spot_img
Friday, June 26, 2026
spot_img
پہلا صفحہتقریباتلاہور، کراچی سمیت مختلف شہروں میں یومِ عاشور کے جلوس بخیر و...

لاہور، کراچی سمیت مختلف شہروں میں یومِ عاشور کے جلوس بخیر و عافیت اختتام پذیر

کربلا میں امام حسین اور ان کے دوستوں کی بڑی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے آج پورے ملک میں یوم عاشور منایا جا رہا ہے۔ لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں یوم عاشور کے جلوس ختم ہو گئے ہیں۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور فضائی نگرانی بھی کی گئی۔ کئی شہروں میں فون سروس کام نہیں کر رہی تھی۔

لاہور

لاہور میں ہزاروں عزاداروں نے نثارحویلی سے کربلا گامے شاہ تک ایک جلوس نکالا۔ یہ جلوس روایتی راستے سے گزرتا ہوا کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوا۔

عزاداروں نے حضرت امام حسین اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔ جلوس کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، خواجہ سلمان رفیق، اور بلال یاسین نے گامے شاہ کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

عزاداروں کے لیے ٹھنڈے پانی سمیت دیگر سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ آئی جی پنجاب عبدالکریم، سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، اور سی ٹی او لاہور عبدالرحیم شیرازی نے بھی کنٹرول روم اور جلوس کے روٹ کا معائنہ کیا۔

یوم عاشور پر پنجاب میں تین درجاتی سیکیورٹی ماڈل کے تحت ہائی الرٹ نافذ رہا۔ اے آئی ٹیکنالوجی، ڈرونز، سیف سٹی کیمروں، اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کی گئی۔ لوگوں نے پنجاب حکومت کے انتظامات کو بہت اچھا قرار دیا۔

کراچی

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے شروع ہوا۔ یہ اپنے معمول کے راستوں پر چلتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر پر ختم ہوا۔ جلوس کے راستے کنٹینروں سے بند کر دیے گئے جبکہ جلوس کے راستوں اور اطراف میں موبائل فون سروس کام نہیں کر رہی تھی۔

نشتر پارک میں علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے مرکزی مجلس عزا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں نے کربلا کے میدان میں اسلام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں دیں۔ مجلس کے بعد، بوتراب اسکاؤٹس کی سربراہی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس شروع ہوا۔ لوگ نوحہ پڑھ رہے تھے، اپنے سینے پیٹ رہے تھے اور زنجیر زنی کر رہے تھے۔ علم و ذوالجناح کا جلوس ایم اے جناح روڈ پر پہنچا اور لوگوں نے تبت سینٹر کے مقام پر مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی کی اقتدا میں نماز ظہرین ادا کی۔ جلوس کے راستے میں لوگوں کے لیے پانی اور شربت کے انتظامات کیے گئے تھے۔ مرکزی جلوس ریڈیو پاکستان، جامع کلاتھ، لائٹ ہاؤس، بولٹن مارکیٹ سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر پر ختم ہوا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جلوس کے راستے اور اطراف میں موبائل فون سروس بند رہی۔

پیرمحل

یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس امام بارگاہ قصر ابی طالب میں پہنچ کر ختم ہوا۔

میاں چنوں

یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس کربلا پیروں شریف پہنچ کر ختم ہو گیا۔ شبیہہ ذوالجناح کے مرکزی جلوس کے ذمہ دار محمود اصغر شاہ نے تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ مرکزی ماتمی جلوس کے اختتام پر، بالائی منزل القائم پلازہ میں شام غریباں کی مجلس عزا شروع ہو گئی۔

تحصیل میاں چنوں میں عاشورہ کے ایک درجن سے زائد ماتمی جلوس نکلے تھے۔ چند جلوسوں کے سوا، تمام ماتمی جلوس ختم ہو گئے تھے۔

میلسی

یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس جو خادم شاہ سے شروع ہوا تھا، بابا نتھے شاہ پہنچ کر ختم ہو گیا۔ یہ جلوس خاص طور پر پرامن رہا۔ انجمن حسینہ سے نکلا ہوا ذوالجناح کا جلوس بھی روایتی راستے سے گزرتا ہوا ختم ہو گیا۔

ٹبہ سلطان پور، دوکوثہ، گڑھا موڑ اور چک ڈلیوبی سے نکلنے والے ماتمی جلوس بھی ختم ہو گئے۔

کبیروالا

یومِ عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ زینبیہ بھٹیانوالہ میں امن سے ختم ہوا۔ یہ جلوس صبح 8 بجے ککڑ ہٹہ روڈ سے شروع ہوا اور اپنے تئیں کیے گئے راستے پر چلتا رہا۔ یومِ عاشورہ کے موقع پر تحصیل بھر میں 36 جلوس نکلے۔

چنیوٹ

مرکزی جلوس اپنے راستوں پر چل رہا ہے، 100 من وزنی 8 سنہری تعزیے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے میدان ترکھاناں پہنچ گئے۔ 35 جلوس علم و ذوالجناح مرکزی جلوس میں شامل ہوکر میدان ترکھاناں پہنچے۔ 72 تابوتوں پر مشتمل رجوعہ کا مرکزی جلوس میدان کربلا پہنچ گیا۔ رجوعہ کے جلوس میں 65 شبیہ علم اور 14 شبیہ ذوالجناح شامل ہیں۔ پولیس کی بھاری تعداد تعینات کی گئی ہے جبکہ ڈرون کیمروں سے اجتماعات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

حیدرآباد

یوم عاشور کا مرکزی ماتمی جلوس، کربلا دان شاہ پر اختتام پذیر ہو گیا۔ صبح کے وقت، یہ جلوس قدم گاہ مولا علی سے شروع ہوا تھا۔ اس جلوس میں ہزاروں کی تعداد میں عزادار شامل تھے۔

لکی مروت/یوم عاشور جلوس

یوم عاشور کا ماتمی جلوس بخاری شاہ میں اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ جلوس آج صبح محلہ سیداں سے شروع ہوا تھا۔ اس دوران سیکیورٹی کے بہت سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے جلوس پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ ریسکیو 1122، محکمہ صحت، ٹی ایم اے، پیسکو سمیت تمام متعلقہ محکموں کے اہلکار بھی ڈیوٹی پر موجود تھے۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس