ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاملات کے بارے میں بہت سخت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ایران پر پابندیاں نہیں ہٹائے گا اور ان کے منجمد اثاثے واپس نہیں ملیں گے، وہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر بات چیت نہیں کریں گے۔
انہوں نے این بی سی نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو ختم کرنے کے لیے بات چیت بہت قریب ہے، لیکن وہ ایران سے مزید رعایتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ ہو جائے تو امریکا اور ایران مشترکہ طور پر کام کریں گے اور اضافی یورینیم کو تلف یا منتقل کر کے اسے ختم کر دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکا ایران کے ساتھ کام کرے گا یا ان کے بغیر، لیکن امریکا محفوظ رہے گا اور ایران پر کوئی فائرنگ نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ نہیں ہوتا ہے، تو امریکا ایران کی فوجی صلاحیت کو انتہائی سخت طریقے سے کم کرے گا اور پھر زمینی یا فوجی کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا کے پاس جدید خلائی نگرانی کے نظام ہیں جو ایران میں سرگرمیوں کی مکمل نگرانی کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق، امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا اور تقریباً 50,000 امریکی فوجی اس مشن کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ فوجی اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک کہ “مکمل نتیجہ” حاصل نہیں ہو جاتا۔
ایران کی قیادت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ قیادت پہلے کے مقابلے میں زیادہ “معقول” اور “سمجھدار” ہے اور وہ معاہدے کے عمل میں شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ نئے ایرانی رہنما سے براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن ابھی تک کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔
ٹرمپ نے سابق امریکی صدر اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیا معاہدہ مختلف ہوگا اور ایران کے اثاثے فوری طور پر منجمد نہیں کیے جائیں گے، بلکہ بعد میں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرون موجود ہیں۔
امریکی صدر نے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ امریکا کا موقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی صورت میں ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی صرف حتمی اور مکمل معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوگی، اور فی الحال کسی عارضی یا قلیل مدتی معاہدے پر غور نہیں کیا جا رہا ہے۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور مبینہ جنگ کے تناظر میں، امریکہ کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں کی واپسی ضروری ہے، اور تہران اس مطالبے پر قائم ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ ایران کے منجمد اثاثوں کے ممکنہ استعمال پر غور کر رہی ہے، جنہیں بعض خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطے میں ہونے والے حالیہ حملوں کے باعث ہونے والے مالی نقصانات کا تخمینہ لگائے، تاکہ مستقبل کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، امریکا کا یہ سخت موقف ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں اور خطے میں جاری کشیدگی میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔




