Friday, September 4, 2026
پہلا صفحہثقافتبوبی دیول کی فلم بندر، دیکھی جائے یا نہیں؟

بوبی دیول کی فلم بندر، دیکھی جائے یا نہیں؟

کچھ فلمیں دیکھی جاتی ہیں، کچھ فلمیں برداشت کی جاتی ہیں، اور کچھ فلمیں اختتام کے بعد بھی ذہن میں شور مچاتی رہتی ہیں۔

انوراگ کشیپ کی بندر، میرے لیے تیسری قسم کی فلم ہے۔

یہ ایک ایسی فلم ہے جو جیل کو صرف چار دیواری، سلاخوں، قیدیوں اور پولیس کی دنیا کے طور پر نہیں دکھاتی بلکہ اسے ایک ایسے نظام کے طور پر پیش کرتی ہے جو انسان کو اندر سے قید کرتا ہے۔ لیکن اس فلم کے بارے میں میری سب سے بڑی رائے، اور شاید سب سے متنازع رائے بھی یہی ہے۔

بندر، بوبی دیول کی فلم ہے

جی ہاں، فلم میں ثانیہ ملہوترا، سپنا پبی جیسے بہترین معاون اداکار موجود ہیں، کئی دیگر کردار اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جب فلم ختم ہوتی ہے تو آپ کو سب سے زیادہ جو چہرہ یاد رہ جاتا ہے، وہ بوبی دیول کا ہے۔ اور یہی اس فلم کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

انوراگ کشیپ کو صرف فلمیں بنانے والا ڈائریکٹر کہنا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ وہ بولی وڈ کے ان فلم میکرز میں ہیں جنہوں نے بار بار یہ ثابت کیا کہ انہیں ’’اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ کرداروں کی روایتی تقسیم میں کوئی دلچسپی نہیں۔

گینگز آف واسع پور، اگلی، گلال، بلیک فرائیڈے، دیو ڈی، میں ایک چیز مشترک تھی، ’’انسان‘‘ وہ انسان جو اچھا بھی ہے، برا بھی ہے، مجبور بھی ہے، خود غرض بھی ہے اور کبھی کبھی اپنی ہی حرکتوں کا شکار بھی۔

بندر، میں بھی کشیپ اسی گندے، پیچیدہ اور اخلاقی طور پر غیر آرام دہ موضوع کو چھیڑتے نظر آتے ہیں۔

یہاں وہ ناظر کو آرام سے بیٹھ کر فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ سوال پھینکتے ہیں اور پھر آپ کو اس سوال کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

سچ کیا ہے؟ جرم کیا ہے؟ سزا کس کی ہے؟ اور جب نظام خود غلطی کرے تو اس غلطی کی سزا کون بھگتتا ہے؟ یہی انوراگ کشیپ کا سنیما ہے۔

وہ جواب دینے سے زیادہ زخم کھولنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جیل کے موضوع پر بات ہو تو مدھر بھنڈارکر کی معتبر فلم جیل، کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

2009 کی ریلیز جیل، میں مدھر نے عدالتی نظام، قیدیوں کی بے بسی، اندرونی ماحول اور جیل کے اندر طاقت کے کھیل کو ایک خاص انداز میں سامنے رکھا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس موضوع پر اب کہنے کو شاید کچھ باقی نہیں۔

یکن بندر، کی خوبی یہی ہے کہ اس میں جیل کو ایک دوسرے زاویے سے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہاں جیل صرف وہ جگہ نہیں جہاں قیدی بند ہیں۔ اصل جیل انسان کے ذہن میں ہے۔

اور یہی زاویہ بندر، کو محض ایک اور جیل کا ڈرامہ بننے سے بچاتا ہے۔ یہ فلم قید کو جسمانی آزادی سے آگے لے جاتی ہے۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں انوراگ کشیپ کی فلم دلچسپ بھی بنتی ہے اور بے آرام بھی۔

سچ کہوں تو بندر، دیکھتے ہوئے کئی مرتبہ مجھے یہ خیال آیا، کیا یہی وہ بوبی دیول ہے جسے فلم میکرز نے پہلے پپو ہیرو اور پھر اینیمل جیسے خونخوار ایکشن کرداروں تک محدود کردیا تھا؟ اینیمل، میں بوبی دیول نے چند منٹوں میں ایسا اثر پیدا کیا کہ فلم کے مرکزی کردار سے زیادہ اس کے کردار کے بارے میں بات ہوئی۔

لیکن اینیمل، کے بعد اصل سوال تھا، کیا بوبی دیول واقعی ایک سنجیدہ اداکار کے طور پر خود کو دوبارہ ثابت کرسکتے ہیں؟ بندر، اس کا جواب ہے۔ اس فلم کے بعد بوبی دیول محض ’’اسٹار‘‘ نہیں رہا۔ اداکار تسلیم کرلیا گیا ہے۔

یہاں وہ ایک اینیمل نہیں بلکہ ایسا انسان ہے جو حالات کے ہاتھوں آہستہ آہستہ اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ اور سب سے حیران کن بات؟ اس ٹوٹنے کو اس نے چیخ چیخ کر نہیں دکھایا۔ ہم پچھلے چند سالوں سے ’’بوبی دیول کا کم بیک‘‘ سنتے آئے ہیں۔

مگر شاید اب اس اصطلاح کو تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ یہ کم بیک نہیں، تبدیلی ہے۔ انوراگ نے بوبی دیول سے جو کام لیا، وہ شاید اب تک بوبی کے کیریئر کا سب سے بہترین کام ہے۔ ایک اداکار کی صلاحیت صرف اداکار کی نہیں ہوتی، کبھی کبھی ڈائریکٹر اسے دریافت کرتا ہے۔

بوبی دیول کے اندر یہ اداکار پہلے بھی موجود تھا، مگر بندر، میں انوراگ کشیپ نے اسے کھود کر باہر نکالا ہے۔ انوراگ نے بوبی کے اسٹار امیج کو استعمال نہیں کیا۔ بلکہ اسے توڑا ہے۔ میری رائے میں یہ فلم بوبی دیول کی ہے، باقی سب اس کے اردگرد ہیں۔

فلم کی کہانی ایسی نہیں کہ آپ اس کے بنیادی خیال کو سمجھنے میں دماغ کھپاتے رہیں۔ اصل طاقت اس بات میں ہے کہ اس سادہ سے مقدمہ کو فلم کس طرح پیچیدہ بناتی ہے۔ کہانی آگے بڑھتی ہے تو سوال بھی بدلتے رہتے ہیں۔

آپ کسی دوسرے کو مجرم سمجھتے ہیں، پھر سوچتے ہیں شاید وہ بھی کسی مصلحت کا شکار ہے۔ یہ اخلاقی دھند بندر، کو عام سنسنی خیز سے بہتر بناتی ہے۔ اور یہی انوراگ کشیپ کا سنیما ہے۔ وہ ناظر کو اخلاقی تسلی نہیں دیتا۔ آپ ایک کردار کو دیکھ کر ہمدردی محسوس کرتے ہیں، پھر اسی کردار کے بارے میں شک پیدا ہوتا ہے۔

لیکن کیا فلم ماسٹر پیس ہے؟

نہیں۔ کچھ مقامات پر اسکرین پلے اپنی بات کو زیادہ دیر تک کھینچتا محسوس ہوتا ہے۔ دوسرے حصے میں فلم کبھی کبھی اپنے ہی سوالات کے گرد گھومتی ہے۔ کچھ سپورٹنگ کیریکٹرز کو شاید مزید گہرائی دی جاسکتی تھی۔

اور سب سے بڑھ کر، فلم جس حساس اخلاقی اور سماجی بحث کو چھیڑتی ہے، اسے مزید متوازن اور پیچیدہ بنایا جاسکتا تھا۔ لیکن یہ خامیاں فلم کے بنیادی اثر کو ختم نہیں کرتیں۔ کیونکہ اچھی فلم ہمیشہ بے عیب نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اچھی فلم وہ ہوتی ہے جو آپ کو بے چین کرکے چھوڑ دے۔

اور بندر، یہ کام بہت اچھی طرح کرتی ہے۔ اگر جیل، کو مدھر بھنڈارکر کی نظر سے دیکھیں تو وہاں جیل ایک تلخ حقیقت تھی۔ بندر، میں جیل زیادہ نفسیاتی حقیقت بن جاتی ہے۔ جیل، آپ کو دکھاتی ہے کہ جیل میں کیا ہوتا ہے۔

بندر، کا فوکس یہ ہے کہ جیل انسان کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ یہ دونوں فلموں کے نقطۂ نظر کا بنیادی فرق ہے۔ اسی لیے بندر، کو جیل کی تکرار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔یہ اسی موضوع کی ایک نئی تشریح ہے۔

عمرخطاب خان

عمر خطاب خان سینئر جرنلسٹ ہیں۔ کئی صحافتی اداروں میں بطور مدیر خدمات سرانجام دیں۔ گزشتہ پچیس برس سے فلم جرنلزم سے وابستہ ہیں۔ کئی سالوں سے فلم سینسر بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس