وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں کم از کم 164 افراد ہلاک اور 971 زخمی ہو گئے ہیں۔ امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
بدھ کے روز وینزویلا انتہائی طاقتور زلزلوں سے لرز اٹھا، جہاں چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے زلزلوں کے جھٹکوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے جمعرات کی صبح ہلاکتوں اور زخمیوں کے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان زلزلوں کے نتیجے میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 164 ہوگئی جب کہ سیکڑوں زخمی ہیں۔
زلزلوں کے جھٹکے نہ صرف پورے وینزویلا بلکہ خطے کے دیگر ممالک تک محسوس کیے گئے۔ برازیل کے ریاستی علاقے ایمیزون میں بھی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
امدادی کارکن بھاری مشینری اور برقی آلات کی مدد سے ملبے میں دبے افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دارالحکومت کاراکاس میں زلزلے کے دوران خوفزدہ شہری گھروں اور عمارتوں سے نکل کر سڑکوں پر آگئے۔
لا گوائیرا ریاست سے 3 بچوں کو زندہ نکالے جانے کی فوٹیج بھی سامنے آئی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بچے مٹی اور گرد سے اٹے ہوئے تھے تاہم زندہ تھے۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے لا گوائیرا ریاست کو ”آفت زدہ علاقہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ لا گوائیرا میں درجنوں عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں اور وہاں جانیں بچانے کے لیے وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا، جس کا مرکز دارالحکومت کراکس سے تقریباً 284 کلو میٹر دور کیریبین ساحل پر واقع مورون شہر کے مغرب میں تھا۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا کہ زلزلے کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور یہ آفت ملک کے بڑے حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔
وینزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے شہریوں کو خبردار کیا کہ ممکنہ آفٹر شاکس مزید تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے لوگ کھلے مقامات پر رہیں۔
ہزاروں افراد نے رات سڑکوں، پارکوں، پارکنگ ایریاز اور دیگر کھلے مقامات پر گزاری۔ حکام نے ساختی نقصان کا شکار عمارتوں میں واپس جانے سے بھی منع کر دیا۔
کراکس کی رہائشی 41 سالہ ماریہ کرسٹینا دیاز نے بتایا کہ انہیں خدشہ تھا کہ عمارتیں ان پر گر جائیں گی۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی والدہ اور بیٹی کے ساتھ کھلے مقام پر رات گزاری اور خوف کے باعث ایک لمحہ بھی سو نہ سکیں۔
ایک اور رہائشی ہیکٹر رِیچی نے بتایا کہ ابتدا میں زلزلے کے جھٹکے ہلکے تھے لیکن رفتہ رفتہ شدت اختیار کر گئے، جس کے بعد تمام لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر جمع ہو گئے۔
زلزلوں کے باعث دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں بجلی اور موبائل فون سروس متاثر ہوئی۔ قائم مقام صدر کے مطابق ملک کا مرکزی ہوائی اڈہ سائمن بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی زلزلے سے متاثر ہوا اور اسے بند کرنا پڑا۔
بعد ازاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے ایک رن وے میں دراڑ پڑ گئی ہے جس کے باعث وہاں طیاروں کی لینڈنگ مشکل ہو گئی ہے۔
زلزلوں کے باعث کراکس میں میٹرو سروس معطل کر دی گئی جب کہ گیس کی فراہمی بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند روز تک تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
جمعرات کی صبح ملک کے مختلف حصوں میں موبائل سگنلز کی کمی کے باعث لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش کرتے رہے۔
ڈیلسی روڈریگیز نے بدھ کی رات قوم سے خطاب میں ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ اسپتالوں اور گھروں کی تعمیر نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا خصوصی فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے امدادی کارروائیوں میں مدد کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین، فرانس اور اسپین سمیت متعدد ملکوں نے بھی وینزویلا سے اظہار ہمدردی کیا اور مدد کی پیشکش کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں لکھا کہ وینزویلا کے عظیم عوام کو ابھی جن دو بڑے زلزلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ دونوں انتہائی شدید نوعیت کے ہیں اور ان کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار، پُرعزم اور اہل ہے! میں نے اپنی حکومت کے تمام اداروں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ فوری کارروائی کے لیے تیار رہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں، طبی وسائل اور انسانی امداد وینزویلا بھیج رہا ہے۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی مارکو روبیو سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔
روڈریگیز نے ان تمام ممالک کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اظہار یکجہتی کیا اور امداد کی پیشکش کی۔ ان کے مطابق قطر، میکسیکو اور ایل سلواڈور پہلے ہی امدادی اور ریسکیو اہلکار روانہ کر چکے ہیں۔
مختلف ممالک کی جانب سے بھی امداد اور تعاون کی پیشکشیں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”ہماری مکمل یکجہتی اور دعائیں وینزویلا کے عوام کے ساتھ ہیں، مضبوط رہیں وینزویلا۔“




