اکستان کے ”قومی ترانے“ کی ریکارڈنگ ریڈیو پاکستان کراچی کے اسٹوڈیوز میں ۱۳ اگست ۱۹۵۴ء سے پہلے ہی نجم آرا، کوکب جہاں، تنویر جہاں، شمیم بانو، فضل الٰہی، معشوق علی خان، محمد حسین مستری، بلند اقبال اور دائم حسین سمیت کچھ گلوکاروں کی آواز میں ہونے والی محنت اور لگن سے بھرپور اجتماعی ریکارڈنگ کی شکل میں مکمل کی جاچکی تھی۔
قومی ترانے کی اس اجتماعی ریکارڈنگ میں شریک گلوکاروں کی مجموعی تعداد بالعموم گیارہ بیان کی جاتی ہے۔ تاہم مختلف حوالوں میں ان ناموں کی فہرست قدرے مختلف بھی بیان ہوئی ہے؛ ایک فہرست میں احمد رشدی کا نام بھی ملتا ہے۔
اجتماعی گائیکی کی ریکارڈنگ اُس زمانے میں ایک کٹھن فنّی مرحلہ شمار ہوتی تھی۔ ۱۹۵۴ء میں آج کی طرح ہر آواز کو الگ مائیکروفون پر ریکارڈ کرنے، اُسے ایک علیحدہ صوتی پرت میں محفوظ رکھنے اور بعدازاں کمپیوٹر پر تمام آوازوں کو آمیزش کے ذریعے یکجا کرنے کی سہولت کا کوئی تصور تک موجود نہ تھا۔ کئی روز کی مشق کے بعد تمام فن کار ایک ساتھ مائیکروفون کے سامنے کھڑے ہوکر گاتے تھے اور آوازوں کا توازن بھی آلات کے بجائے گلوکاروں کو مائیکروفون سے آگے یا پیچھے کرکے قائم کیا جاتا تھا۔
نجم آرا نے اپنے ایک انٹرویو میں قومی ترانے کی ریکارڈنگ کا احوال سُناتے ہوئے بتایا کہ اُن کی آواز دوسروں سے نمایاں ہورہی تھی تو مہدی ظہیر اُنہیں بار بار مائیکروفون سے پیچھے ہٹنے کے لیے کہتے رہے۔ مہدی ظہیر نے ہی الفاظ، دُھن اور اجتماعی آوازوں کو ایک وحدت میں ڈھالنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا ۔ نجم آراء نے یہ بھی بتایا کہ حفیظ جالندھری بنفس نفیس گائیکی کی مشقوں کے دوران ریڈیو پاکستان کراچی کے سٹوڈیو میں موجود رہے ۔ (بحوالہ: نجم آرا کا انٹرویو، عرب نیوز، ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۴ء)۔
۱۹۵۴ء تک ریڈیو پاکستان کا قومی نشریاتی رابطہ قائم ہوچکا تھا، جس کی عملی شکل یہ تھی کہ کراچی سے مرکزی پروگرام شارٹ ویو پر نشر ہوتا اور دوسرے مراکز (لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ڈھاکا) اُسے پیشہ ورانہ مواصلاتی ریسیوروں پر وصول کرکے اپنے مقامی ٹرانسمیٹروں سے ریلے کرتے۔ بعض مراکز کو مخصوص طویل فاصلاتی ٹیلی فون لائنوں کے ذریعے بھی پروگرام فراہم کیے جاتے تھے۔
گو کہ قومی نشریاتی رابطے کا یہ طریقہ کار آج کے صاف، مسلسل اور فوری ڈیجیٹل رابطے جیسا نہیں تھا اور اِس طریقۂ ترسیل میں کبھی آواز مدھم پڑجاتی، کبھی شور اور ہَم شامل ہوجاتا اور کبھی کسی قریبی فریکوئنسی کی آواز مداخلت کرنے لگتی تھی ، تاہم پھر بھی ریڈیو پاکستان اِس طریقۂ نشریات کی بدولت ایک بڑی قومی قوت بن چکا تھا؛ ایک شہر سے اُٹھنے والی آواز چند لمحوں میں پورے ملک کی آواز بن جاتی تھی (بحوالہ: ”اے ہسٹری آف ریڈیو پاکستان“، ص ۱۴۷)۔
ریڈیو پاکستان کی ادارہ جاتی تاریخ کے مطابق قومی ترانہ ۱۳ اگست ۱۹۵۴ء کی رات “قومی نشریاتی رابطے “ کی اسی شکل میں ہی پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان کے کراچی ، لاہور ، راولپنڈی ، پشاور اور ڈھاکہ اسٹیشنوں سے بیک وقت نشر کیا گیا ۔ اور صرف یہی نہیں ، اِس کے بعد اسے ہر شام ہی قومی نشریاتی رابطے پر پیش کیا جانے لگا، تاکہ عوام اُس کے الفاظ اور آہنگ سے مانوس ہوسکیں۔
پاکستان اُس وقت باہمی دُوری پر واقع دو جغرافیائی حصّوں( مشرقی اور مغربی پاکستان) پر مشتمل تھا، مگر ریڈیو کی لہریں دونوں حصّوں کو ایک دُھن، ایک ترانے اور ایک قومی آواز میں سمیٹ رہی تھیں۔یہ حقیقی معنوں میں ایک کارنامہ تھا ،جسے ریڈیو پاکستان کے انجینئرز ہر رات سرانجام دے رہے تھے ۔
قومی ترانے کے وجود میں آنے کی کہانی بھی اُس کی پہلی نشریات جتنی دل چسپ ہے۔ (قارئین کی سہولت کے لیے اُسے مختلف مراحل کے عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے)
پہلا مرحلہ: دُھن کی تلاش
قیامِ پاکستان کے بعد وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات و نشریات نے قومی ترانے کے الفاظ اور دُھن کے لیے تجاویز طلب کیں۔ یہ تجاویز اخبارات کے اشتہارات کے ذریعے طلب کی گئیں۔ بہترین کلام اور بہترین دُھن کے لیے الگ الگ پانچ ہزار روپے کے انعامات مقرر کیے گئے۔ یہ رقم جنوبی افریقہ کے علاقے ٹرانسوال سے تعلق رکھنے والے ایک فراخ دل مسلمان، اے آر غنی، نے اپنی جیب سے دینے کی پیش کش کی تھی۔
یہ اُس زمانے کے حساب سے ایک خطیر رقم تھی ۔ ان دنوں سونے کی قیمت تقریبا ساٹھ روپے فی تولہ تھی اور یوں یہ انعامی رقم اسی (۸۰) تولے سونے کی قیمت کے برابر بنتی ہے ۔
دوسرا مرحلہ: قومی ترانہ کمیٹی کی تشکیل
دسمبر ۱۹۴۸ء میں سردار عبدالرب نشتر کی سربراہی میں “قومی ترانہ کمیٹی“ قائم ہوئی۔ عبد الستار پیرزادہ، چودھری نذیر احمد، راج کمار چکرورتی، حفیظ جالندھری، اے ڈی اظہر، زیڈ اے بخاری، جسیم الدین اور ایس ایم اکرام اُس کے ارکان میں شامل تھے۔ کمیٹی کا پہلا باقاعدہ اجلاس یکم مارچ ۱۹۴۹ء کو ہوا۔ اِس اجلاس میں ایک بنیادی فیصلہ کیا گیا کہ الفاظ سے پہلے دُھن منتخب ہوگی۔ کمیٹی ایسی دُھن چاہتی تھی جسے باقاعدہ موسیقائی علامات میں قلم بند کیا جاسکے، تاکہ دنیا کے مختلف بینڈ اُسے اپنی مرضی سے بدلنے کے بجائے ایک ہی اصل ترتیب میں بجائیں۔ ترانے کو ریاست کے نظریے کی ترجمانی بھی کرنی تھی اور مساوات، اُخوّت اور انسانی عظمت جیسی آفاقی اقدار کو بھی کماحقّہ اُجاگر کرنا تھا۔
تیسرا مرحلہ: احمد غلام علی چھاگلہ کی دُھن کی پہلی سرکاری پیشکش اور اس کی منظوری
مقابلے میں موصول ہونے والی کوئی دُھن کمیٹی کو مکمل طور پر مطمئن نہ کرسکی۔ کمیٹی نے دُھنوں کا جائزہ لینے والی ذیلی کمیٹی کے رکن احمد غلام علی چھاگلہ کو نئی دُھن مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی۔
احمد غلام علی چھاگلہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ممتاز موسیقار، موسیقی کے محقّق، ادیب اور صحافی تھے، جنہیں مشرقی اور مغربی موسیقی پر یکساں عبور حاصل تھا۔ اُنہوں نے رائل پاکستان نیوی کے براس بینڈ کی معاونت سے دُھن تیار کی۔ اُسے مختلف سازوں اور بیگ پائپ پر آزمایا گیا۔ مقصد واضح تھا: دُھن کی بنیاد مشرقی ہو، مگر دنیا کے مختلف فوجی اور غیر فوجی بینڈ اُسے اصل ساخت بگاڑے بغیر بجاسکیں۔ دُھن کا دورانیہ تقریباً ایک منٹ بیس سیکنڈ تھا۔ اُس کے پہلے حصّے میں تلک کامود، بلاول اور کوہیاری، جبکہ دوسرے حصّے میں پیلو اور دھن سری کے آہنگ سے استفادہ کیا گیا ۔
شاہِ ایران محمد رضا پہلوی یکم مارچ ۱۹۵۰ء کو پاکستان پہنچے تو کراچی میں پاکستان نیوی کے بینڈ نے یہی بے لفظ دُھن اُن کے استقبال میں بجائی۔ یہ اِس دُھن کی پہلی باقاعدہ سرکاری پیش کش تھی۔ مئی ۱۹۵۰ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان کے دورۂ امریکا کے موقع پر بھی اِسی دُھن نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ بعدازاں دُھن کو برطانیہ اور امریکا میں پیشہ ورانہ طور پر ریکارڈ کرایا گیا۔
قومی ترانہ کمیٹی نے چھاگلہ کی دُھن کو ۱۰ اگست ۱۹۵۰ء کو اُسے باقاعدہ منظور کرلیا ۔ بعض ثانوی حوالے ۲۱ اگست ۱۹۵۰ء کو حکومتی توثیق کی تاریخ قرار دیتے ہیں؛ بظاہر ۱۰ اگست کمیٹی کے فیصلے اور ۲۱ اگست سرکاری منظوری سے متعلق دو الگ تاریخیں ہیں۔
چوتھا مرحلہ : دُھن کیلئے موزوں الفاظ کی تلاش
دُھن تیار تھی، مگر اب اُسے ایسے الفاظ درکار تھے جو پہلے سے مقرّرہ لے، آہنگ، وقفوں اور دورانیے میں پوری طرح سما سکیں۔ دُھن کے گراموفون ریکارڈ ممتاز شُعرا کو بھیجے گئے۔ شاعروں کو اپنی پسند کی بحر میں آزادانہ قومی نغمہ نہیں لکھنا تھا؛ اُنہیں چھاگلہ کی پہلے سے مقرّر دُھن کے صوتی قالب میں الفاظ بٹھانے تھے۔ چار بنگالی شُعرا کو بھی خصوصی دعوت دی گئی، کیونکہ اُس وقت بنگالی پاکستان کی اکثریتی آبادی کی زبان تھی۔ قومی ترانہ کمیٹی کو کئی سو کلام موصول ہوئے۔ معروف روایت اُن کی تعداد ۷۲۳ بتاتی ہے، اگرچہ دستیاب کابینہ کارروائی میں اِس عدد کی آزادانہ تصدیق نہیں ملتی۔
۶ دسمبر ۱۹۵۰ء کو زیڈ اے بخاری کا کلام زیرِ غور آیا، مگر کمیٹی نے اُسے عام سامع کے لیے مشکل قرار دے کر مسترد کردیا۔ جنوری ۱۹۵۱ء میں حفیظ جالندھری سمیت متعدد شُعرا سے نئے کلام طلب کیے گئے۔ مارچ ۱۹۵۱ء میں کمیٹی نے حفیظ جالندھری اور حکیم احمد پاشا کے کلام حکومت کو پیش کیے۔ بعض مقبول روایات میں حکیم احمد شجاع کا نام آتا ہے، مگر کابینہ کی کارروائی پر مبنی تحقیق میں ”حکیم احمد پاشا“ درج ہے۔ ۵ دسمبر ۱۹۵۱ء کو مرکزی کابینہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ اُس نے مزید دُھنیں اور مزید کلام طلب کرلیے اور معاملہ تقریباً دو برس کے لیے سرد خانے میں چلا گیا۔
۲۹ دسمبر ۱۹۵۳ء کو فائل دوبارہ کھلی۔ چھاگلہ کی دُھن منظور ہوگئی، مگر حفیظ جالندھری کے فارسی آمیز کلام پر اعتراض اُٹھا۔ ایک عجیب سمجھوتا تجویز ہوا: پہلا بند زیڈ اے بخاری کے کلام سے لیا جائے اور باقی دو بند حفیظ جالندھری کے رکھے جائیں۔ حفیظ جالندھری ڈٹ گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر زیڈ اے بخاری اپنے کلام کا ایک شعر بھی چھاگلہ کی دُھن پر موزوں ثابت کردیں تو وہ شاعری ترک کردیں گے۔ اِس دوٹوک انکار نے پیوندکاری کا راستہ بند کردیا۔ اب فیصلہ پورے کلام کے حق یا مخالفت میں ہونا تھا۔
پانچواں مرحلہ: حفیظ جالندھری کے کلام کی منظوری
۴ اگست ۱۹۵۴ء کو مرکزی کابینہ نے حفیظ جالندھری کا مکمل کلام، بغیر کسی آمیزش کے، پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کرلیا۔ احمد غلام علی چھاگلہ یہ دن نہ دیکھ سکے؛ وہ ۱۹۵۳ء میں وفات پاچکے تھے۔ کاغذ پر قومی ترانہ مکمل تھا، مگر کاغذ پر درج الفاظ اور موسیقائی علامات خود قوم تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اُنہیں انسانی آواز، صوتی ترتیب، ریکارڈنگ اور ملک گیر نشریات درکار تھیں۔ یہ پوری ذمہ داری ریڈیو پاکستان نے سنبھالی۔
چھٹا مرحلہ: تحریر اور دُھن سے قومی آواز تک
ریڈیو پاکستان نے گلوکار جمع کیے، کئی روز مشقیں کرائیں، حفیظ جالندھری کے الفاظ کو چھاگلہ کی دُھن سے ہم آہنگ کیا، مہدی ظہیر کی نگرانی میں مختلف آوازوں کا توازن قائم کیا اور کراچی کے اسٹوڈیو میں قومی ترانے کی اجتماعی ریکارڈنگ مکمل کی۔ پھر ۱۳ اگست ۱۹۵۴ء کو اِسی ریکارڈنگ کو پہلی مرتبہ پاکستانی عوام تک پہنچایا۔ اِس کے بعد قومی ترانے کو ہر شام قومی نشریاتی رابطے پر چلایا گیا، تاکہ ملک کے دونوں حصّوں میں بسنے والے لوگ اُس کے الفاظ اور آہنگ سے مانوس ہوجائیں۔
قومی ترانے کی تشکیل میں ریڈیو پاکستان کا کردار کسی رسمی ستائش کا محتاج نہیں؛ حقائق خود اِس کردار کی گواہی دیتے ہیں۔ دُھن کے گراموفون ریکارڈ شُعرا تک پہنچانے میں نشریاتی ادارے کے وسائل کام آئے۔ منتخب کلام کو دُھن پر بٹھانے کے لیے ریڈیو کے موسیقار اور صداکار میدان میں اُترے۔ اجتماعی گائیکی کی مشقیں ریڈیو پاکستان نے کرائیں۔ ریکارڈنگ اُس کے کراچی اسٹوڈیو میں ہوئی۔ آوازوں کی فنّی ترتیب اُس کے پروڈیوسر مہدی ظہیر نے سنبھالی۔ پہلی نشریات اُسی کے ٹرانسمیٹر سے ہوئی۔ پھر اُسی کے قومی نشریاتی رابطے نے قومی ترانے کو کراچی کی فضا سے اُٹھاکر لاہور، پشاور، راولپنڈی اور ڈھاکا سمیت ملک کے مختلف علاقوں تک پہنچایا۔
شاعر نے الفاظ دیے، موسیقار نے دُھن بنائی اور گلوکاروں نے اُسے آواز دی؛ مگر اِن تینوں کو یکجا کرکے پوری قوم کی سماعت تک پہنچانے والا ادارہ ریڈیو پاکستان تھا۔
اِسی لیے ۱۳ اگست ۱۹۵۴ء کی رات ریڈیو پاکستان سے صرف ایک ترانہ نشر نہیں ہوا تھا؛ پاکستان نے پہلی مرتبہ اپنی قومی آواز سُنی تھی۔
ریڈیو پاکستان ۱۳ اگست ۱۹۵۴ ء کی تاریخی رات رُو پذیر ہونے والی پاکستان کے قومی ترانے کی اس پہلی نشریاتی رُونمائی میں شریک اپنے ایک ایک کارکن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے ، اور ان سب افراد کو بھی جنہوں نے قومی ترانے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی، ریڈیو پاکستان



