Saturday, October 3, 2026
پہلا صفحہخبریںحکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کے پہلے روز مطالبات کا تبادلہ، کل...

حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کے پہلے روز مطالبات کا تبادلہ، کل دوبارہ ملاقات پر اتفاق

وفاقی حکومت اور اپوزیشن نے آج کے مذاکرات کو کل تک ملتوی کر دیا ہے۔ پہلے دور کی ملاقات دوپہر 12 بجے ہوئی اور دوسرا دور جمعہ کی نماز کے بعد۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ بات چیت کل دوبارہ شروع کریں گے۔

اسلام آباد میں مذاکرات کئی گھنٹے چلیں، اور دونوں فریق کل دوپہر 2 بجے دوبارہ بیٹھنے پر راضی ہوئے۔

قومی اسمبلی کے ترجمان نے بتایا کہ اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال اور مختلف معاملات پر بات ہو رہی تھی۔ حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے ممبران نے اپنے نقطہ نظر سے ایک دوسرے کو بتایا اور گہرائی سے گفتگو ہوئی۔

حکومتی وفد نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر قومی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔

مذاکرات کے بعد، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پہلا دن اچھے انداز میں گزر گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایک دوسرے کے موقف کو بتایا اور امید ہے کہ سب کچھ بہتر ہو گا۔

سینٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی ممبران کا رویہ مناسب تھا۔ حکومتی وفد نے اپنی اور ہماری بات رکھی۔ کل پھر 2 بجے مذاکرات ہوں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کے کمرے میں جمعے کے روز مذاکرات ہوئے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے وفود نے اس میں حصہ لیا۔ پیپلزپارٹی کے ارکان بھی وہاں موجود تھے۔

حکومت کی طرف سے مذاکرات کی قیادت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے تھے۔ دیگر ارکان میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور رانا ثناء اللہ شامل تھے۔

پیپلزپارٹی کی طرف سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی مذاکرات میں شامل رہے۔

اپوزیشن کی ٹیم میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔

مذاکرات کا پہلا دور دوپہر 12 بجے شروع ہوا۔ اس دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے حالات اور امن و امان کی صورتحال پر حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کو بریف کیا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران کچھ معاملات پر تحریک انصاف اور حکومتی ٹیم کے درمیان گرمی بھی دیکھی گئی، لیکن بات چیت میں کوئی تعطل نہیں آیا اور مذاکرات جاری رہے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی روم میں چل رہے مذاکرات میں رانا ثناء اللہ اور راجا ناصر عباس کے درمیان عدالتی معاملات پر تبادلہ خیال کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ راجا ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی کے حکومتی اقدامات پر تنقید کی اور مایوسی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

حکومتی وفد نے سخت موقف اختیار کیا اور اس بات کو واضح کیا کہ احتجاج کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس نے کہا کہ لانگ مارچ یا اڈیالہ جیل پر حملے کی دھمکیاں دینا کوئی درست سیاسی رویہ نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ارکان نے یہ بھی کہا کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی لچک دکھانی ہوگی۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مداخلت کی اور دونوں فریقوں پر افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے اراکین نے مذاکرات کے دوران زیادہ تر خاموشی اختیار کی۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور نمازِ جمعہ کے بعد شروع ہوا۔ اس دوران دونوں طرف سے سفارشات کے تبادلے کے بعد فریقین اپنے اپنے ارکان کے ساتھ الگ الگ مشاورت میں مصروف ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنما اسپیکر چیمبر میں موجود رہے اور اپنے قائدین کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور زیرِ بحث معاملات سے آگاہ رہے۔ دوسری طرف حکومتی ارکان نے اسپیکر چیمبر کے کانفرنس روم میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور سفارشات پر مشاورت کی۔

مذاکرات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کیا اور مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے صحافیوں نے کمیٹی روم پہنچنے سے قبل سوال کیا کہ کیا وہ مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں اور کیا اس عمل کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔

اس پر اسپیکر نے جواب میں سورہ فاتحہ کی پہلی آیت ’الحمدللہ رب العالمین‘ پڑھی۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ وہ صرف سہولت کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ ان کا دفتر ہمیشہ مسائل کے حل اور بات چیت کے لیے کھلا رہے گا۔

ایاز صادق نے بتایا کہ عہدے اور دفاتر وقتی ہوتے ہیں، لیکن پارلیمان ہی وہ جگہ ہے جہاں مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے بعد، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت ملنے کے بعد وہ ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وزیراعظم کی دعوت پر ملاقات کا فیصلہ اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے 27 ستمبر کی تاریخ منظور کی گئی تھی، لیکن وہ تبدیل کر دی گئی۔ گزشتہ روز اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے 4 اکتوبر کا لانگ مارچ نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

دوسری جانب، وفاقی وزراء نے خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے بارے میں بات کی ہے، خصوصاً پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی کال کے بعد۔

گزشتہ روز ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں بھی اس معاملے پر غور کیا گیا تھا۔ اس اہم اجلاس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔

جمعے کے روز مذاکرات سے قبل وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں۔ وہ اچھی امید کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی بہتر ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی بجائے سیاسی رویہ اپنانا ضروری ہے۔ وہ مذاکرات میں ممکنہ حل کی طرف بڑھیں گے۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے ہر جگہ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ وہ پارلیمانی جماعتوں سے مذاکرات میں کبھی جھجک نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ آئیں، مسائل پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر بات چیت سے حل کریں اور اس موقع کو ضائع نہ کریں۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس