Tuesday, September 29, 2026
پہلا صفحہخبریںایرانی صدر: اپنے ملک کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار آبنائے ہرمز...

ایرانی صدر: اپنے ملک کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دیں گے

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیا کہ ٹرمپ نے ہمیں دہشت گرد کہا، لیکن ہم خود دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ہم اپنے ملک کے خلاف ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیں گے۔

حضور نے اپنے ہاتھ میں میناب سکول پر امریکی حملے کی تصاویر دکھائی، اور عالمی برادری نے انہیں دیکھا۔ اس کے بعد امریکی مندوب وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔

ایرنی صدر نے کہا کہ جنگ میں ہمارے معصوم شہریوں کو شہید کیا گیا۔ ایران خواتین اور بچوں کو بھی شہید کیا گیا۔ امریکا کے خلاف جنگ میں ہم نے اپنے ملک کا دفاع کیا۔ ایران نے دفاع کا حق استعمال کیا۔ ہمارے سپریم لیڈر کو بغیر قانونی جواز کے قتل کیا گیا۔ ہم نے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، شہریوں کو نہیں۔ ہم دوسروں کی سلامتی کی قیمت پر اپنی سلامتی حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ ایران پر حملوں میں عالمی اصولوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ امریکی حملوں میں سیکڑوں شہید اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کا حق ایران کا ہے۔ ہم نہیں دیں گے کہ لوگ آبنائے ہرمز میں آزادانہ آ سکیں۔ ایران کو ایٹمی توانائی کی ضرورت ہے، نہ کہ ایٹمی بم۔ ایٹمی توانائی ہماری ترقی اور پرامن مقصد کا حصہ ہے۔ ہمارے علاقائی مسائل کو خطے میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔ ہم اپنے ملک کے خلاف ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیں گے۔ عالمی برادری کو ایران پر دوہرا معیار ختم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سفارتی راستے پر یقین رکھتے ہیں اور دباؤ پر نہیں ہٹیں گے۔ ایران کبھی جارح ملک نہیں رہا اور نہ ہی جنگ شروع کی۔ ایران ہمیشہ مذاکرات کرنے کے لیے تیار رہا ہے۔ امریکہ ہماری آبی گزرگاہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور عالمی قوانین کا احترام نہیں کرتا۔ اسرائیل نے اسماعیل ہانیہ کو ہمارے ملک میں شہید کیا۔ غزہ کی صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ملک کی حفاظت کے لیے ہمیں کسی کی اجازت نہیں چاہیے۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس