واشنگٹن میں منعقد ہونے والے سالانہ وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے نے سیکیورٹی اور بین الاقوامی سطح پر ممکنہ روابط کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکام کے مطابق فائرنگ میں ملوث ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹوماس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ اس کی اہلیہ پریانکا راؤ کے بارے میں سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع میں اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پریانکا راؤ، جو بھارتی نژاد بتائی جاتی ہیں، کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے منسلک رہی ہیں۔ مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر اب بھی امریکہ میں رہتے ہوئے انڈر کور سرگرمیوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ان دعوؤں کی تاحال کسی بھی سرکاری یا مستند ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
پریانکا راؤ 31 سالہ خاتون ہیں جو بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر میں پیدا ہوئیں، جبکہ ان کے پاسپورٹ پر پہاڑگنج دہلی کا ایڈریس درج ہے۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور ملزم کے ذاتی، پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حساس معاملات میں قیاس آرائیوں سے گریز کرنا ضروری ہے، کیونکہ غیر مصدقہ اطلاعات سفارتی تناؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔
ادھر، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق بھی بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر وہ اس مبینہ سازش کا ہدف ہو سکتے تھے، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی بین الاقوامی ایجنسی یا ملک کو موردِ الزام ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ صرف داخلی سیکیورٹی کے لیے اہم ہیں بلکہ امریکہ کے بین الاقوامی تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکام نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ مصدقہ معلومات پر انحصار کریں اور غیر تصدیق شدہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔



