Thursday, September 3, 2026
پہلا صفحہثقافتسہیل سمیر کی شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ کے متنازع مناظر پر کڑی...

سہیل سمیر کی شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ کے متنازع مناظر پر کڑی تنقید

پاکستانی اداکار سہیل سمیر کی شارٹ فلم ‘دوسری عورت’ کے کچھ سکانز نے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا کیا۔ یہ منظر بہت لوگوں نے دیکھا اور فوراً بحث کا باعث بن گیا۔

فلم میں سہیل سمیر کو اپنی ساتھی اداکارہ کے ساتھ بہت قریب دکھایا گیا، جہاں وہ بغل گریز اور بوسے دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ایسے مکالمے بھی ہیں جو کئی ناظرین نے نامناسب اور دوہرے معنی والے سمجھے۔

منظر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے اسے اداکاری اور کہانی کا حصہ کہا، لیکن زیادہ تر صارفین نے پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں بڑھتی بے باکی پر شدید تشویش ظاہر کی۔

سہیل سمیر مختلف کرداروں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ‘سنو چندا’ میں ان کی ہنسی مذاق والی اداکاری سے لے کر ‘ڈائن’ اور ‘عشق ہوا’ میں سنجیدہ کردار تک، انہوں نے کئی رنگ دکھائے۔ لیکن ‘دوسری عورت’ کے اس منظر نے ان کی اداکاری سے زیادہ، پاکستانی تفریحی مواد میں دکھائے جانے والے سکانز پر بحث شروع کی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتے کمنٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک گروپ ناظرین اس منظر سے کافی ناراض ہے۔ ایک صارف نے لکھا: “ایسی چیزوں کو آہستہ آہستہ معمول بنایا جا رہا ہے، اور اگر ابھی رکاوٹ نہ ڈالی گئی تو مستقبل میں پاکستانی ڈرامے بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔” اس خیال میں بنیادی تشویش یہ تھی کہ مسلسل ایسے مناظر معاشرے میں قابل قبول بن سکتے ہیں۔

ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں سہیل سمیر کے منظر کو بھارتی اداکار عمران ہاشمی کے انداز سے ملایا۔

ایک صارف نے شدید ناراضگی کے ساتھ سنسرشپ پر سوال اٹھایا اور کہا کہ شاید شرم و حیا کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ تبصرہ ایسے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے جو ایسے مناظر کو صرف اداکار کی ذمہ داری نہیں سمجھتے، بلکہ پروڈیوسر، مصنف، ہدایت کار اور نشر کرنے والے پلیٹ فارم کے مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہاں ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ مسئلہ صرف سہیل سمیر کے منظر پر نہیں، بلکہ اداکارہ، مصنف، ہدایت کار، پروڈیوسر اور چینل کے ساتھ پورا تخلیقی اور نشر کرنے والا نظام بھی شامل ہے۔ اس رائے کے مطابق، متنازع منظر کی ذمہ داری صرف اسکرین پر نظر آنے والے اداکار پر نہیں، بلکہ پوری ٹیم پر بھی دینی چاہیے۔

کچھ صارفین نے اس معاملے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ میں نے دیکھا کہ لوگوں کی رائے مختلف ہے۔ ایک کمنٹ میں کہا گیا کہ ایسی چیزوں کو کبھی بھی معمول کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے، کیونکہ پاکستانی معاشرے میں پہلے ہی بہت سے ایسے رویے موجود ہیں جنہیں مزید فروغ دینے کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر آنے والے تمام ردعمل منفی نہیں تھے۔ کچھ ناظرین اس مواد کو بدلتے ہوئے ڈرامائی رجحانات اور کہانی کی ضرورت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ میں نے سوشل میڈیا پر یہ تبصرے دیکھے اور سمجھا کہ کسی منظر کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت پوری کہانی، کرداروں اور فلم کے موضوع کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

‘دوسری عورت‘ کے اس منظر نے ایک اہم سوال دوبارہ سامنے لا دیا کہ پاکستانی ڈراموں اور ڈیجیٹل پروڈکشنز میں رومانوی مناظر کی حدود کہاں تک ہونی چاہئیں۔ میں نے سوچا کہ یہ سوال بہت اہم ہے۔ ایک طرف پروڈیوسرز اور فنکار نئی نسل کے ناظرین اور بدلتے ہوئے تفریحی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اب بھی اسکرین پر ایسے مناظر کو ناپسند کرتا ہے اور مقامی ثقافتی اقدار کے مطابق مواد پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یوں ‘دوسری عورت‘ کا منظر صرف ایک اداکاری کا منظر نہیں رہا، بلکہ اس نے پاکستانی تفریحی صنعت میں مواد کے معیار، سماجی اقدار، فنکاروں کی ذمہ داری اور نشر کرنے والے اداروں کی نگرانی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ میں نے اس منظر کو دیکھ کر سمجھا کہ حتمی طور پر ناظرین کی رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر آنے والے تبصرے واضح کرتے ہیں کہ پاکستانی ڈراموں اور شارٹ فلموں میں ایسے مناظر اب بھی عوامی سطح پر شدید بحث اور اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس