Friday, September 4, 2026
پہلا صفحہثقافتایک شخص اور اس کا فیصلہ جس نے بھارت کو معاشی تباہی...

ایک شخص اور اس کا فیصلہ جس نے بھارت کو معاشی تباہی کے دہانے سے واپس کھینچ لیا

آج جس بھارت کو دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے، ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب انڈیا بین الاقوامی ادائیگیوں میں ڈیفالٹ اور معاشی دیوالیہ پن کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا۔

1990 کے اختتام اور 1991 کے آغاز میں بھارت شدید توازنِ ادائیگیوں کے بحران کا شکار تھا۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے تھے اور ملک کے پاس ضروری درآمدات کے لیے بھی چند ہفتوں کا زرمبادلہ باقی رہ گیا تھا۔ عالمی قرض دہندگان کا اعتماد متزلزل ہو چکا تھا، بیرونی قرضوں کی ادائیگی ایک سنگین مسئلہ بن گئی تھی اور بھارت کے لیے بیرونِ ملک سے مختصر مدت کی مالی سہولت حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

اس بحران کے پیچھے کئی عوامل تھے۔ 1980 کی دہائی کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے، قرضوں پر انحصار، کمزور برآمدات اور سخت سرکاری کنٹرول والی معیشت پہلے ہی مسائل پیدا کر رہی تھی۔ پھر 1990 کی خلیجی جنگ نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس سے بھارت کا درآمدی بل مزید بڑھ گیا۔ مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی ترسیلات بھی متاثر ہوئیں جبکہ ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔

اس نازک دور میں بھارت کے وزیر اعظم چندر شیکھر تھے جبکہ وزیر خزانہ یشونت سنہا تھے۔ اسی زمانے میں ایس وینکٹرامنن (S. Venkitaramanan) نے 22 دسمبر 1990 کو ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر کی ذمہ داری سنبھالی۔ خود آر بی آئی کے ریکارڈ کے مطابق ان کے دور میں ملک کو بیرونی شعبے کے شدید مسائل کا سامنا تھا اور ان کی انتظامی صلاحیت نے بھارت کو توازنِ ادائیگیوں کے بحران سے نکلنے میں مدد دی۔ اسی دور میں آئی ایم ایف کا استحکام کا پروگرام، روپے کی قدر میں کمی اور اقتصادی اصلاحات کا عمل شروع ہوا۔

بحران اتنا سنگین تھا کہ بھارت کو اپنے سونے کے ذخائر گروی رکھ کر بیرونی مالی مدد حاصل کرنا پڑی۔ ایک ایسے ملک کے لیے جہاں سونا صرف دولت نہیں بلکہ قومی اور جذباتی علامت بھی سمجھا جاتا ہے، یہ فیصلہ انتہائی حساس اور تکلیف دہ تھا۔ مگر حالات معمول کے فیصلوں سے نہیں سنبھلنے والے تھے۔

بعد میں پی وی نرسمہا راؤ وزیر اعظم بنے اور ڈاکٹر من موہن سنگھ نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے جولائی 1991 سے وہ وسیع معاشی اصلاحات متعارف کرائیں جنہوں نے بھارتی معیشت کا رخ بدل دیا۔ روپے کی قدر میں کمی، صنعتی لائسنسنگ میں نرمی، تجارت کے دروازے کھولنا، سرمایہ کاری کی پالیسیوں میں تبدیلی اور معیشت کی بتدریج لبرلائزیشن (آزاد کاری) اسی بڑے تاریخی موڑ کا حصہ تھے۔

اسی تاریخی پس منظر پر بنائی گئی ہے ایمازون پرائم کی فلم ’’گورنر‘‘

فلم میں منوج باجپائی نے آر بی آئی کے گورنر اے رمنن (A. Ramanan) کا کردار ادا کیا ہے، جو حقیقی شخصیت ایس وینکٹرامنن سے متاثر ہے۔ تاہم فلم اسے ایک ڈرامائی اور افسانوی رنگ میں ڈھالا ہوا انداز میں پیش کرتی ہے، اس لیے اسے مکمل تاریخی دستاویز نہیں بلکہ حقیقی واقعات سے متاثر ایک فلمی کہانی سمجھنا چاہیے۔

فلم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ دفاتر، فائلوں، بینکوں، مالیاتی فیصلوں اور بند کمروں میں بھی لڑی جاتی ہے۔ یہاں کوئی بندوق بردار ہیرو نہیں بلکہ ایک ایسا سرکاری افسر ہے جس کے ایک فیصلے سے پورے ملک کا معاشی مستقبل وابستہ ہے۔

منوج باجپائی نے اس کردار کو روایتی فلمی ہیرو بنانے کے بجائے ایک پرسکون، دباؤ برداشت کرنے والے اور ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے والے بیوروکریٹ کے طور پر پیش کیا ہے۔ ادا شرما، نوشاد محمد کنجو اور مدھو سمیت دیگر فنکار بھی کہانی کو سہارا دیتے ہیں۔ فلم کے ہدایت کار چنمے منڈلیکر ہیں۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ فلم پر یہ تنقید ہوئی ہے کہ اس میں ایک انتہائی پیچیدہ قومی معاشی بحران کو ایک فرد کو “واحد نجات دہندہ” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ بحران اور اس سے نکلنے کا عمل کئی سیاسی رہنماؤں، حکومتی اہلکاروں، آر بی آئی ٹیم اور بعد کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔ بعض ناقدین نے فلم کے سیاسی اور تاریخی نقطۂ نظر پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

میری نظر میں “گورنر” کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی ملک کی تاریخ صرف جنگوں اور سیاسی انقلابوں سے نہیں بنتی۔ کبھی کبھی ایک ملک کی قسمت کا فیصلہ کسی جنگی محاذ پر نہیں بلکہ ایک میز کے گرد بیٹھے چند لوگوں کے انتہائی مشکل فیصلوں سے ہوتا ہے۔

اگر آپ کو سیاسی، تاریخی اور معاشی بحرانوں پر مبنی فلمیں پسند ہیں تو گورنر، ضرور دیکھیں۔ یہ ایک اہم تاریخی دور کو عام ناظر کے لیے آسان بنانے کی کامیاب کوشش ہے۔ اگرچہ اسے مکمل اور غیر جانب دار تاریخ سمجھنے کے بجائے حقیقی واقعات سے متاثر ایک سنیما کی سطح پر تعبیر کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

یہ صرف ایک ریاستی بنک کے گورنر کی کہانی نہیں، بلکہ اس لمحے کی کہانی ہے جب ایک ملک معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا اور ہر فیصلہ تاریخ بدل سکتا تھا۔

یہ فلم آپ کو یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ قومیں کس طرح گر کر سنبھلا کرتی ہیں۔ 2022 میں پاکستان بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہوا لیکن پھر حکومتی کوششوں اور خدا کے فضل سے ہم اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ تب بھارتی میڈیا نے ہمیں آئی ایم ایف کے سامنے بھیک مانگنے کے طعنے دیے تھے لیکن یہ فلم انہیں ان کا ماضی یاد دلاتی ہے جب بھارت کو روسی اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود امریکا اور آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور نوبت سوئٹزر لینڈ و برطانیہ میں سونا گروی رکھنے تک آگئی تھی۔

عمرخطاب خان

عمر خطاب خان سینئر جرنلسٹ ہیں۔ کئی صحافتی اداروں میں بطور مدیر خدمات سرانجام دیں۔ گزشتہ پچیس برس سے فلم جرنلزم سے وابستہ ہیں۔ کئی سالوں سے فلم سینسر بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس