آل پاکستان انجمن تاجران اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے حکومت کی نئی فکسڈ ٹیکس سکیم کی بھرپور حمایت کی ہے۔ دونوں تنظیموں کے رہنماؤں نے اس سکیم کو تاجروں کے لیے ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔
آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ٹیکس سکیم پر مثبت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار حکومت کی معاشی ٹیم نے ایف بی آر سے نکل کر ایک آسان اور سادہ سکیم بنائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجروں کو پہلے ٹیکس فارم بھرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب پانچ زبانوں میں فارم بنائے گئے ہیں جو تاجروں کے لیے بہت удоб ہوں گے۔
اجمل بلوچ کے مطابق، تاجروں کو ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس دینا ہوگا، اور اس سکیم کے تحت گوشوارہ بھرنے والے کی دکان پر ایف بی آر کا نمائندہ نہیں جائے گا۔ انہوں نے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور معاشی ٹیم کی سرाहनا کی کہ انہوں نے تاجروں کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ایک مؤثر سکیم متعارف کرائی ہے۔
دوسری جانب، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چودھری نے فکسڈ اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 27 قسم کے ٹیکسز دینے کے باوجود ریٹیلر ٹیکس نیٹ میں نہیں تھا، لیکن اب چھوٹے تاجروں کیلئے ٹیکس گوشوارہ پر کرنا آسان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اداروں کے ساتھ کئی اجلاس ہوئے، اور ہم نے بارہا مطالبہ کیا کہ آسان اور سادہ ٹیکس گوشوارہ لایا جائے۔
کاشف چودھری کے مطابق، دکاندار سے 25 ہزار روپے ٹیکس لیا جائے گا، اور اب تمام چھوٹے تاجر گوشوارے جمع کرائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت طے شدہ ٹیکس نظام کے مطابق بجٹ میں اعلان کرے گی، اور اس طرح تاجروں کا حکومت پر اعتماد بڑھے گا۔



