Monday, September 21, 2026
پہلا صفحہخبریںلاہور ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے کو محمد رضوان کو...

لاہور ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے کو محمد رضوان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر، محمد رضوان، کو این سی سی آئی اے کی ہراساں کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی جاری انکوائری میں پیش ہونے اور تعاون کرنے کا حکم دیا۔

پیر کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف دی گئی درخواست کو مسترد کیا اور 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ دیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کی جاری انکوائری کے خلاف دی گئی درخواست قابل قبول نہیں ہے، لیکن عدالت نے تحقیقاتی ادارے کو ہدایت کی کہ انکوائری قانون اور ضابطے کے مطابق مکمل ہو۔

عدالت نے محمد رضوان کو بھی این سی سی آئی اے کی جاری انکوائری میں پیش ہونے اور تفتیشی عمل میں تعاون کرنے کا حکم دیا۔

فیصلے نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی تحقیق ابھی شروعاتی ہے اور اس وقت عدالت کے پاس کوئی مسئلہ نہیں۔ عدالت نے بتایا کہ رضوان پر ابھی تک بدی نیت یا حدود سے زیادہ کاروائی کا ثبوت نہیں ملا۔

عدالت نے کہا کہ صرف کال اپ نوٹس ملنا کسی کو غلط ثابت نہیں کرتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے سے کہا کہ محمد رضوان کو غیر ضروری پریشانی نہ دے، اور کہا کہ تحقیق ختم ہونے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

اگر محمد رضوان کو تحقیق کے آخر نتائج پسند نہ آئیں، وہ عدالت میں شکایت کر سکتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ محمد رضوان اور امام الحق کو این سی سی آئی اے نے انگلینڈ کے دورے کے دوران لگے ڈریسنگ روم لیکس کی تحقیق میں بلایا تھا۔ دونوں سے انگلینڈ میں ٹریننگ اور میچ کے دوران ان کے رابطوں اور ملاقاتوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے دونوں کھلاڑیوں کے فون این سی سی آئی اے کو دیے، اور ان کا ٹیکنیکل اور فنی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں ڈریسنگ روم لیکس کے ساتھ ساتھ پیسے کے معاملات اور مشتبہ لین دین کی باتیں بھی دیکھیں جا رہی ہیں، لیکن رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ این سی سی آئی اے نے ابھی تک کسی الزام کو ثابت نہیں کیا۔

10 ستمبر کو دونوں کھلاڑی لاہور میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں آئے اور دو گھنٹے پوچھ گچھ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے تحریری جواب دینے کے لیے مزید وقت مانگا۔

یاد رکھیں کہ پاکستان اور انگلینڈ کی تین ٹیسٹ میچز کی سیریز 19 اگست کو لیڈز میں شروع ہوئی۔ پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے ہرا دیا۔ اس میچ میں امام الحق نے پہلی اننگ میں 42 رنز بنائے، جبکہ محمد رضوان نے 12 رنز کیے۔

دوسرا ٹیسٹ 27 اگست کو لارڈز میں ہوا، جہاں انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے ہرا کر سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل کی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد سات کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ سے ہٹا دیا، جن میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل تھے۔ پی سی بی نے اس فیصلے کی وجہ اس طرح بتائی کہ یہ سات کھلاڑیوں کو لارڈز ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد اسکواڈ سے ریلیز کیا گیا ہے۔ امام الحق اسی ٹیسٹ کے پہلے دن بائیں پنڈلی میں چوٹ کا شکار ہوئے تھے۔

تیسرے ٹیسٹ سے قبل پی سی بی نے ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو اسکواڈ سے ہٹا دیا، جبکہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو بیک روم اسٹاف میں شامل کر لیا گیا۔

بعد میں پی سی بی نے کھلاڑیوں کے نظم و ضبط اور طرز عمل سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد داخلی تادیبی انکوائری شروع کرنے کی تصدیق کی۔ اسی دوران ڈریسنگ روم سے مبینہ طور پر معلومات کے اخراج کا معاملہ سامنے آیا، جس کے بعد این سی سی آئی اے نے محمد رضوان اور امام الحق کو طلب کیا۔

این سی سی آئی اے نے رضوان اور امام الحق سے پوچھ گچھ کر چکے ہیں، اور ان کے موبائل فونز سمیت دیگر معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، حتمی نتائج کے بعد پی سی بی دونوں کھلاڑیوں کے بارے میں آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرے گا۔

یاد رہے کہ محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کی کارروائی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے درخواست مسترد کر دی اور انکوائری میں تعاون کی ہدایت کی۔ عدالت نے ساتھ ہی این سی سی آئی اے کو انکوائری قانون اور ضابطے کے مطابق مکمل کرنے اور رضوان کو غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس