تفصیلات کے مطابق منگل کے روز یہ فلم سندھ فلم سینسرز بورڈکے سامنے پیش کی گئی لیکن بورڈ ممبران نے فلم کے متنازعہ مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں دی۔
اس حوالے سے سندھ بورڈ آف فلم سینسرز کے چیئرمین خالد بن شاہین نے واضح کیا کہ پاکستان میں کسی ایسی فلم کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو کہ اسلام یا پاکستان کی نظریاتی اساس کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ لوگ فلمیں تفریح کی غرض سے دیکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے حالیہ کچھ برسوں سے ہالی وڈ اور بولی وڈ سمیت دنیا کی دیگر فلم انڈسٹریز نے اسے پروپیگنڈہ کا ذریعہ بنالیا ہے جس سے فلم اور سنیما بینی کا اصل مقصد ختم ہوگیا ہے۔ خالد بن شاہین نے کہا کہ سندھ فلم سینسرز بورڈاپنی ذمے داریوں کو سمجھتا ہے اور ہم کسی ایسی فلم کی نمائش کی اجازت نہیں دے سکتے جس سے کسی بھی مذہب یا ملک کی تحقیر اور توہین کا پہلو نکلتا ہو۔



