ایک خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ یہ خاتون عراق کے شہر اربیل میں کھیلے گئے فٹبال میچ کے دوران اسٹیڈیم میں بیٹھی نظر آتی ہے۔
کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی مسکراہٹ نے لوگوں کو کنفیوز کر دیا ہے۔ میچ کے کمنٹیٹر بھی اس کی سادگی پر خاموش نہ رہ سکے اور اسے دنیا کی بہترین خوبصورتی قرار دیا۔
لوگ اس خاتون پر فریفتہ ہو گئے ہیں اور ہر کوئی ان کے حسن کی تعریف کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر تبصروں کا سیلاب آ گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلم خواتین ہمیشہ سے دنیا کی خوبصورت ترین خواتین رہی ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خاتون عیسائی تھی اور اس نے اسلام قبول کیا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خاتون آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا کمال ہے۔
ایک صارف نے ایلون مسک کے ٹول ’گروک‘ سے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہیں۔ گروک نے بتایا کہ یہ خاتون عراق کی ایک عام فین ہیں۔
تاہم، ایک فیکٹ چیکر نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک اور ویڈیو شیئر کی ہے جس میں یہ خاتون انڈین پریمئر لیگ کے ایک میچ میں نظر آتی ہے۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خاتون اے آئی جنریٹڈ ہے۔ ایک اور ویڈیو میں یہ خاتون خود کہتی ہے کہ وہ اے آئی کریکٹر ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر وائرل مواد پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا، ہمیشہ مستند نیوز ایجنسیز اور فیکٹ چیکنگ اداروں کی رپورٹس پر ہی بھروسہ کیا جانا چاہیے۔




