Sunday, February 25, 2024
پہلا صفحہ مضامین لاہور کی فلمی منڈی رائل پارک۔ اب وہ بہاریں کہاں؟

لاہور کی فلمی منڈی رائل پارک۔ اب وہ بہاریں کہاں؟

پاکستانی فلمیں ، ملتان روڈ لاہور کے فلم اسٹوڈیوز میں بنتی تھیں لیکن ان کا کاروبار یا ڈسٹری بیوشن، میکلوڈ روڈ، ایبٹ روڈ اور نسبت روڈ لاہور کے سنگم پر واقع لکشمی چوک اور رائل پارک میں ہوتی تھی۔
جہاں سینکڑوں فلم ڈسٹری بیوٹرز کے دفاتر قائم تھے۔ اسی علاقے میں لاہور کے درجوں مرکزی سینما گھربھی تھے۔
لکشمی چوک کی پہچان لکشمی بلڈنگ ہوا کرتی تھی جس کا اب محض ڈھانچہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ یہ عمارت لکشمی انشورنس کمپنی کی ملکیت تھی۔ جس کے مالکان ہندو تھے۔ یہ بلڈنگ کئی سیاسی شخصیات، ادیبوں، دانش وروں اور فن کاروں کا مسکن رہی۔
لکشمی بلڈنگ میں کئی فلمی دفاتر قائم تھے ، جبکہ بیرونی طرف قد ِآدم فلمی ہورڈنگز آویزاں ہوتی تھیں۔
لکشمی کے سامنے والا علاقہ جہاں فلمی منڈی رائل پارک آباد ہوئی۔ 1935 تک یہاں ایک وسیع میدان ہوا کرتا تھا اور کوئی عمارت تعمیر نہیں ہوئی تھی۔
سال 1935 میں ہندوستان پر قابض جارج پنجم کی بادشاہت کی سلور جوبلی کا جشن منانے کے لیے اس میدان میں ایک میلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس میلے میں شہرہ آفاق رائل سرکس، نے اپنا سرکس بھی سجایا۔ اسی مناسبت سے بعد یہ جگہ رائل پارک مشہور ہوگئی۔
رائل پارک کی ابتدائی تعمیرات میں مشہور آرٹسٹ مائیکل کی دکان بہت مشہور تھی۔ اس کے برابر میں اس زمانے کے مشہور جرنلسٹ بی آر چوپڑا کا ’او کے پریس‘ تھا۔ یہ وہی بی آر چوپڑا ہیں جو بعد میں بھارت کے مشہور فلم ساز اور ہدایت کار کے طور پر جانے گئے۔ ان کی فلموں میں نیا دور، سادھنا، ہم راز، نکاح، سمیت کئی کلاسک اور یادگار فلمیں شامل ہیں۔

قیام پاکستان سے قبل رائل پارک میں کھلنے والے ابتدائی فلمی دفاتر میں فلم ساز میاں رفیع اختر کا آفس سپر آرٹ پروڈکشن اور بلال پروڈکشن کے نام سے اے کے جان صاحب کا آفس شامل تھے۔ قیام پاکستان کے بعد رائل پارک میں تیزی سے فلمی دفاتر کھلنے لگے اور یہ علاقہ باقاعدہ فلمی منڈی بن گیا۔
بعد ازاں یہاں ایورنیوپکچرز، ایوریڈی پکچرز، ملک ٹاکیز، اور انڈیا فلم بیورو، کے دفاتر کھلے۔
سن ساٹھ کی دہائی میں رائل پارک میں صرف فلمی دفاتر کی تعداد 300 کے لگ بھگ تھی۔
اس زمانے میں یہاں آزاد نامی ایک آرٹسٹ کے دفتر میں کافی گہما گہمی نظر آتی تھی۔ بیشتر پاکستانی فلموں کے پوسٹر آزاد ڈیزائن کرتے تھے۔
آزاد کے علاوہ رائل پارک میں اختر، موجد، منظور اور ایس خان کے دفاتر بھی تھے۔ یہ تمام آرٹسٹس فلم پوسٹر کی ڈیزائننگ میں ملکہ رکھتے تھے۔
لکشمی اور رائل پارک میں حیدر اور اشرف نامی پان فروشوں کی دکانوں میں فن کاروں اور فلم سازوں کی آمدورفت رات گئے تک جاری رہتی۔
فلمی دفاتر کے علاوہ رائل پارک میں واقع ہوٹلوں پر بھی رات دن فلموں کی باتیں اور کاروبار ہوتا تھا۔
ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کے سینما مالکان کو فلموں کے حصول کے لیے رائل پارک کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ جس کے باعث رائل پارک کے دفاتر کے علاوہ ہوٹلوں میں بھی رش دکھائی دیتا تھا۔
اس زمانے میں لکشمی چوک میں واقع کنگ سرکل ہوٹل، فن کاروں کی خاص بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ رضا میر، سریش، اوم پرکاش، سلیم رضا، ایم اسماعیل، امرناتھ، ایم اجمل ، عزیز کاشمیری ، ایم جے رانا ، ساون ، سدھیر ، مظہر شاہ ، علاﺅ الدین، میڈم نور جہاں، اعجاز درانی، ندیم، شبنم، آسیہ، سلطان راہی، منور ظریف، رنگیلا، اجمل، قوی، فردوس، عالیہ وغیرہ اکثر شام کے اوقات میں یہاں موجود ہوا کرتے تھے۔
کئی کلاسک فلموں کی منصوبہ بندی ان ہوٹلوں میں ایک چائے کی پیالی پر کی گئی۔
رائل پارک اور لکشمی کی قدیم اور مشہور عمارتوں میں کلیان مینشن، خٹک منزل، الفضل بلڈنگ، بلال بلڈنگ ، مسعود مینشن، رضیہ مینشن، درانی مینشن، ثریا مینشن، گابا بلڈنگ، گیتا بھون بلڈنگ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر کا وجود ختم ہوچکا ہے یا ان میں توڑ پھوڑ کرکے وہاں پرنٹنگ پریس لگا دیے گئے ہیں۔
پاکستان فلم انڈسٹری کے بیشتر فنکاروں کے فلمی دفاتر بھی یہاں موجود تھے جن میں مظہر شاہ ، نجم الحسن، سلمیٰ ممتاز، فاضل بٹ، سدھیر، اعجاز درانی، سنگیتا، یوسف خان، عنایت حسین بھٹی، رنگیلا، خلیفہ نذیر ، بدرمنیر، اورعمر شریف وغیرہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کئی اہم فلمی شخصیات اور نامور ہدایتکاروںسیدعطاءاللہ شاہ ہاشمی ، میاں فرزند علی ، چوہدری سلیم سرور جوڑا، جمشید ظفر، محمد سرور بھٹی، اسلم ڈار، یونس ملک ، چوہدری عارف، اسلم ناتھا، سیٹھ سلیم اشرفی، پرویز ملک ، نذرالاسلام ، سیدنور، عزیز جہانگیری، نعیم خان، سلیم خان، چوہدری اسماعیل، جلال الدین خٹک سمیت دیگر دیگر کے دفاتر یہاں موجود تھے۔
اب یہاں صرف چند فلم ساز اداروں شیرا فلمز، چوہدری اعجاز کامران، پلے پکچرز، وغیرہ کے فلمی دفاتر ہی رہ گئے ہیں۔ باقی چاروں طرف پرنٹنگ پریس کا جال پھیل گیا ہے۔
ایک زمانے میںرائل پارک کو نیند نہیں آتی تھی اور یہاں دن میں بھی تارے جگمگاتے تھے۔دن بھر اس کی روشنیاں،فلمی پوسٹرز، بینرز، ہورڈنگز، مالشیے اور سستے مگر لذیذکھانے اپنا جلوہ دکھاتے رہتے تھے۔ تاہم اب یہ سب ایک خواب ہوکر رہ گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

انڈین پنجابی فلم جی وے سوہنیا جی، کی پاکستان میں نمائش پر پابندی عائد

سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کی پاکستان بھر میں نمائش پر...

پاکستان اور اسلام دشمن نظریات کا پرچار کرتی انڈین پنجابی فلم کی پاکستانی پنجاب میں نمائش پر عوامی ردعمل

پاکستان اور اسلام مخالف انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کو پنجاب میں نمائش کی اجازت دینے پر پنجاب فلم...

فلم فیئرایوارڈز 2024 کا میلہ میاں بیوی کی جوڑی رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے نام رہا

اٹھائیس جنوری کو بالی وڈ کے سب سے اہم ایوارڈز فلم فیئر کا انعقاد گجرات میں کیا گیا جس میں سال...
- Advertisment -

مقبول ترین

انڈین پنجابی فلم جی وے سوہنیا جی، کی پاکستان میں نمائش پر پابندی عائد

سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کی پاکستان بھر میں نمائش پر...

پاکستان اور اسلام دشمن نظریات کا پرچار کرتی انڈین پنجابی فلم کی پاکستانی پنجاب میں نمائش پر عوامی ردعمل

پاکستان اور اسلام مخالف انڈین پنجابی فلم ’جی وے سوہنیا جی‘ کو پنجاب میں نمائش کی اجازت دینے پر پنجاب فلم...

فلم فیئرایوارڈز 2024 کا میلہ میاں بیوی کی جوڑی رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کے نام رہا

اٹھائیس جنوری کو بالی وڈ کے سب سے اہم ایوارڈز فلم فیئر کا انعقاد گجرات میں کیا گیا جس میں سال...

سینئر اداکار خالد بٹ کی نماز جنازہ ادا، لاہور میں سپرد خاک کردیا گیا

فلم، تھیٹر اور ٹی وی کے نام ور اداکار خالد بٹ، کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان آج لاہور میں سپرد...

ریسینٹ کمنٹس