اسرائیل نے مفاہمت یادداشت پر دستخط سے پہلے بیروت پر میزائل داغ دیے۔ اس حملے میں 3 لبنانی شہید ہو گئے اور 6 زخمی ہوئے۔
کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، انہوں نے حزب اللہ کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے بیروت پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیل نے کچھ دن پہلے امریکی صدر ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بیروت پر حملہ نہیں کرے گا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے اپنا وعدہ توڑ دیا ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں نے جنوبی لبنان میں کئی دیہات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان دیہات میں ریحان اور سجود شامل ہیں۔ ریحان میں ہونے والے ایک حملے میں میئر علی بادی شہید ہو گئے ہیں۔
اسرائیل نے گذشتہ ماہ دریائے زہرانی کے جنوب کے تمام علاقوں کو جنگی زون قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد سے، وہاں شدید حملے ہو رہے ہیں۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتا۔ بیروت پر اسرائیلی حملے نے امریکا کی نااہلی کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔
باقر قالیباف کے مطابق، اسرائیل کو سبز باغ دکھا کر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس پر عمل کرنا بھی چاہیے۔ اگر آپ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتے، تو بات چیت کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے اور آبنائے ہرمز کے کھول دیے جانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ معاہدہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔




