Tuesday, September 29, 2026
پہلا صفحہبزنسگوگل کی 28ویں سالگرہ پر سرچ انجن سے متعلق 16 دلچسپ حقائق...

گوگل کی 28ویں سالگرہ پر سرچ انجن سے متعلق 16 دلچسپ حقائق جانیں

کسی کو انٹرنیٹ پر کچھ جاننا ہو تو سب سے پہلے کس کا خیال ذہن میں آتا ہے؟ یقیناً گوگل کا۔

درحقیقت انٹرنیٹ پر گوگل کی مقبولیت کا مقابلہ فی الحال کوئی نہیں کر سکتا اور برسوں سے وہ مسلسل نمبر ون پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔

گوگل کی جانب سے 27 ستمبر کو 28 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے ماضی میں مختلف تاریخوں میں سالگرہ منائی جاتی تھی۔

13 سال قبل یعنی 2013 میں کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں خود بھی اعتراف کیا تھا کہ اسے خود علم نہیں کہ گوگل کی سالگرہ کب ہوتی ہے۔

بلاگ پوسٹ کے مطابق ہم 7، 8 اور 26 ستمبر کو بھی سالگرہ منا چکے ہیں۔

مگر اب 27 ستمبر کو ہی گوگل کی سالگرہ منائی جاتی ہے اور 28 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی ڈوڈل بھی جاری کیا گیا ہے جو اس کمپنی کے ماضی کے لوگو (logo) کے بارے میں بتاتا ہے۔

یہاں صارف کی طرف سے ان پٹ کو انسانی تحریر میں دوبارہ لکھا گیا ہے:

زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈوڈل کو گوگل کو باضابطہ طور پر متعارف کرانے سے پہلے ہی پیش کر دیا گیا تھا۔

پہلا ڈوڈل اس کمپنی نے 30 اگست 1998 کو پیش کیا تھا، جبکہ گوگل کی لوگوں تک رسائی 4 ستمبر 1998 سے شروع ہوئی تھی۔

گوگل کی بنیاد لیری پیج اور سرگئی برن نے ایک گیراج میں رکھی تھی۔ یا یوں کہہ لیں کہ ان کا پہلا آفس ایک گیراج میں قائم کیا گیا تھا۔

اس موقع پر گوگل کے کچھ دلچسپ حقائق جانیں۔

1۔ گوگل دنیا کا مقبول ترین سرچ انجن ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق ہر سیکنڈ پر 99 ہزار سرچز ہوتی ہیں، اور دن بھر میں ساڑھے 8 ارب سرچز کی جاتی ہیں۔

2۔ گوگل متعارف کرائے جانے کے بعد سے اب تک 5 ہزار سے زیادہ ڈوڈلز تیار کیے جا چکے ہیں۔ اس کے لیے ایک پوری ٹیم مختص کی گئی ہے۔

3۔ ویسے تو گوگل انٹرنیٹ کی دنیا کا مقبول ترین نام ہے، لیکن اس کا اصل نام مختلف تھا۔ سرگئی برن اور لیری پیج نے پہلے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک پراجیکٹ کے دوران اسے بیک راب کا نام دیا تھا۔ لیکن بعد میں اس کا نام گوگل رکھ دیا گیا۔

4۔ گوگل کا ایک مقبول ترین فیچر گوگل امیجز کا ہے، اور اس کے قیام کی وجہ بہت دلچسپ ہے۔ 2000 میں ایک ایوارڈ تقریب کے دوران امریکی گلوکارہ اور اداکارہ جینیفر لوپیز کا لباس گوگل امیجز کے قیام کی وجہ بن گیا۔

اس موقع پر یہ لباس گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کیا گیا تھا۔ لوگ اس کی تصاویر دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے 2001 میں گوگل امیجز کا قیام عمل میں آیا۔

5۔ گوگل کو دنیا کا مقبول ترین سرچ انجن بننے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ 26 جون 2000 کو ایک ارب سرچز کی جانے کے بعد اسے اعزاز ملا۔

6. کیا تم جانتے ہو گوگل کے لفظ کا مطلب کیا ہے؟ 2006 میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری اور میریام-ویبسٹر ڈکشنری نے گوگل کو ایک کردار قرار دیا اور اس کا مطلب ہے ویب پر تلاش کرنا۔

7۔ جی میل دنیا کی سب سے مقبول ای میل سروس ہے۔ اس کا قیام 1 اپریل 2004 کو ہوا تھا۔ لیکن شروع میں لوگوں نے اسے اپریل فول کا مذاق سمجھا تھا۔ کسی کو یقین نہیں آیا تھا کہ گوگل ایک جی بی اسٹوریج مفت دے رہا ہے۔

8۔ لوگ گوگل سرچ پر اتنی زیادہ انحصار کرتے ہیں کہ اگر اس کی سروس کچھ منٹ یا سیکنڈ کے لیے بند ہو جائے تو دنیا ہلا دیتی ہے۔ 16 اگست 2013 کو ایسا ہی ہوا۔ 5 منٹ کے لیے گوگل کی تمام سروسز دستیاب نہیں رہیں۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک میں 40 فیصد کمی آئی۔

9۔ گوگل کا نام درحقیقت ریاضی کی اصطلاح ‘گوگول’ سے لیا گیا ہے۔ یعنی 1 کے بعد 100 صفر۔

10۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے، دنیا بھر میں روزانہ ساڑھے 8 ارب گوگل سرچز کی جاتی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے 15 فیصد نئی ہوتی ہیں۔ یعنی ایسی سرچز کہ جن پر پہلے کبھی سرچ نہیں کیا گیا ہوتا۔

11۔ گوگل کی کم از کم 9 سروسز ایسی ہیں جنہیں ہر ماہ ایک ارب سے زائد لوگ استعمال کرتے ہیں۔

12۔ گوگل ٹرانسلیٹ کو 2006 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ ایک تخمینے کے مطابق، روزانہ اس پر 100 سے زائد زبانوں کے 143 ارب الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔

13۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ گوگل کا خفیہ ہتھیار کیا ہے؟ وہ ہے آٹو کمپلیٹ۔

اگر آٹو کمپلیٹ کا فیچر گوگل پر موجود نہ ہوتا تو لوگوں کو سرچ کرنے میں زیادہ وقت لگتا۔ اسی وجہ سے گوگل نے اس فیچر کو سرچ انجن کا حصہ بنایا ہے۔ اس سے ٹائپنگ کی شرح میں اوسطاً 25 فیصد کمی آئی ہے۔

14۔ گوگل میں متعدد گیمز اور ٹِرکس چھپے ہوئے ہیں۔ مثلاً: اگر آپ ٹیڑھا لکھ کر سرچ کریں تو سرچ پیج ہلکا سا ایک طرف جھک جاتا ہے۔ یا اگر آپ گوگل گریویٹی لکھ کر سرچ کریں تو سرچ انجن گراؤنڈ ایکٹیویٹ ہو کر اسکرین کے نیچے آ جاتا ہے۔

15۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ گوگل سرچ پیج پر موجود ‘میں خود کو خوش قسمت محسوس کر رہا ہوں۔’ بٹن کی وجہ سے کمپنی کو ہر سال کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے۔ کیونکہ اس پر کلک کرنے پر سرچ انجن تمام اشتہارات کو بائی پاس کر کے ٹاپ سرچز دکھاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے سرچ انجن میں برقرار رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ لگے کہ یہ کمپنی صرف پیسے کمانے کی خواہشمند ہے۔

16۔ ہمیں گوگل پر سرچ کرنا بہت آسان لگتا ہے۔ لیکن بیشتر لوگوں کو علم نہیں ہوتا کہ ہر سرچ کے لیے بہت زیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے۔ درحقیقت اس کے لیے استعمال ہونے والے ریسورسز کی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ ایک فرد کو چاند پر پہنچانے کے لیے بھی کافی ہوتی ہے۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس