Sunday, September 20, 2026
پہلا صفحہتبصرےعورت راج: پاکستانی سینما کی وہ فلم جس نے 1979 میں مردانہ...

عورت راج: پاکستانی سینما کی وہ فلم جس نے 1979 میں مردانہ معاشرے کا الٹا آئینہ دکھا دیا

فلم: عورت راج
ریلیز: 13 جولائی 1979
زبان: اردو
ہدایت کار: رنگیلا
پروڈیوسر: رنگیلا

نمایاں کاسٹ: رانی، وحید مراد، سلطان راہی، رنگیلا، نغمہ، چکوری، ننھا، شہلا گل، بدر منیر، عثمان پیرزادہ اور دیگر
صنف: کامیڈی، ڈراما، فینٹسی، سماجی طنز

پاکستانی فلمی تاریخ میں کچھ فلمیں صرف اپنے وقت کی تفریح نہیں ہوتیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ عورت راج (1979) بھی ایسی ہی ایک غیر معمولی فلم ہے۔ بظاہر یہ ایک مزاحیہ اور فینٹسی فلم تھی، لیکن اس کے پردے کے پیچھے پاکستانی معاشرے، مرد و عورت کے تعلق، سیاسی طاقت، سماجی ناانصافی اور صنفی رویوں پر ایک گہرا طنز موجود تھا۔ فلم کو آج پاکستانی سینما کی ابتدائی نسوانی یا نسوانیت پسند فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رنگیلا کا منفرد تجربہ

عورت راج کے ہدایت کار، پروڈیوسر اور اداکار رنگیلا تھے۔ فلم 13 جولائی 1979 کو پاکستان میں ریلیز ہوئی اور اردو زبان میں بنائی گئی۔ اس میں اپنے زمانے کے کئی بڑے فنکار شامل تھے، جن میں رانی، وحید مراد، سلطان راہی، رنگیلا، نغمہ، چکوری، خانم، ننھا، بدر منیر اور دیگر فنکار شامل تھے۔

رنگیلا بنیادی طور پر اپنے مزاحیہ کرداروں کے لیے شہرت رکھتے تھے، لیکن عورت راج میں انہوں نے مزاح کو محض ہنسانے کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اسے معاشرتی طنز کا ذریعہ بنایا۔

کہانی کا بنیادی خیال کیا تھا؟

فلم کی کہانی ایک ایسے معاشرے کا تصور پیش کرتی ہے جہاں خواتین مسلسل ظلم، ناانصافی اور مردانہ بالادستی کا سامنا کرتے کرتے بالآخر منظم ہو جاتی ہیں۔

خواتین سڑکوں پر نکلتی ہیں، احتجاج کرتی ہیں اور ایک ایسی تحریک تشکیل پاتی ہے جو بالآخر انہیں سیاسی طاقت تک لے جاتی ہے۔ یوں فلم میں ایک ایسا خیالی معاشرہ سامنے آتا ہے جہاں اقتدار کا توازن مردوں سے خواتین کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔

لیکن فلم کا سب سے دلچسپ اور طنزیہ حصہ اس وقت سامنے آتا ہے جب مردوں کو بھی وہی صورتحال محسوس کروائی جاتی ہے جس کا سامنا خواتین کرتی رہی ہیں۔

یعنی فلم محض یہ نہیں کہتی کہ عورت کو طاقت ملنی چاہیے، بلکہ ایک تخیلاتی دنیا بنا کر سوال کرتی ہے:

اگر طاقت کا پورا نظام تبدیل ہوجائے اور مرد اسی مقام پر کھڑے ہوں جہاں عورت صدیوں سے کھڑی رہی ہے تو معاشرہ کیسا ہوگا؟

یہی خیال عورت راج کو عام کامیڈی سے مختلف بناتا ہے۔

شوکت تھانوی کی کہانی سے فلم تک

فلم کا بنیادی خیال معروف ادیب شوکت تھانوی کی ایک مختصر کہانی سے متاثر تھا۔ روایت کے مطابق رنگیلا کو یہ کہانی سنائی گئی اور انہوں نے اسی تصور کو فلمی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔

رنگیلا نے اس بنیادی خیال کو براہِ راست سنجیدہ ڈرامے میں تبدیل کرنے کے بجائے مزاح، گیت، رقص، فینٹسی اور فلمی مبالغے کا سہارا لیا۔

یہی وجہ ہے کہ عورت راج کو ایک ہی وقت میں کامیڈی، سماجی طنز اور فینٹسی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

رانی اور وحید مراد کی جوڑی

فلم کی سب سے بڑی کشش رانی اور وحید مراد کی موجودگی تھی۔

رانی پاکستانی سینما کی مقبول ترین ہیروئنز میں شمار ہوتی تھیں اور 1979 بھی ان کے فلمی کیریئر کا ایک اہم سال تھا۔ اسی سال ان کی عورت راج کے علاوہ دیگر فلمیں بھی ریلیز ہوئیں۔

دوسری جانب وحید مراد پاکستانی فلمی رومانس کے بڑے ستاروں میں سے تھے۔ عورت راج میں ان کی موجودگی فلم کے طنزیہ اور مزاحیہ ماحول کو ایک دلچسپ فلمی اسٹار پاور فراہم کرتی تھی۔

سلطان راہی بھی فلم کا حصہ تھے

آج جب پاکستانی سینما کی تاریخ میں 1979 کا ذکر آتا ہے تو اسی سال ریلیز ہونے والی مولاجٹ اور سلطان راہی کا نام لازماً سامنے آتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سلطان راہی عورت راج میں بھی موجود تھے۔ یعنی ایک ہی سال میں وہ پاکستانی سینما کے ایک انتہائی طاقتور ایکشن کلچر کی نمائندگی کرنے والی فلم مولاجٹ کا حصہ بھی تھے اور دوسری طرف ایک ایسی طنزیہ فلم میں بھی نظر آئے جو صنفی طاقت کے الٹ پھیر کو موضوع بناتی تھی۔

یہ اتفاق پاکستانی سینما کے اُس دور کی حیرت انگیز وسعت کو ظاہر کرتا ہے، جب ایک ہی فلمی صنعت میں ایک طرف دیہی ایکشن اور گنڈاسا کلچر کی فلمیں بن رہی تھیں اور دوسری طرف عورت راج جیسی تجرباتی فلم بھی وجود میں آ رہی تھی۔

ضیا دور اور عورت راج

عورت راج کو سمجھنے کے لیے 1979 کا سیاسی اور سماجی ماحول بھی اہم ہے۔

یہ وہ دور تھا جب جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت تھی اور پاکستان میں سماجی و سیاسی سطح پر قدامت پسند پالیسیوں اور ضابطوں کا اثر بڑھ رہا تھا۔ اسی پس منظر میں خواتین کے حقوق اور معاشرتی کردار پر مبنی ایسی فلم کا بننا اپنے آپ میں غیر معمولی بات تھی۔ مختلف تحریروں میں فلم کو اسی دور کے سیاسی و سماجی ماحول کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ فلم کو آج کے معیار سے دیکھنے کے بجائے اس کے 1979 کے تاریخی تناظر میں دیکھنا زیادہ معنی خیز ہے۔

فلم کا سب سے بڑا طنزیہ وار

فلم کی اصل طاقت اس کے کرداروں کا تبادلہ یعنی کرداروں اور طاقت کے رشتوں کو الٹ دینے میں تھی۔

عام معاشرے میں عورت کو کمزور، محتاج یا مرد کی ماتحت حیثیت میں دکھانے کے بجائے فلم نے تصور کیا کہ اگر یہی نظام مکمل طور پر الٹ جائے تو کیا ہوگا۔

اس تخیلاتی دنیا میں خواتین اقتدار حاصل کرتی ہیں اور مردوں کو وہ تجربات کروائے جاتے ہیں جنہیں فلم عورتوں کی زندگی سے جوڑتی ہے۔

کامیڈی کے پیچھے سنجیدہ سوالات

فلم کا انداز سنجیدہ سیاسی تقریر والا نہیں تھا۔

رنگیلا نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز، فینٹسی، گیت اور مبالغہ آمیز حالات کے ذریعے ناظرین کو ہنساتے ہوئے سوال اٹھایا۔

یہی اس فلم کا دلچسپ پہلو ہے۔

ایک طرف ناظرین کو کامیڈی ملتی ہے، دوسری طرف فلم مسلسل یہ سوال کرتی ہے کہ:

معاشرے میں طاقت کس کے پاس ہے؟

عورت کے لیے بنائے گئے سماجی اصول کیا ہیں؟

کیا مرد اور عورت کے لیے ایک جیسے پیمانے استعمال ہوتے ہیں؟

سیاسی طاقت ملنے کے بعد کیا عورت بھی وہی غلطیاں دہرائے گی؟

اور اگر طاقت کا نظام صرف ہاتھ بدل لے تو کیا واقعی معاشرہ تبدیل ہوجاتا ہے؟

اسی وجہ سے عورت راج کو صرف “عورتوں کے اقتدار” کی فلم سمجھنا اس کے طنزیہ پہلو کو محدود کر دیتا ہے۔

کیا فلم باکس آفس پر ناکام تھی؟

کچھ ذرائع اسے اپنے وقت سے آگے ہونے کی وجہ سے تجارتی طور پر کم کامیاب قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے فلمی ریکارڈز اسے Silver Jubilee قرار دیتے ہیں اور 45 ہفتے سینما گھروں میں چلنے کا ذکر کرتے ہیں۔ فلم کی تجارتی حیثیت کے بارے میں ذرائع یکساں نہیں ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حیثیت ایک cult classic اور پاکستانی فلمی تاریخ کے منفرد تجربے کے طور پر مضبوط ہوئی۔

ایک فلم جو اپنے وقت سے آگے تھی

آج جب دنیا بھر میں فلمیں صنفی مساوات، نسائیت اور سرپرستی پر مبنی ڈھانچے جیسے موضوعات پر بن رہی ہیں تو عورت راج کو دوبارہ دیکھنے پر حیرت ہوتی ہے کہ 1979 میں پاکستانی سینما نے اتنا غیر روایتی خیال پردے پر پیش کیا تھا۔

فلم ہر اعتبار سے جدید نسوانیت پسند سنیما جیسی نہیں تھی۔ اس میں مزاح، مبالغہ، فینٹسی اور اُس زمانے کی فلمی زبان شامل تھی۔ لیکن اس کے بنیادی سوالات آج بھی قابلِ بحث ہیں۔

یہی کسی فلم کی اصل تاریخی اہمیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں ایسا سوال اٹھا دے جس پر کئی دہائیوں بعد بھی گفتگو جاری رہے۔

پاکستانی سینما میں عورت راج کی اہمیت

پاکستانی فلمی تاریخ میں عورت راج کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں بنی جب فلمی صنعت مختلف النوع موضوعات آزما رہی تھی۔

1979 میں ایک طرف مولاجٹ جیسی پنجابی ایکشن فلم نے پاکستانی سینما کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی، دوسری طرف عورت راج نے کامیڈی اور فینٹسی کے ذریعے معاشرتی اور صنفی طاقت کے تعلق پر سوال اٹھایا۔

آج عورت راج کو صرف ایک پرانی فلم کے طور پر دیکھنا شاید اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔

یہ پاکستانی سینما کے اس دور کی دستاویز ہے جب ایک فلم ساز نے مزاح کو ہتھیار بنا کر معاشرے کے طاقتور رویوں کا مذاق اڑانے اور انہیں الٹ کر دکھانے کی کوشش کی۔

اور شاید اسی لیے، کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود، عورت راج کا نام پاکستانی فلمی تاریخ میں اب بھی ایک منفرد تجربے کے طور پر زندہ ہے۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس