2 اکتوبر 1938 کو کراچی میں پیدا ہونے والے وحید مراد پاکستانی فلمی صنعت <کے ان فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے منفرد انداز، وجاہت اور رومانوی اداکاری سے کئی دہائیوں تک ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
وحید مراد نے اداکاری کے ساتھ ساتھ فلم سازی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی یادگار فلموں میں ارمان، ہیرا اور پتھر، عندلیب، دوراہا، انجمن اور احسان جیسی یادگار فلمیں شامل ہیں۔ خاص طور پر ارمان نے پاکستانی سینما میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور وحید مراد کو فلمی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا۔


ان کا لباس، ہیئر اسٹائل، مکالمہ ادا کرنے کا انداز اور رومانوی شخصیت نوجوان نسل کے لیے فیشن اور اسٹائل کی علامت بن گئی۔ اسی وجہ سے انہیں محبت سے چاکلیٹی ہیرو بھی کہا گیا۔


وحید مراد کا انتقال 23 نومبر 1983 کو ہوا، لیکن ان کی فلمیں، گیت اور کردار آج بھی پاکستانی سینما کے شائقین کے لیے زندہ یادیں ہیں۔ ان کی فنی میراث اس بات کی مثال ہے کہ ایک حقیقی فلم اسٹار وقت گزرنے کے باوجود اپنے ناظرین کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔


آج 2 اکتوبر کو ان کی 88ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستانی سینما کا یہ روشن ستارہ ایک بار پھر یاد آتا ہے۔ وحید مراد صرف ایک اداکار نہیں، پاکستانی فلمی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔




