Tuesday, October 20, 2026
پہلا صفحہتبصرےحیوان۔ جب اصل فلم کا سسپنس ری میک میں کھو جائے۔

حیوان۔ جب اصل فلم کا سسپنس ری میک میں کھو جائے۔

بعض فلمیں اپنی اسٹار کاسٹ، بڑے بجٹ اور دلچسپ کہانی کے باوجود ناظرین کو متاثر نہیں کر پاتیں۔ اکشے کمار اور سیف علی خان کی فلم حیوان، میرے لیے ایسی ہی ایک فلم ثابت ہوئی۔ فلم کا بنیادی خیال دلچسپ ہے، ہدایت کار تجربہ کار ہیں اور دونوں مرکزی اداکاروں کی موجودگی بھی توقعات بڑھاتی ہے، لیکن ان تمام خوبیوں کے باوجود فلم وہ سنسنی، جذباتی گرفت اور کہانی کی مضبوطی پیدا نہیں کر پاتی جس کی ایک اچھے تھرلرسے امید کی جاتی ہے۔

اس فلم کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ نئی کہانی نہیںبلکہ پریادرشن کی اپنی ہی کامیاب ملیالم فلم اوپم کا ہندی ری میک ہے اور مسئلہ صرف ری میک بنانے کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اصل فلم کے مؤثر عناصر کو ہندی میں منتقل کرتے ہوئے وہ تازگی اور حقیقت پسندی برقرار نہیں رہ سکی جو ایک اچھے سسپنس ڈرامے کے لیے ضروری ہے۔

اصل فلم میں موہن لال نے ایک نابینا لفٹ آپریٹر کا کردار ادا کیا تھا، جبکہ ہندی ورڑن میں یہی بنیادی کردار سیف علی خان نے نبھایا ہے۔ کہانی میں ایک خطرناک مجرم، ایک ریٹائرڈ جج اور ایک نابینا شخص کی غیر معمولی صلاحیتوں کے گرد سسپنس پیدا کرنے کی (ناکام) کوشش کی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کے کچھ بنیادی تصورات اور سسپنس کی جڑیں اس سے بھی پرانی تھرلر فلموں میں ملتی ہیں۔ ناقدین نے اپم، کے حوالے سے کیپ فیئر، ویٹ انٹل ڈارک، اور ہندی مووی قتل، جیسی فلموں سے مماثلتوں کا ذکر کیا ہے۔ تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حیوان، براہ راست ان تمام فلموں کی کاپی ہے۔

فلم کی کہانی شام رانے (سیف علی خان) کے گرد گھومتی ہے، جو نابینا ہونے کے باوجود غیر معمولی سماعت، سونگھنے اور چھونے کی حس رکھتا ہے۔ وہ ممبئی کی ایک بلند و بالا رہائشی عمارت میں مینٹیننس مینیجر ہے۔ اس کی زندگی اس وقت ایک خطرناک موڑ اختیار کرتی ہے جب ریٹائرڈ چیف جسٹس پردھان اور ان کے خاندان کا سامنا پرشورام گوکھلے (اکشے کمار) نامی ایک سفاک شخص سے ہوتا ہے۔

پرشورام اپنے ماضی سے جڑے لوگوں کے خلاف انتقام کی آگ میں جل رہا ہے، جبکہ شام ایک ایسی لڑکی کو محفوظ رکھنے اور قاتل کو روکنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے نشانے پر ہے۔ بظاہر یہ ایک مضبوط سسپنس تھرلر کا مواد ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پریا درشن اس خیال کو آڈیئنس تک اس کی روح کے مطابق پہنچانے میں کامیاب ہوئے؟ جواب ہے۔ بالکل بھی نہیں۔

میرے نزدیک فلم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ناظرین کو مسلسل معلومات تو دیتی ہے، مگر انہیں کہانی میں جذباتی طور پر شامل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

کسی بھی سسپنس تھرلر میں محض یہ جاننا کافی نہیں کہ قاتل کون ہے اور اگلا نشانہ کون بن سکتا ہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ناظرین ہر لمحے کرداروں کی سلامتی کے لیے فکر مند رہیں۔

فلم کا دورانیہ تقریباً 2 گھنٹے 45 منٹ ہے۔ اس طوالت میں کئی ایسے مقامات محسوس ہوتے ہیں جہاں کہانی کو زیادہ مختصر اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا تھا۔

رہی سہی کسر غیر ضروری گانوں نے پوری کردی جو کہ تھرلر کے تناؤ کو برقرار رکھنے کے بجائے کہانی کی رفتار توڑ دیتے ہیں۔ کئی ضمنی واقعات اور کردار بھی مرکزی تصادم سے توجہ ہٹاتے ہیں۔بعض مناظر میں خطرے کا احساس پیدا ہونے سے پہلے ہی فلم اسے مکالموں اور موسیقی کے ذریعے واضح کرنے لگتی ہے۔

ایک کامیاب تھرلر میں ہر منظر کو کہانی میں کوئی نہ کوئی اضافہ کرنا چاہیے، چاہے وہ کردار کی نفسیات ہو، خطرے میں اضافہ ہو یا کوئی نیا سراغ۔ حیوان، میں یہ ربط ہر جگہ یکساں مضبوط نہیں۔

سیف علی خان ایک تجربہ کار اداکار ہیں لیکن اس فلم میں ان کی کاسٹنگ اور کردار کی ادائیگی پر سوال اٹھتا ہے۔ ان کا کردار ایک عام نابینا شخص نہیں، بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ مسئلہ اس کی صلاحیتوں میں نہیں، بلکہ ان صلاحیتوں کو دکھانے کے انداز میں ہے۔

کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کردار اپنی سماعت اور دیگر حواس کے ذریعے ناممکن حد تک پیچیدہ مسائل حل کر لیتا ہے۔ ایک نابینا شخص کے غیر معمولی طور پر قابل ہونے اور اسے تقریباً ہر مسئلے کا ماہر بنا دینے میں فرق ہے۔ فلم اس فرق کو مؤثر طور پر قائم نہیں رکھتی۔ملیالم فلم میں موہن لال کی اداکاری اور حقیقت سے قریب تر ماحول کردار کو زیادہ قابلِ یقین بناتے تھے۔

میرے خیال میں سیف کی اداکاری سے زیادہ مسئلہ کردار نگاری اور ہدایت کاری کا ہے۔ اگر اس کردار کی جسمانی صلاحیتوں، کمزوریوں اور خطرات کو بہتر توازن کے ساتھ دکھایا جاتا تو ناظرین اس کے ساتھ زیادہ مضبوط تعلق محسوس کر سکتے تھے۔

اکشے کمار کے لیے پرشورام کا کردار اپنی روایتی ہیرو والی امیج سے باہر نکلنے کا اچھا موقع تھا۔ ان کے کردار میں انتقام، تشدد اور ذہنی بے چینی کے عناصر موجود ہیں، لیکن ایک مؤثر ولن کے لیے صرف خوفناک چہرہ بنانا یا غصے کا اظہار کافی نہیں ہوتا۔

ایک اچھا ولن اپنی خاموشی، غیر متوقع فیصلوں اور نفسیاتی دباؤ سے بھی ناظرین کو بے چین کر سکتا ہے۔ حیوان، میں بعض مقامات پر اکشے کی اداکاری اتنی مبالغہ آمیز محسوس ہوتی ہے کہ خوف کے بجائے غیر ارادی مزاح پیدا ہونے لگتا ہے۔ فلم کے اختتامی تصادم پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔

پریادرشن میرے فیورٹ ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں لیکن حیوان، میں مسئلہ یہ ہے کہ سنجیدہ کرائم تھرلر، غیر ضروری مزاح اور روایتی بولی وڈ انداز ایک دوسرے کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو پائے۔

جب کہانی کو خوف پیدا کرنا چاہیے، وہاں بعض مزاحیہ مناظر آ جاتے ہیں؛ اور جب سسپنس تیز ہونا چاہیے، وہاں بیانیہ رک سا جاتا ہے۔ اس طرح فلم کی مجموعی فضا غیر مستقل ہو جاتی ہے۔

اصل فلم اوپم کے مقابلے میں ہندی ورژن کا بنیادی چیلنج یہ تھا کہ اسے محض کہانی دوبارہ سنانے کے بجائے نئے سامعین کے لیے زیادہ مؤثر بنانا چاہیے تھا۔ لیکن اس ری میک میں اصل فلم کے واقعات اور کمزوریوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔

تکنیکی شعبوں میں فلم مکمل طور پر ناکام نہیں۔ سنیماٹوگرافی قابلِ دید ہے لیکن خوب صورت فریم کمزور بیانیے کا متبادل نہیں بنتے۔پروڈکشن ڈیزائن میں محنت نظر آتی ہے۔ تاہم اسکرین پلے، بیک گراؤنڈ میوزک، سونگس اور ایڈیٹنگ میں بہتری کی گنجائش تھی۔ فلم کا کمزور کلائمکس بھی ناکامی کی ایک وجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

میرے نزدیک اس فلم کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ فلم ایک مضبوط کہانی کے باوجود اس کے امکانات سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھاتی۔ سیف علی خان کا کردار بعض اوقات ضرورت سے زیادہ غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ اکشے کمار ایک خطرناک ولن ہونے کے باوجود اسکرین پر خوف پیدا نہیں کرپاتا، اور طویل دورانیہ سسپنس کی شدت کو مسلسل برقرار نہیں رہنے دیتا۔

اگر میں اس فلم کو مختصر انداز میں بیان کروں تو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ یہ ایک ایسی فلم ہے جس کے پاس کہانی موجود ہے، بڑے اداکار موجود ہیں اور تجربہ کار ہدایت کار بھی، مگر ان سب کو ایک یادگار تھرلر میں بدلنے کے لیے گرفت موجود نہیں۔

سچ پوچھیں تو مجھے پریا درشن نے شدید مایوس کیا ہے۔ اس نے نہ اصل فلم کے سسپنس کو نئی بلندی دی، نہ کرداروں کو زیادہ گہرائی دی اور نہ ہی کوئی ایسا نیا زاویہ پیش کیا جو اسے اوپم سے الگ شناخت دے سکے۔

اگر آپ نے ابھی تک اوپم نہیں دیکھی تو میری رائے میں پہلے اصل فلم دیکھنا زیادہ بہتر انتخاب ہوگا۔

عمرخطاب خان

عمر خطاب خان سینئر جرنلسٹ ہیں۔ کئی صحافتی اداروں میں بطور مدیر خدمات سرانجام دیں۔ گزشتہ پچیس برس سے فلم جرنلزم سے وابستہ ہیں۔ کئی سالوں سے فلم سینسر بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس