خواتین پر تشدد ہمارے معاشرے کا ایک تلخ اور دیرینہ مسئلہ ہے، جس پر بات کرنا اکثر مشکل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے حساس اور جرات مندانہ موضوع پر فلم بنا کر پروڈیوسر اور ہدایتکارہ ہما شیخ نے نہ صرف فنکارانہ جرات کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ ایک مضبوط سماجی بیانیہ بھی پیش کیا ہے۔ ان کی فلم “آئٹم” خواتین کے عزم، خود انحصاری اور وقار کی ایک طاقتور علامت بن کر سامنے آئی ہے۔

فلم “آئٹم” کا پریمیئر کراچی کے مقامی سنیما میں منعقد ہوئی، جس میں شہر کی نمایاں سماجی، ثقافتی اور فنی شخصیات نے شرکت کی۔ ڈھائی گھنٹے پر مشتمل یہ فلم آغاز سے اختتام تک ناظرین کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے، یہاں تک کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلک جھپکنا بھی ممکن نہیں۔

یہ کہانی حقیقی زندگی کے واقعات پر مبنی ہے۔ فلم کی کہانی، اسکرین پلے اور مکالمے خود ہدایتکارہ ہما شیخ نے تحریر کیے، جنہیں اپنے عہد کے عظیم اور ایوارڈ یافتہ مصنف مرحوم اقبال رضوی نے باقاعدہ اسکرپٹ کی شکل دی۔ سنسنی خیز اسکرین پلے اور مؤثر مکالمے ہما شیخ کی تخلیقی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہیں۔
فلم کی مرکزی کہانی ایک نوجوان اور بے بس لڑکی ماہ نور (عالیہ علی) کے گرد گھومتی ہے، جو ایک معذور باپ کی بیٹی ہے اور تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہے، مگر سماجی ہراسانی، تنگ نظری اور کردار کشی کے باعث اپنی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ دفتر ہو یا محلہ، چپڑاسی سے لے کر باس تک، ہر جگہ اسے ذہنی اذیت، تمسخر اور ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے کی بے رحم بدنامی بالآخر اس کے باپ کی جان لے لیتی ہے، مگر آزمائشوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔




فلم میں ایک مضبوط موڑ اس وقت آتا ہے جب ایک اشتہاری ایجنسی سے وابستہ خاتون ماہ نور کو مشورہ دیتی ہے:
“کوئی شعبہ برا نہیں ہوتا، لوگوں کی سوچ اسے برا بنا دیتی ہے۔”
یہ جملہ فلم کے مرکزی پیغام کے طور پر ابھرتا ہے۔ ماہ نور جرات کے ساتھ ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھتی ہے، قلیل وقت میں کامیابی حاصل کرتی ہے، مگر معاشرے کے دوہرے معیار کا سامنا بھی کرتی ہے۔
عالیہ علی نے ماہ نور کے کردار کو غیر معمولی معیار، ذہانت اور جذباتی شدت کے ساتھ نبھایا ہے۔ ایک مظلوم، خاموش اور خوف زدہ لڑکی سے باوقار، خود اعتماد اور کامیاب عورت تک کے سفر کو انہوں نے اس مہارت سے پیش کیا ہے کہ ناظرین خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ رقص اور ماڈلنگ کے مناظر میں ان کی اداکاری ماضی کی معروف رقاصاؤں کی یاد دلاتی ہے۔




فلم میں فلم اسٹار مہک کا اہم معاون کردار عائمہ خان نے ادا کیا ہے۔ اگرچہ وہ انڈسٹری میں نئی ہیں، مگر ان کی شاندار اداکاری نے معاشرے کے دوہرے چہرے اور منافقت کو بخوبی اجاگر کیا ہے۔
فلم کے ہیرو آزاد خان پاکستان کے لیے ایک نئے مگر متاثر کن چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں، جنہوں نے سادہ مگر مؤثر اداکاری سے اپنی موجودگی منوائی۔ دیگر معاون کرداروں میں بہروز سبزواری، سنگیتا رضوی، مریم مرزا، عائمہ خان، عصمت زیدی، عدنان سعید، ملک رضا اور دیگر فنکار شامل ہیں، جو ہما شیخ کے بہترین انتخاب کا ثبوت ہیں۔
موسیقی فلم کا ایک اور مضبوط پہلو ہے۔ معروف موسیقار ایم۔ ارشد (لیجنڈری ایم۔ اشرف کے صاحبزادے) کی ترتیب دی ہوئی دل کو چھو لینے والی دھنیں دیر تک سماعتوں میں گونجتی رہتی ہیں۔ پس منظر موسیقی لیجنڈری اظہر حسین کی ہے، جسے علی جفو نے ٹریٹ اور ڈیزائن کیا ہے، جو فلم کے جذباتی اثر کو دوچند کر دیتی ہے۔
شاندار سینماٹوگرافی، مضبوط ہدایتکاری، بامعنی مکالمے اور سماجی شعور سے بھرپور کہانی “آئٹم” کو محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک طاقتور پیغام بناتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ فلم اتنی متاثر کن اور اہم ہے کہ وہ تھکے ہوئے فلم بینوں کو دوبارہ سینما گھروں کا رخ کرنے پر مجبور کر دے گی۔
“آئٹم” نہ صرف پاکستانی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ احساس بھی جگاتی ہے کہ خواتین کے وقار اور آزادی کی جدوجہد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسی فلم ہے جو دیکھنے کے بعد طویل عرصے تک دل و دماغ میں گونجتی رہتی ہے۔



