میرا آفس گل پلازہ سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ ہفتے کی رات بھی میں معمول کے مطابق آفس میں مصروف تھا کہ ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ باہر سے فائر بریگیڈ اور ایمبولنسز کی آوازیں سنائی دیں۔ ٹھیک گیارہ بجے بلڈنگ کی لائٹ چلی گئی۔ میں نیچے اترا تو صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ گل پلازہ آگ کی لپیٹ میں تھا اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
گل پلازہ کی عقبی سڑک ہمیشہ ہی شدید ٹریفک کی وجہ سے جام رہتی ہے لیکن اس پٹی پر چار بڑے شاپنگ سینٹرز ہونے کی وجہ سے عموماً ویک اینڈ پر غیرمعمولی رش ہوتا ہے۔ چند روز قبل ہی گل پلازہ کے عقبی دروازے کے سامنے واقع سٹی پلازہ میں بھی شام کے اوقات میں شدید آتشزدگی کا واقعہ پیش آچکا تھا لیکن کوئی جانی یا بڑا مالی نقصان نہیں ہوا۔
گل پلازہ کی ہسٹری دیکھیں تو یہ شاپنگ پلازہ 80 کی دہائی میں تعمیر ہوا اور امپورٹڈ آئٹمز کی وجہ سے عوام کی توجہ کا مرکز رہا۔ ابتدا میں گل پلازہ بچوں کے کھلونوں اور کراکری کی وجہ سے مشہور تھا۔ تب یہاں 500 کے لگ بھگ دکانیں اور بالائی منزلوں پر دفاتر اور پارکنگ تھی۔ پھر بیسمنٹ کو ملاکر دوسری منزل تک دکانیں ہی دکانیں بن گئیں جن کی تعداد 1200 بتائی گئی ہے۔ تیسری منزل پارکنگ کے لیے مخصوص تھی۔
گل پلازہ کی خصوصیت یہ تھی کہ مارسٹن روڈ (نیا نام وحیدمراد روڈ) پر اس کے پہلو میں بعد ازاں کئی کشادہ مالز بن گئے لیکن گل پلازہ کا رش برقرار رہا۔ گل پلازہ کے پہلو میں ہی غازیانی، سٹی اور سینٹرل مالز اس طرح نہ چل سکے۔ چند ماہ قبل گل پلازہ سے متصل پلاٹ پر ایک عالیشان مال گل تجارہ کی اوپننگ ہوئی جہاں دکانوں کی بکنگ بمشکل مکمل ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارسٹن روڈ کی مستقل مخدوش حالت اور اکثر و بیشتر گٹر بند ہونے کی وجہ سے سیوریج کے بدترین نظام کی وجہ سے یہ سڑک ندی کا منظر پیش کرتی ہے لیکن اس کے باوجود گل پلازہ کے رش کو نہ فرنٹ سے ایم اے جناح روڈ کا بے ہنگم ٹریفک متاثر کرسکا اور نہ عقب میں مارسٹن روڈ پر کھڑا گٹر کا پانی۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل اگست 2008 اور اگست 2016 میں بھی گل پلازہ میں آگ لگ چکی ہے اور دونوں بار وجہ شارٹ سرکٹ تھی۔ 2008 میں ایک گودام میں آتشزدگی کے واقعے میں مالی نقصان تو ہوا لیکن خوش قسمتی سے انسانی جانیں محفوظ رہیں۔
دوسرے واقعے میں جو 2016 میں پیش آیا۔ 25 دکانیں مکمل خاکستر ہوگئیں۔ یہ شدید نوعیت کا واقعہ تھا۔
اس بار گل پلازہ میں لگنے والی آگ انتہائی درجے کی تھی جس میں اب تک 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 30 سے زائد ذخمی رپورٹ ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ 50 سے زائد ایسے افراد رپورٹ ہوئے ہیں جن کی کوئی خیر خبر نہیں مل رہی۔

ایک فکشن رائٹر ہونے کی حیثیت میں اس طرح کے واقعات کی رپورٹنگ ذہن میں کئی طرح کے خیالات کو جنم دیتی ہے اور اس کی وجہ ہمارے معاشرے کا مشکوک کردار ہے جہاں کسی بھی سانحے کے پیچھے سازش کے عوامل کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ چند سال قبل سانحہ بولٹن مارکیٹ کو کون بھول سکا ہے۔ ایک واقعہ ابھی دو ماہ قبل بھی کچھی گلی بولٹن مارکیٹ میں ہی پیش آچکا ہے جس میں کافی مالی نقصان ہوا۔
اگرچہ گل پلازہ واقعے میں حکام کی جانب سے کسی قسم کی تخریب کاری کو خارج از امکان قرار دیا جاچکا ہے لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ گل پلازہ کے ساتھ ہی کسی بھی قسم کے ثبوت بھی جل کر خاکستر ہوچکے ہیں۔
اب ہم بھلے ہی یہ سوال اٹھائیں کہ آگ ایسے دن اور وقت ہی کیوں لگی جب کہ پلازہ میں رش کا ٹائم ختم ہوچکا تھا اور اگلے روز چھٹی تھی۔ شارٹ سرکٹ (یا آگ لگنے کی جو بھی وجہ رہی) دس بجے کے بعد ہوا جس مارکیٹ تقریباً بند ہوچکی تھی۔ یہ واقعہ اگر شام کے اوقات میں پیش آتا تو شاید ذیادہ بڑی قیامت ٹوٹتی؟ کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں لگ بھگ ایک ہزار کسٹمرز ہوتے ہیں۔

بہرحال سانحہ ہوگیا۔ قیمتی جانیں گئیں۔ کئی گھروں کے چراغ گل ہوگئے۔ پلازہ کے کروڑ پتی تاجر سڑک پر آگئے۔ شاپنگ کےلیے پلازہ میں موجود معصوم بھی اپنی جانوں سے گئے۔ کوئی پلازہ والوں کو قصوروار ٹھہرا رہا ہے کہ آگ بجھانے کے انتظامات نہیں تھے۔ کوئی شہری انتظامیہ کو کوسنے دے رہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے رہنما اپنی اپنی سیاست چمکانے پہنچے۔ کچھ دنوں بعد دکان داروں کا ازالہ بھی ہوجائے گا۔ انہیں جلد ہی ایک کثیر منزلہ عمارت میں نسبتاً بڑی دکان مل جائے گی۔ مال کا بندوبست بھی ہوجائے گا۔ سندھ حکومت نے سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ معاوضہ دینے کا اعلان بھی کردیا ہے لیکن کیا یہ سب اقدامات لواحقین اور متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں؟
یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دو روز سے ٹی وی اسکرین پر مسلسل اس سانحے کی کوریج دیکھ کر پورا پاکستان ڈپریشن میں ہے۔
سوچیں اگر یہ سانحہ پلازہ کو آتشزدگی کے ذریعے گراکر نئے سرے سے تعمیر کرکے اس کے فلور بڑھانے اور اسے ایک عالیشان پلازہ میں بدلنے کی سازش ثابت ہوئی تو ہم کراچی والوں کے دل پر کیا قیامت بیتے گیَ؟
ہماری یادداشتیں کمزور ہوچکی ہیں اور اس ڈپریشن سے بھی ہم کچھ دنوں بعد نکل آئیں گے لیکن مرنے والوں کی سسکیاں، آہ و بکا اور آگ کی لپٹوں میں گم چیخیں کبھی دم نہیں توڑیں گی۔



