Thursday, August 20, 2026
پہلا صفحہخبریںسپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی نورین نیازی سے ملاقات...

سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی نورین نیازی سے ملاقات کرا دی گئی

راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی سے ملاقات کرائی گئی۔ آج سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کی اجازت دی تھی۔

عمران خان سے ملاقات کے لیے علیمہ خان اور نورین خان اڈیالہ جیل گئے۔ نورین نیازی جیل کے اندر گئیں جہاں ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔

عمران خان اور اور نورین نیازی کی کانفرنس روم میں ملاقات کرادی گئی۔ ملاقات میں دونوں بہن بھائی نے صحت اور دیگر امور پر گفتگو کی۔

جیل ذرائع کے مطابق نورین نیازی نے عمران خان کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔

نورین نیازی کی ملاقات کے بعد انہوں نے علیمہ خان اور عظمی خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کی۔

علیمہ خان نے کہا کہ ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی، آج نورین کی ملاقات ہو گئی یہ بونس ہے، ملاقات پر اتنی خوشی ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے، میں کہاں سے مٹھائی لاتی، سپریم کورٹ سے اے ٹی سی پنڈی پیش ہوئی۔نورین نیازی کی ملاقات کے بعد انہوں نے علیمہ خان اور عظمی خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کی۔

علیمہ خان نے کہا کہ ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی، آج نورین کی ملاقات ہو گئی یہ بونس ہے، ملاقات پر اتنی خوشی ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے، میں کہاں سے مٹھائی لاتی، سپریم کورٹ سے اے ٹی سی پنڈی پیش ہوئی۔

صحافی نے پوچھا کہ کیا حالات بدل رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں کہاں سے پتہ چلے کہ حالات بدل رہے ہیں۔ کیا آپ کی مراد یہ ملاقات ہے؟ ہاں، ملاقات ہوئی ہے اور اس سے بہت کچھ حاصل ہوا ہے، لیکن ہمیں ابھی تک کچھ غیر یقینی باتیں ہیں۔

ملاقات کے بعد، بانی کی تین بہنیں اڈیالہ جیل سے واپس چلی گئیں۔

عمران خان کی بشریٰ بی بی سے بھی ملاقات ہوگئی

عمران خان کو جیل میں بشری بی بی سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ ان کی ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی۔ اس ملاقات کے بعد عمران خان کو واپس جیل کے کمپاؤنڈ میں chuyển دیا گیا۔

علیمہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد اب عمران خان ہسپتال جائیں گے۔ ہم اسی کی کوشش آٹھ ماہ سے کر رہے تھے۔ علیمہ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے عمران خان اور بشری بی بی کو ضمانت دینے کی اپیل کی۔

علیمہ خان نے کہا کہ دونوں کو ضمانت ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات بہت کمزور ہیں۔ انہیں پہلے ہی ریلیف مل جانا چاہیے تھا۔ اگر انصاف ملے گا تو تنقید نہیں ہوگی۔ ماضی میں عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید کی وجہ یہ تھی کہ انصاف نہیں ملا۔

اپنے مقدمے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں ابھی ان کی جانب سے گواہ پر جرح ہونا باقی ہے۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس