ایران کے صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے۔ وہ قیادت سے مل کر دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کریں گے۔
وزراء اور اعلیٰ حکام بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوگی۔
صدر چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سے بھی ملن گے۔ یہ ان کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔
دونوں فریق دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے۔ تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، اور علاقائی روابط پر بات چیت ہوگی۔
یہ دورہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ہو رہا ہے۔ یہ دورہ خطے میں امن و استحکام اور پائیدار ترقی کی خواہش کا عکاس ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان پاکستانی ثالثی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔ دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون، اور اعلیٰ سطح کے رابطوں پر بات چیت ہوگی۔
ملاقاتوں میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ خطے کی مجموعی صورتحال، باہمی تعاون، اور مشترکہ مفادات کے امور بھی زیر غور آئیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔ یہ بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس بات چیت میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں نے حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت کے دوران اعلی سطح کی کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ یہ کمیٹی سیاسی نگرانی اور مزید تکنیکی مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ امریکا اور ایران کی قیادت کی جانب سے تعمیری بات چیت کے عزم کی ستائش کرتے ہیں۔ وہ تمام برادر اور دوست ممالک کی حمایت کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس تاریخی عمل کو آگے بڑھانے میں ساتھ دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ برادر ملک قطر کے شکرگزار ہیں۔ قطر نے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار حالات کے لیے تعاون کیا ہے۔ انہوں نے سوئس حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے مذاکرات کی میزبانی میں سہولت فراہم کی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکرگزار ہیں۔ عاصم منیر کی انتھک کوششوں سے یہ مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کی لگن، عزم اور استقامت واقعی قابل ستائش ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی بھی ستائش کی ہے۔ انہوں نے سفارتی کوششوں پر دل کی گہرائیوں سے تعریف اور شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی بھی محنت کو سراہا ہے جو ان مذاکرات کی کامیابی میں بھرپور تعاون کر رہے تھے۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کو پرامن اور دیرپا حل کی جانب آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔




