ملک میں گندم کی دستیابی بہتر بنانے اور آٹے کے نرخ کم کرنے کے لیے درآمدی گندم کی ترسیل کا آغاز ہوگیا ہے۔ 51 ہزار میٹرک ٹن گندم سے لدا پہلا جہاز کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگیا، جبکہ اگلے تین ہفتوں کے دوران مزید چھ جہازوں کی آمد متوقع ہے۔
سماء کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق، 59 ہزار میٹرک ٹن گندم لے کر دوسرا جہاز 4 نومبر کو کراچی پہنچے گا۔ درآمدی گندم کی مجموعی ترسیل سات جہازوں کے ذریعے کی جائے گی، جن میں سے تین پنجاب، دو سندھ اور دو خیبر پختونخوا کو فراہم کیے جائیں گے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ درآمد کی گئی گندم فلور ملز کو 125 روپے فی کلو کے نرخ پر مہیا کی جائے گی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھ کر 148 روپے فی کلو کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔
ادھر آٹے کے نرخوں میں کمی لانے اور گندم کی قلت پر قابو پانے کے حوالے سے فلور ملز مالکان اور صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں کے مابین ملاقات بھی ہوئی۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اس ملاقات کو حوصلہ افزا اور نتیجہ خیز قرار دیا۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق، حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آٹے کی قیمت کم کرکے پہلے 160 روپے اور بعد ازاں 150 روپے فی کلو تک لانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق، درآمدی گندم کی آمد سے مقامی منڈی میں گندم کے نرخ نیچے آنے کا امکان ہے۔ تاہم، کراچی میں اس وقت آٹا 170 سے 200 روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہورہا ہے۔



