاہر کیا۔



