Tuesday, September 29, 2026
پہلا صفحہخبریںوزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب، حرمین شریفین کو ریڈ لائن اور...

وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب، حرمین شریفین کو ریڈ لائن اور کشمیر کو شہ رگ قرار دے دیا

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون کے حملے کی کوشش نے دنیا کے تمام مسلمانوں میں شدید غم اور غصہ پیدا کیا۔ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، یہ ہمارے لئے ایک ریڈ لائن ہے۔ بھارت کو اب کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگ کا اعلان سمجھا جائے گا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے آغاز میں خلیل الرحمان کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے عالیشان ایوان سے چوتھی بار خطاب کرنا میرے لئے اعزاز ہے۔ انہوں نے متحرک قیادت کے لئے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خراج تحسین پیش کیا۔ انے لینا بائر بوک کی بہترین قیادت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کوششوں میں سے ایک ہے۔

شہبازشریف نے سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا ترجمہ سناتے ہوئے فرمایا کہ باری تعالیٰ نے فرمایا: ‘اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ’۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑا ہے، دنیا کے امن اور خوشحالی کے ساتھ ہے، سلامتی کونسل میں قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔ بدقسمتی سے فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ میں جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا، جنگ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا، جنگ سے آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آ گئے۔ اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا، اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لایا اور تاریخی پیشرفت حاصل کی۔ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لئے کئی تاریخی اقدامات کئے گئے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب خطے کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، فیلڈ مارشل کی کوششوں نے سفارتکاری کی گنجائش پیدا کی۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، سفارتکاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے۔

پاکستان سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ملک کی امن کوششوں پر ممنون ہے۔ افسوسناک طور پر امن دشمن کارروائیوں سے ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ میزائل، ڈرون اور بندوق کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہئے۔ عالمی معیشت کے مراکز آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے۔

پاکستان سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے۔ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حرمین شریفین پاکستان کے لئے ریڈ لائن ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن و استحکام کا ضامن ہے۔ تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں۔ دفاعی معاہدہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لئے پاکستان کا اجتماعی عزم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے سال پاکستان کو بھارت کی طرف سے بغیر وجہ کے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ فیلڈ مارشل کی ہمت اور قیادت میں ہماری فوج نے محنت، تجربے اور طاقت کے ساتھ جواب دیا۔ انہوں نے دشمن کو خاموش کردیا اور اسے ایک نہ بھولنے والا سبق سکھایا۔

شہباز شریف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قائدانہ صلاحیت اور واضح رائے کی بدولت ہی حالات کا حل نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ منصفانہ طور پر حل ہونا ضروری ہے۔ آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے وعدوں کو پورا کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن یہ فیصلہ غیر قانونی ہے۔ اقوام متحدہ اور ثالثی عدالت نے بھی اسے مسترد کر دیا ہے۔ پانی کو ہتھیار بنایا نہیں جا سکتا۔ اگر پاکستان پانی کو روکنے یا موڑنے کی کوشش کرے تو یہ اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں پیدا ہونے والے بچے کو بھی دنیا کے کسی بھی بچے کی طرح زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اسرائیل کے تشدد کا مغربی کنارے تک پھیلنا بہت ناگوار ہے۔ فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے منصوبے کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، جس کا دار الحکومت قدس الشریف ہو۔

ہم لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ فلسطینی قومیں اپنی آزادی کے لیے جنگ لڑ رہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی اب عالمی امن اور سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان سب سے آگے رہا ہے۔ اس جنگ میں لگ بھگ ایک لاکھ لوگ اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان بھی ہوا ہے۔ اس جنگ میں ہماری فوج اور بہادر شہریوں نے بہت کچھ قربان کیا۔ آج دنیا میں امن بہت زیادہ ہے۔ دنیا پاکستان کی اس قربانی کو نہیں بھول سکتی۔ فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے افغانستان کے علاقے کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس